کرناٹک میں سماجی انصاف کا نامکمل ایجنڈا
اقلیتی حقوق، مساوی مواقع اور سیاسی شراکت داری کے تقاضے
از: عبدالحلیم منصور
کرناٹک کی سیاست میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی اہمیت انتخابات کے وقت کبھی نظرانداز نہیں کی جاتی۔ سیاسی جماعتیں ان کے ووٹ، سماجی اثر اور انتخابی حلقوں میں ان کے کردار سے بخوبی واقف ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ان سے رابطے کیے جاتے ہیں، مسائل حل کرنے کی یقین دہانیاں دی جاتی ہیں اور حقوق و تحفظ سے لے کر تعلیم، روزگار اور سیاسی نمائندگی تک متعدد وعدے کیے جاتے ہیں۔ لیکن انتخابات کے بعد بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن طبقات کی حمایت سے اقتدار حاصل کیا گیا، انہیں حکومتی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں کتنا حصہ ملا؟ کرناٹک میں کانگریس حکومت کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار کے بعد یہ سوال محض سیاسی مخالفت نہیں، بلکہ جمہوری جواب دہی کا تقاضا ہے۔

2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی میں اقلیتی ووٹوں، خصوصاً مسلمانوں کی حمایت نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ بی جے پی حکومت کے دوران حجاب تنازع، مذہبی تبدیلی سے متعلق قانون، مویشیوں کے تحفظ سے متعلق قانون اور فرقہ وارانہ کشیدگی جیسے معاملات نے اقلیتوں میں سیاسی تبدیلی کی خواہش کو تقویت دی۔ کانگریس نے خود کو آئین، مذہبی آزادی اور سماجی ہم آہنگی کی علم بردار جماعت کے طور پر پیش کیا اور انتخابی منشور میں بی جے پی دور کے متنازع قوانین کو اقتدار میں آنے کے ایک سال کے اندر منسوخ کرنے کا وعدہ کیا۔ تاہم اقتدار میں آنے کے بعد ان وعدوں پر عمل درآمد کی رفتار نے کئی سوالات پیدا کردیے ہیں۔
29 اکتوبر 2026 کو بنگلورو میں آرچ بشپ پیٹر ماچاڈو، کرناٹک راجیہ مسلم اوکّوٹا کے کنوینر محمد یحییٰ دامودی اور انسانی حقوق سے وابستہ نمائندوں نے تبدیلی مذہب سے متعلق 2022 کے قانون اور مویشیوں کے ذبیحہ و تحفظ سے متعلق 2020 کے قانون کی منسوخی کا مشترکہ مطالبہ کیا۔ انہوں نے نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی پر بھی زور دیا۔ اس مشترکہ مطالبے کی اہمیت یہ ہے کہ مسلم اور مسیحی قیادت نے مذہبی آزادی، اقلیتی تحفظ اور معاشی سرگرمیوں سے جڑے مسائل کو ایک ساتھ اٹھایا۔ اگرچہ حکومت نے حجاب سے متعلق سابقہ حکم واپس لے کر 13 مئی 2026 کو ایک اہم پیش رفت کی، لیکن اس ایک فیصلے کو اقلیتوں کے تمام مسائل کا حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مذہبی تبدیلی سے متعلق قانون کی منسوخی کا وعدہ بھی اب تک پورا نہیں ہوا۔ مذہب اختیار کرنے یا نہ کرنے کا حق فرد کے ضمیر اور آئینی آزادی سے تعلق رکھتا ہے۔ کسی بھی غیر قانونی جبر یا دھوکہ دہی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، لیکن مذہبی آزادی کو اجتماعی شبہے اور خوف کا سبب نہیں بنایا جاسکتا۔
اسی طرح مویشیوں کے تحفظ سے متعلق قانون کے اثرات صرف قصابوں تک محدود نہیں، بلکہ کسانوں، مویشیوں کے تاجروں، قریش برادری، گوشت فروشوں اور چمڑے کی صنعت سے وابستہ افراد کے روزگار پر بھی پڑتے ہیں۔ اسدالدین اویسی نے 2 نومبر کو اس قانون کی منسوخی میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے قریش برادری کے معاشی مسائل کی نشاندہی کی۔ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ انتخابی وعدے کے باوجود اس قانون کی منسوخی یا بنیادی ترمیم کیوں نہیں ہوسکی۔
