BREAKING NEWS: Urdu’s Official Status: U.T. Khader Continues Government Talks اردو کے سرکاری مقام کی امید، یو۔ ٹی۔ قادر کی پیروی جاری

اردو کو بھی اس کا جائز مقام ملے گا، یو۔ ٹی۔ قادر کی امید

سرکاری زبان کا درجہ دلانے کے لیے حکومت سے مسلسل نمائندگی، 800 اردو اساتذہ کی بھرتی پر بھی زور

بنگلورو، 20 ستمبر (عبدالحلیم منصور)

کرناٹک میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلانے کے مطالبے نے تلو کو ساحلی اضلاع میں اضافی سرکاری زبان کا درجہ دیے جانے کے بعد ایک بار پھر توجہ حاصل کی ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود، حج و اوقاف اور صحت و خاندانی بہبود یو۔ ٹی۔ قادر نے کہا ہے کہ اردو کو بھی اس کا مناسب سرکاری لسانی مقام دلانے کے لیے حکومت کے سامنے نمائندگی کی جا رہی ہے اور وہ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ سمیت متعلقہ حکام سے بات چیت کرچکے ہیں۔ اردو اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یو۔ ٹی۔ قادر نے کہا کہ ساحلی اضلاع میں تلو کو اضافی سرکاری زبان کا درجہ ملنا ایک اہم پیش رفت ہے اور ان کی کوشش ہے کہ اردو کے معاملے میں بھی اسی طرح مثبت فیصلہ سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اردو ریاست میں ایک بڑی زبان ہے اور اسے اس کے جائز لسانی مقام سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔یو۔ ٹی۔ قادر کے مطابق انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار اور دیگر متعلقہ حکام سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور دیگر اقلیتی نمائندے اردو کو سرکاری درجہ دلانے کے لیے حکومت کے سامنے اپنی نمائندگی جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تلو کے معاملے میں ہونے والی پیش رفت سے اردو کے مطالبے کے لیے بھی ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

800 اردو اساتذہ کی بھرتی کے لیے کوشش

اردو اساتذہ کی بھرتی سے متعلق سوال پر یو۔ ٹی۔ قادر نے کہا کہ 312 اردو اساتذہ کی آسامیوں کو منظوری دی گئی تھی، تاہم بھرتی کے عمل سے متعلق معاملہ عدالت تک پہنچنے کے بعد متعلقہ نوٹیفکیشن فی الحال آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔حالیہ عدالتی کارروائی میں کرناٹک ہائی کورٹ نے 15 ہزار اساتذہ کی بھرتی سے متعلق عرضی کو براہِ راست سماعت کے لیے قبول کرنے کے بجائے درخواست گزاروں کو کرناٹک ریاستی انتظامی ٹریبونل سے رجوع کرنے کی آزادی دی ہے۔ اس معاملے میں اردو اور دیگر لسانی اقلیتی اسکولوں کے تدریسی عہدوں کو بھرتی کے عمل میں شامل نہ کیے جانے پر سوال اٹھایا گیا تھا۔یو۔ ٹی۔ قادر نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ، وزیر تعلیم اور محکمہ مالیات کے ذمہ داران سے اس معاملے پر بات کی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ اردو اساتذہ کی منظور شدہ ضرورت کو محدود تعداد تک نہ رکھا جائے بلکہ زیادہ سے زیادہ خالی آسامیوں کو بھرتی کے عمل میں شامل کیا جائے۔ان کے مطابق 800 اردو اساتذہ کی بھرتی کے لیے بھی حکومت سے نمائندگی کی جا رہی ہے، تاہم پہلے مرحلے میں 312 آسامیوں کے ذریعے بھرتی کے امکانات موجود ہیں۔ 800 اردو اور 200 مراٹھی اساتذہ کی بھرتی سے متعلق حکومت کی جانب سے یقین دہانی کی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں، اگرچہ حتمی عمل اور نوٹیفکیشن کا انتظار ہے ۔رکن قانون ساز کونسل بلقیس بانو سمیت دیگر اقلیتی نمائندے بھی 800 اردو اساتذہ کی مکمل بھرتی کے لیے جامع نوٹیفکیشن جاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یو۔ ٹی۔ قادر نے کہا کہ وہ اردو اساتذہ کے مطالبات کے ساتھ ہیں اور ان کے جائز حقوق کے لیے جاری کوششوں میں اپنا تعاون برقرار رکھیں گے۔

0/Post a Comment/Comments