Election Results in America and Israel Show Power Is Never Permanent عوامی فیصلے کے آگے اقتدار کا غرور بے معنی

امریکہ سے اسرائیل تک انتخابی نتائج کا سبق، اقتدار کا غرور دیرپا نہیں

تخت پلٹتے دیر نہیں لگتی، ایوانوں سے گھروں تک جواب دہی کا پیغام

از : جاوید جمال الدین

تاریخ کا اپنا ایک انداز ہے۔ وہ کبھی خاموشی سے حالات کا رخ بدلتی ہے اور کبھی ایسے واقعات سامنے لاتی ہے جو بڑے بڑے دعوے کرنے والوں، اقتدار کے نشے میں چور حکمرانوں اور خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے والوں کو آئینہ دکھا دیتے ہیں۔ کل تک جو لوگ دوسروں کو مٹانے، ان کی شناخت ختم کرنے اور دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے دعوے کر رہے ہوتے ہیں، وقت کا پہیہ گھومتے ہی خود سیاسی آزمائشوں اور عوامی فیصلوں کے سامنے کھڑے نظر آتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تختہ پلٹتے دیر نہیں لگتی، پانسہ بدلتے وقت نہیں لگتا اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ کسی ایک شخص یا طاقت کے تابع نہیں رہتا۔4 نومبر 2026ء کے سیاسی منظرنامے نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے۔ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی اور ایوانِ نمائندگان و سینیٹ میں اس کی پیش رفت نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سیاست اور ان کی حکومت کے لیے ایک نیا سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے انتخابی نتائج نے بھی یہ واضح کردیا ہے کہ وہاں سیاسی منظرنامہ کسی ایک شخصیت کے گرد ہمیشہ کے لیے منجمد نہیں رہ سکتا۔ جو قیادت کبھی اپنی طاقت، مقبولیت اور سیاسی اثرورسوخ پر ناز کرتی ہے، اسے بھی بالآخر عوامی فیصلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ محض دو ملکوں کے انتخابات کی کہانی نہیں، بلکہ جمہوریت، عوامی رائے اور اقتدار کی جواب دہی کا ایک اہم سبق ہے۔ امریکہ ہو یا اسرائیل، ایران ہو یا کوئی دوسرا ملک، کسی بھی حکمران کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عوام کی زندگیوں، ان کے مستقبل اور پوری دنیا کے امن کو اپنی سیاسی خواہشات اور اقتدار کی بقا کے تابع کردے۔

ٹرمپ کے بیانات اور امریکی سیاست کا بدلتا منظر

ڈونالڈ ٹرمپ اپنی جارحانہ سیاسی زبان، سخت بیانات اور متنازع دعوؤں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کے بیانات اکثر امریکہ کی داخلی سیاست سے نکل کر عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔ 19 اکتوبر 2026ء کو فرانس میں مہنگائی اور دیگر عوامی مسائل کے پس منظر میں ہونے والے احتجاج اور بدامنی پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ جملہ کہا کہ ’’پیرس بہت جلد ایک مسلم شہر بن جائے گا۔‘‘ اس بیان میں فرانس کی امیگریشن پالیسی اور صدر ایمانوئل میکرون کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ محض ایک سیاسی تبصرہ نہیں تھا، بلکہ اس میں مذہبی شناخت اور تارکینِ وطن کے حوالے سے ایک ایسا تاثر بھی موجود تھا جس پر سنجیدہ سوالات اٹھنا فطری ہیں۔کسی یورپی شہر کی آبادی، اس کی تہذیبی شناخت اور مذہبی تنوع کو خوف یا سیاسی مخالفت کا ہتھیار بنانا مناسب نہیں۔ فرانس سمیت ہر ملک میں شہریوں کے حقوق، قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی اہم ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر کسی پوری آبادی کو شک کی نگاہ سے دیکھنا نہ جمہوری اقدار سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی انسانی وقار سے۔اسی امریکی انتخابی منظرنامے میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی۔ مشی گن سے ڈاکٹر عبدالسلام السید نے سینیٹ کی نشست جیت کر امریکہ کی تقریباً ڈھائی سو سالہ تاریخ میں سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ نومبر 2026ء کے انتخاب میں کامیاب ہوئے ہیں اور ان کی مدتِ سینیٹ جنوری 2027ء میں شروع ہوگی۔ یہ کامیابی امریکی جمہوریت میں مذہبی اور سماجی تنوع کی نمائندگی کے حوالے سے اہم ہے۔ اسے کسی مذہب کی دوسرے مذہب پر فتح قرار دینے کے بجائے اس بات کی علامت سمجھنا چاہیے کہ جمہوری معاشرے میں کسی شہری کی صلاحیت، خدمات اور عوامی اعتماد کو اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ایک طرف پیرس کے بارے میں مسلمانوں کی شناخت کو سیاسی خوف کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف اسی مغربی جمہوریت میں ایک مسلمان امیدوار عوامی ووٹ کے ذریعے سینیٹ تک پہنچنے کا راستہ بناتا ہے۔ اس تضاد میں غوروفکر کا ایک پہلو ضرور موجود ہے۔ البتہ کسی انتخابی کامیابی کو کسی مخصوص سیاسی بیان کا قطعی جواب یا قدرت کی طرف سے کسی فرد کے خلاف فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ جمہوریت کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ مختلف عقائد، شناختوں اور نظریات رکھنے والے شہریوں کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا موقع دیتی ہے۔