مسلمانوں کے لیے 4 فیصد ریزرویشن کی بحالی بھی کانگریس کے اہم انتخابی وعدوں میں شامل تھی۔ بی جے پی حکومت نے 27 مارچ 2023 کو مسلمانوں کا 2B زمرہ ختم کردیا تھا۔ کانگریس نے اس فیصلے کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے بحالی کا وعدہ کیا، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد بھی یہ معاملہ حل نہیں ہوا۔ 16 مئی 2026 کو بنگلورو میں منعقدہ کرناٹک مسلم کنونشن نے 75 صفحات پر مشتمل رپورٹ ’’کانگریس حکومت کے وعدے، عمل درآمد میں خلا اور مطالبات‘‘ جاری کی۔ رپورٹ میں تعلیم اور فلاحی شعبوں میں بعض پیش رفتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ریزرویشن، روزگار، معاشی خودمختاری، مذہبی آزادی، تحفظ اور سیاسی نمائندگی کو نامکمل قرار دیا گیا۔ اس میں 2B زمرے کی بحالی اور ریزرویشن میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
ریزرویشن کا معاملہ آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، لیکن حکومت اپنے انتخابی وعدے کے بارے میں خاموش نہیں رہ سکتی۔ اسے قانونی رکاوٹوں کی وضاحت کرتے ہوئے قابل عمل لائحۂ عمل پیش کرنا ہوگا۔ محض وعدہ کرکے اقتدار حاصل کرنا اور بعد میں اس کی تکمیل کے لیے غیر معینہ مدت تک انتظار کروانا سیاسی جواب دہی کے منافی ہے۔
اسی تناظر میں کرناٹک کا سماجی و تعلیمی سروے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ 2025 میں کیے گئے سروے کی رپورٹ پسماندہ طبقات کے کمیشن نے 2026 میں حکومت کو پیش کی۔ ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی غیر مصدقہ تفصیلات میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 14 فیصد بتائی گئی، تاہم ان اعداد کو قطعی سرکاری حقیقت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ حکومت کو مکمل رپورٹ، سروے کے طریقۂ کار اور نتائج کی تفصیلات عام کرنی چاہئیں۔ اس سروے کی اہمیت صرف آبادی کے تناسب تک محدود نہیں، بلکہ اس کے نتائج ریزرویشن، تعلیم، روزگار اور فلاحی وسائل کی تقسیم پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔سماجی انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام طبقات پسماندگی کا تعین مستند تعلیمی، معاشی اور سماجی شواہد کی بنیاد پر ہو، نہ کہ سیاسی دباؤ یا انتخابی مفادات کے تحت۔
اقلیتی بہبود کے بجٹ کا معاملہ بھی محض اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی نتائج کا متقاضی ہے۔ کانگریس نے اقلیتی ترقی کے لیے 10,000 کروڑ روپے کے وعدے کو انتخابی منشور میں اہمیت دی تھی۔ لیکن بجٹ مختص کرنا اور اس کا مستحقین تک پہنچنا دو مختلف باتیں ہیں۔وظائف کی بروقت ادائیگی، تعلیمی اداروں کی ترقی، نوجوانوں کے لیے روزگار، ہنرمندی کی تربیت، خواتین کی معاشی خودمختاری اور اقلیتی ترقیاتی کارپوریشنوں کی اسکیموں کا مؤثر نفاذ اصل کامیابی کے پیمانے ہیں۔ حکومت کو مختص رقم، جاری شدہ فنڈ، اخراجات اور مستفید افراد کی تفصیلات باقاعدگی سے جاری کرنی چاہئیں۔ محض بڑے بجٹ کا اعلان اقلیتوں کی معاشی حالت بدلنے کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔
سیاسی نمائندگی کا سوال بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسمبلی، قانون ساز کونسل، بلدیاتی اداروں، ضلع پنچایتوں اور سرکاری بورڈوں میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی مناسب شرکت ضروری ہے۔ مسلم کنونشن کی رپورٹ نے مختلف سیاسی و انتظامی اداروں میں مسلم نمائندگی کی کمی کی نشاندہی کی، جبکہ مسیحی قیادت بھی مناسب نمائندگی اور تحفظ کے مطالبات کررہی ہے۔ کسی مسلمان یا مسیحی رہنما کو عہدہ دے دینا پوری برادری کی مؤثر نمائندگی کا ثبوت نہیں۔ اصل معیار یہ ہے کہ ان طبقات کے مسائل حکومتی فیصلوں میں کتنی جگہ پاتے ہیں اور ان کے نمائندے پالیسی سازی پر کتنا اثر رکھتے ہیں۔ اقلیتوں کو صرف انتخابی جلسوں میں اہمیت دینا اور حکومتی فیصلوں کے وقت ان کی ترجیحات کو نظرانداز کرنا حقیقی جمہوری شراکت داری نہیں۔
