Yousuf Rahim Bidri Questions Remarks on Urdu اردو سے متعلق بیان پر بیدری کا ردِعمل

اردو کو غیر ملکی زبان قرار دینے پر یوسف رحیم بیدری کا اعتراض

پریانک کھرگے کے بیان پر افسوس، کرناٹک میں اردو کی تاریخی و ادبی حیثیت تسلیم کرنے کا مطالبہ

بیدر، 23 ستمبر (حقیقت ٹائمز)

سابق رکن کرناٹک اردو اکادمی محمد یوسف رحیم بیدری نے ریاستی وزیر داخلہ پریانک کھرگے کے اردو سے متعلق مبینہ بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردو کو کرناٹک سے باہر کی یا غیر ملکی زبان کے طور پر پیش کرنا اس زبان کی تاریخی، ادبی اور تہذیبی موجودگی کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔بیدری نے اپنے جاری کردہ صحافتی بیان میں کہا کہ حال ہی میں کرناٹک حکومت نے تُلو کو جنوبی کینرا اور اڈپی اضلاع میں دوسری اضافی انتظامی زبان کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی کابینہ نے 18 ستمبر کو اس فیصلے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے بعد کرناٹک میں اردو کو بھی سرکاری زبان کا درجہ دینے کا دیرینہ مطالبہ دوبارہ زیرِ بحث آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب صحافیوں نے پریانک کھرگے سے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے مطالبے کے بارے میں سوال کیا تو، ان کے مطابق، وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت سے کسی بھی مطالبے کا حق ہے، تاہم اردو دوسری ریاستوں اور دیگر ممالک میں بولی جانے والی زبان ہے۔ بیدری نے کہا کہ اس بیان پر گلبرگہ ڈویژن میں بحث جاری ہے اور ان کی خواہش ہے کہ اردو کی تاریخی حیثیت کے بارے میں موجود حقائق کو سامنے رکھا جائے۔

بیدری نے اردو اساتذہ، پروفیسروں، محققین، شعراء اور ادیبوں سے اپیل کی کہ وہ اردو کی تاریخ اور کرناٹک سے اس کے دیرینہ تعلق کے بارے میں عوامی نمائندوں کو مستند معلومات فراہم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ گلبرگہ، بیدر اور سری رنگاپٹن اردو کی ادبی اور صحافتی تاریخ کے اہم مراکز رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اردو کی ابتدائی نثری روایت میں حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودرازؒ کی کتاب معراج العاشقین کو اہم مقام حاصل ہے اور یہ کتاب گلبرگہ سے منسوب کی جاتی ہے۔ اسی طرح انہوں نے فخرالدین نظامی کی کدم راؤ پدم راؤ کو اردو کی ابتدائی مثنویوں میں شمار کرتے ہوئے بیدر کے ادبی پس منظر کی نشاندہی کی۔ تاہم اردو کی ’’پہلی‘‘ نثری کتاب یا ’’پہلی‘‘ مثنوی کے حوالے سے ادبی تاریخ میں مختلف آرا بھی پائی جاتی ہیں، اس لیے ان دعوؤں کو تحقیقی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔بیدری نے ٹیپو سلطان کے عہد میں سری رنگاپٹن سے فوجی اخبار کے اجرا کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس روایت سے کرناٹک کے اردو صحافت سے تاریخی تعلق کا اندازہ ہوتا ہے۔ بعض تاریخی ذرائع بھی ٹیپو سلطان کے دور میں فوجی اخبار کے اجرا کا ذکر کرتے ہیں، تاہم اسے اردو کا قطعی ’’پہلا اخبار‘‘ قرار دینے کے بارے میں بھی تاریخِ صحافت میں مختلف دعوے موجود ہیں۔ انہوں نے کرناٹک اردو اکادمی کے ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیر داخلہ پریانک کھرگے سے ملاقات کرکے اردو کی تاریخی، ادبی اور ریاستی حیثیت سے متعلق مستند معلومات ان کے سامنے رکھیں۔ بیدری نے وزیراعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار سے بھی اپیل کی کہ وہ اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے مطالبے پر غور کریں اور اس سلسلے میں مناسب فیصلہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ کرناٹک ایک کثیر لسانی ریاست ہے اور کسی ایک زبان کو انتظامی شناخت دینے کا فیصلہ دوسری زبانوں کے حقوق کے سوال کو بھی سامنے لاتا ہے۔ ان کے مطابق تُلو کو جنوبی کینرا اور اڈپی میں اضافی انتظامی زبان کا درجہ دیے جانے کے بعد اردو سے متعلق مطالبہ بھی دوبارہ سامنے آیا ہے۔ بیدری نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اردو کی تاریخ اور ہندوستانی زبانوں کے باہمی ارتقا سے متعلق حقائق کو سیاسی یا جذباتی بحث کے بجائے تحقیق اور مستند تاریخی حوالوں کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں معلومات تک رسائی آسان ہے، اس لیے کسی بھی زبان کے تاریخی پس منظر پر رائے قائم کرنے سے قبل مستند علمی اور تاریخی ذرائع سے استفادہ ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اردو سے متعلق مختلف مطالبات اور اس کی ریاست میں موجودگی کا جائزہ لیتی ہوئی متعلقہ ماہرینِ زبان، ادیبوں، اساتذہ اور محققین سے بھی رائے حاصل کرے۔

0/Post a Comment/Comments