اسرائیل میں بھی اقتدار کا مستقبل غیر یقینی

اسرائیل کے انتخابی نتائج نے بھی وہاں کی سیاست میں ایک نیا موڑ پیدا کیا ہے۔ دستیاب انتخابی اعدادوشمار کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہوئیں، جبکہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں مخالف اتحاد کو 48 نشستیں ملیں اور عرب جماعتوں کے حصے میں 19 نشستیں آئیں۔ 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت سازی کے لیے 61 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح کسی بھی سیاسی اتحاد کے لیے حکومت بنانے کی راہ آسان نہیں دکھائی دیتی۔نیتن یاہو نے طویل عرصے تک اسرائیلی سیاست پر اپنا اثر برقرار رکھا ہے۔ ان کی حکومت کی پالیسیاں، فلسطین کے مسئلے پر سخت رویہ، غزہ میں جنگ اور ایران کے ساتھ کشیدگی عالمی سیاست کا اہم موضوع رہے ہیں۔ لیکن انتخابی نتائج یہ بتاتے ہیں کہ اسرائیلی معاشرہ بھی یکساں سیاسی سوچ نہیں رکھتا۔ وہاں بھی عوام کے اندر اختلافات، بے اطمینانی اور تبدیلی کی خواہش موجود ہے۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان نتائج کے بعد اسرائیل کی پالیسیوں میں فوری اور بنیادی تبدیلی آجائے گی۔ تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کسی بھی قیادت کے لیے عوامی اعتماد برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا، خصوصاً اس وقت جب جنگ، سلامتی، معیشت اور انسانی حقوق جیسے معاملات مسلسل سوالات پیدا کر رہے ہوں۔

ایران، جنگ اور عام انسان کی قیمت

گزشتہ عرصے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور امریکہ کی پالیسیوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کیا ہے۔ جنگ کے حامی اکثر اسے قومی سلامتی، طاقت کے مظاہرے اور سیاسی برتری کا نام دیتے ہیں، لیکن اس کے نتائج عام انسان کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ میزائل، بمباری اور فوجی کارروائیوں کے درمیان سب سے زیادہ نقصان ان خاندانوں کا ہوتا ہے جن کا نہ جنگ شروع کرنے میں کوئی کردار ہوتا ہے اور نہ ہی اسے ختم کرنے کا اختیار۔کسی بھی ملک کے شہریوں کو ان کے حکمرانوں کی پالیسیوں کی سزا اجتماعی طور پر نہیں دی جانی چاہیے۔ ایران کے عوام ہوں، اسرائیل کے عام شہری ہوں، فلسطینی ہوں یا کسی دوسرے ملک کے باشندے، ان سب کو امن، تحفظ اور باعزت زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ جنگ کے نتیجے میں تباہ ہونے والے گھر، متاثر ہونے والے بچے، بے گھر خاندان اور معاشی بدحالی کا شکار عوام کسی سیاسی فتح کے جشن میں شریک نہیں ہوتے۔دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا اصل امتحان صرف جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے، اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور انسانی جانوں کو محفوظ رکھنے میں ہے۔ اگر کوئی حکومت اپنی طاقت کے نشے میں یہ سمجھنے لگے کہ وہ کسی ملک یا قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹا سکتی ہے تو اسے تاریخ کے ان واقعات پر نظر ڈالنی چاہیے جن میں بظاہر ناقابلِ تسخیر طاقتیں وقت کے ساتھ کمزور پڑ گئیں۔