اس صورت حال میں ملی اور سماجی تنظیموں کی جواب دہی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ انتخابات سے پہلے متعدد تنظیمیں سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں کرتی ہیں، مطالبات پیش کرتی ہیں اور حمایت کے حصول میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ لیکن انتخابات کے بعد ان وعدوں کی تکمیل کا حساب کون لیتا ہے؟ کیا ان تنظیموں نے حکومت سے تحریری جواب طلب کیا؟ کیا انہوں نے عوام کو بتایا کہ کتنے مطالبات منظور ہوئے اور کتنے اب بھی زیر التوا ہیں؟ محض اجلاس، قراردادیں اور پریس کانفرنسیں اجتماعی نمائندگی کی کامیابی نہیں ہوسکتیں۔ جو تنظیمیں ملت کے نام پر سیاسی مذاکرات کرتی ہیں، ان پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور نتائج کا حساب عوام کو دیں۔
تاہم حکومت کی جواب دہی کو تنظیموں کی کمزوریوں کے پیچھے چھپایا نہیں جاسکتا۔ وعدے کانگریس نے کیے، اقتدار اسی کے پاس ہے اور فیصلے کرنے کا اختیار بھی حکومت ہی کے پاس ہے۔ اس لیے بنیادی ذمہ داری کانگریس حکومت کی ہے۔ دوسری طرف اقلیتی قیادت کو بھی انتخابی حمایت کو کسی ایک جماعت کے ساتھ مستقل وابستگی نہیں سمجھنا چاہیے۔ عوام کا حق ہے کہ وہ اپنی حمایت کے بدلے کارکردگی طلب کریں۔ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی سیاسی قوت کسی جماعت کی مستقل حمایت میں نہیں، بلکہ اپنے اجتماعی مفادات کے لیے منظم، اصولی اور مسلسل جدوجہد میں مضمر ہے۔
اس مقصد کے لیے ریاستی سطح پر ایک مستقل نگرانی کا نظام قائم ہونا چاہیے، جو اقلیتی حقوق، بجٹ، تعلیم، روزگار، تحفظ اور سیاسی نمائندگی سے متعلق حکومتی وعدوں کا جائزہ لے۔ ہر چھ ماہ بعد ایک دستاویزی رپورٹ جاری کی جائے جس میں مکمل ہونے والے وعدوں، زیر التوا فیصلوں اور تاخیر کی وجوہات درج ہوں۔ اس عمل میں مسلم، مسیحی، جین، سکھ، بدھ اور دیگر اقلیتی طبقات کے نمائندوں کے ساتھ قانونی و تعلیمی ماہرین اور نوجوانوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ اس سے حکومت کی جواب دہی کے ساتھ اقلیتی قیادت کی کارکردگی بھی قابل احتساب بنے گی۔
بالآخر کرناٹک کی سیاست میں اصل سوال یہ نہیں کہ کس جماعت نے اقلیتوں سے کتنے وعدے کیے، بلکہ یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان وعدوں پر کتنا عمل ہوا۔ کانگریس حکومت کو مذہبی آزادی، 2B ریزرویشن، سماجی سروے، اقلیتی بجٹ، روزگار اور سیاسی نمائندگی کے معاملات پر واضح اور قابل عمل فیصلے کرنے ہوں گے۔ اسی طرح ملی قیادت کو بھی انتخابی حمایت دلانے کے بعد خاموش رہنے کے بجائے مسلسل جواب طلبی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
جمہوریت میں ووٹ کسی جماعت کو غیر مشروط اختیار دینے کا نام نہیں، بلکہ عوام کی جانب سے سونپی گئی ذمہ داری ہے۔ اقلیتوں کو صرف اقتدار تک پہنچنے کی سیڑھی سمجھنے کے بجائے فیصلہ سازی میں شریک شہری تسلیم کرنا ہوگا۔ انتخابی حمایت اسی وقت حقیقی سیاسی قوت بنے گی جب وہ حقوق کے تحفظ، اقتدار میں مؤثر شرکت اور حکمرانوں سے مسلسل جواب دہی میں تبدیل ہوگی۔ یہی سماجی انصاف اور جمہوری شراکت داری کا اصل معیار ہے۔
haleemmansoor@gmail.com
Post a Comment