اقتدار صرف ایوانوں میں نہیں، ہمارے گھروں اور محلوں میں بھی ہوتا ہے

اس پورے سیاسی منظرنامے کو دیکھتے ہوئے ایک اہم بات ذہن میں آتی ہے کہ اقتدار کا غرور صرف عالمی رہنماؤں تک محدود نہیں۔ اس کی چھوٹی چھوٹی شکلیں ہمارے معاشرے، اداروں، محلوں، رہائشی سوسائٹیوں اور گھروں میں بھی نظر آتی ہیں۔ کہیں کوئی سیاسی عہدے دار اپنے اختیار کو ذاتی جاگیر سمجھ لیتا ہے، کہیں کوئی سرکاری افسر عوامی خدمت کے بجائے انہیں اپنے سامنے بے بس سمجھنے لگتا ہے، کہیں کسی ادارے کا ذمہ دار اپنے منصب کو دوسروں پر رعب جمانے کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔رہائشی سوسائٹیوں میں بھی کبھی کبھی عہدے داروں کا رویہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے عمارت اور اس کے مکین ان کی ذاتی ملکیت ہوں۔ کسی محلے میں چند افراد خود کو تمام فیصلوں کا مجاز سمجھنے لگتے ہیں اور اختلاف کرنے والوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی صورت حال گھروں میں بھی پیدا ہوسکتی ہے، جہاں خاندان کا سربراہ اپنی ذمہ داری کو خدمت اور سرپرستی کے بجائے حکم چلانے کا اختیار سمجھ بیٹھتا ہے۔حالانکہ ہر منصب ایک امانت ہے۔ عہدہ خواہ ملک کے صدر کا ہو، وزیر کا، افسر کا، سوسائٹی کے عہدیدار کا یا خاندان کے سربراہ کا، اس کے ساتھ جواب دہی بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اختیار کا مقصد دوسروں کو دبانا نہیں بلکہ ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ جو شخص اپنے اختیار کو ظلم، ناانصافی اور ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ وقتی طور پر کامیاب دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اس کے رویے کے نتائج دیر یا سویر سامنے آتے ہیں۔ہم اکثر بڑے حکمرانوں کے زوال پر تبصرہ کرتے ہیں، مگر اپنے اردگرد ہونے والی ناانصافیوں کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ دوسروں کے ظلم پر آواز اٹھانا آسان ہے، اپنے رویے کا محاسبہ کرنا مشکل۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم خود اپنے چھوٹے سے دائرۂ اختیار میں کسی کے ساتھ ناانصافی تو نہیں کر رہے؟ کسی کی عزتِ نفس مجروح تو نہیں کررہے؟ کسی کمزور کی مجبوری سے فائدہ تو نہیں اٹھا رہے؟

اسلامی تعلیمات میں عدل اور جواب دہی کی اہمیت

اسلامی تعلیمات میں عدل، امانت اور جواب دہی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید میں عدل و انصاف کا حکم دیا گیا ہے اور کسی قوم یا گروہ سے دشمنی کو بھی انصاف سے انحراف کا جواز نہیں بنایا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انصاف صرف اپنے لوگوں، اپنے نظریے یا اپنے پسندیدہ افراد کے لیے نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے ہونا چاہیے۔رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ طاقت اور اختیار کو امانت سمجھا جائے۔ کسی کمزور پر ظلم، کسی کا حق مارنا، جھوٹ اور دھوکے سے فائدہ اٹھانا یا منصب کا ناجائز استعمال کرنا محض سماجی برائی نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی اعتبار سے بھی قابلِ مذمت عمل ہے۔اسی لیے جب کوئی طاقتور شخص اپنے غرور میں دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں کسی کا اقتدار مستقل نہیں۔ انسان اپنے منصب، دولت، شہرت اور اثرورسوخ کے ذریعے کچھ عرصے کے لیے دوسروں کو متاثر کرسکتا ہے، لیکن وہ وقت کے فیصلے اور اپنے اعمال کے نتائج سے ہمیشہ بچ نہیں سکتا۔یہاں ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ کسی سیاسی شکست یا انتخابی نتیجے کو براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی فرد کے خلاف عذاب یا سزا قرار دینا ہمارے اختیار میں نہیں۔ البتہ تاریخ کے واقعات سے عبرت حاصل کرنا، ظلم کے انجام پر غور کرنا اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ کب اور کس صورت میں آئے گی، اس کا علم اسی کو ہے؛ مگر دنیا کا اصول بھی یہی ہے کہ ناانصافی اور تکبر دیرپا نہیں ہوتے۔

عوامی فیصلے سے بڑا کوئی سیاسی دعویٰ نہیں

امریکہ کے انتخابات ہوں یا اسرائیل کی سیاسی صورتِ حال، ان واقعات کا ایک بنیادی سبق یہ ہے کہ عوامی رائے کو ہمیشہ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی رہنما کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کی پالیسیوں پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔ کوئی حکومت کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اسے عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت کتنے ہی بڑے دعوے کیوں نہ کرے، انتخابات میں اس کی مقبولیت کا اصل امتحان ہوتا ہے۔لیکن صرف انتخابی کامیابی یا ناکامی ہی کسی معاشرے کے مسائل کا حل نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو روزگار مل رہا ہے یا نہیں؟ مہنگائی پر قابو پایا جارہا ہے یا نہیں؟ تعلیم اور صحت کی سہولتیں عام آدمی کی دسترس میں ہیں یا نہیں؟ کمزور طبقوں کو انصاف مل رہا ہے یا نہیں؟ خواتین، بچوں، اقلیتوں اور محروم طبقات کے حقوق محفوظ ہیں یا نہیں؟حکومتوں کی کامیابی کا پیمانہ صرف سیاسی تقریریں، جلسے، طاقت کا مظاہرہ اور انتخابی نعرے نہیں ہونے چاہئیں۔ عوام کو ایسی حکومتیں درکار ہیں جو ان کی زندگی آسان بنائیں، ان کے مسائل سنیں اور انہیں بنیادی سہولتیں فراہم کریں۔ یہی بات دنیا کے ہر ملک اور ہر معاشرے پر لاگو ہوتی ہے۔

وقت کا تقاضا: دوسروں کے محاسبے سے پہلے اپنا محاسبہ

آج دنیا جس دور سے گزر رہی ہے، اس میں نفرت، مذہبی تعصب، جنگ اور سیاسی تقسیم کے بجائے مکالمے، انصاف اور انسانی ہمدردی کی ضرورت ہے۔ کسی ملک کی ترقی اس بات میں نہیں کہ وہ دوسرے ملک کو کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کتنی بہتر زندگی دے سکتا ہے۔ کسی رہنما کی عظمت اس کے مخالفین کو کچلنے میں نہیں بلکہ اختلاف رکھنے والوں کے حقوق کا احترام کرنے میں ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ کا پہیہ کسی ایک ملک، قوم یا مذہب کے لیے نہیں رکتا۔ آج جو اقتدار میں ہے، کل اسے اقتدار سے باہر بھی ہونا پڑ سکتا ہے۔ آج جو دوسروں کو کمزور سمجھ رہا ہے، کل خود عوامی سوالات اور حالات کے دباؤ کا سامنا کرسکتا ہے۔ اسی لیے تکبر کے بجائے عاجزی، جبر کے بجائے انصاف اور انتقام کے بجائے اصلاح کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔بات صرف ٹرمپ، نیتن یاہو یا کسی دوسرے عالمی رہنما کی نہیں۔ یہ سبق ہم سب کے لیے ہے۔ گھر میں، محلے میں، دفتر میں، ادارے میں اور معاشرے میں جہاں بھی ہمیں کوئی اختیار حاصل ہے، وہاں ہمیں اس کے استعمال میں انصاف اور دیانت داری سے کام لینا چاہیے۔ دوسروں سے جواب دہی کا مطالبہ کرنے سے پہلے اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔آخرکار نہ تخت مستقل ہیں، نہ عہدے، نہ اقتدار اور نہ ہی کسی کی سیاسی برتری۔ باقی رہ جاتے ہیں انسان کے اعمال، اس کا کردار اور وہ حقوق جو اس نے دوسروں کو دیے یا ان سے چھینے۔ وقت کبھی کبھی خاموش رہتا ہے، لیکن اس کی خاموشی کو بے بسی سمجھنا بڑی غلطی ہے۔ حالات بدلتے ہیں، عوامی فیصلے سامنے آتے ہیں اور تاریخ اپنا حساب ضرور کرتی ہے۔اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ تختہ پلٹ جاتا ہے، پانسہ بدل جاتا ہے اور جب وقت اپنا فیصلہ سناتا ہے تو بڑے بڑے دعوے اور اقتدار کے غرور بھی مٹی میں مل جاتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ انسان دوسروں کے زوال کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے کردار، اپنے اختیار اور اپنے اعمال کی اصلاح کرے۔

javedjamaluddin@gmail.com 

9867647741

0/Post a Comment/Comments