Urdu Posts Missing Again in Lecturer Recruitment لیکچرار بھرتی میں اردو کی آسامیاں پھر غائب

پی یو کالج کی 814 لیکچرار بھرتی میں اردو شامل کیوں نہیں؟: افسر کوڈلی پیٹ

تمام مضامین کی خالی آسامیوں کا ضلع و کالج وار ریکارڈ جاری کرنے کا مطالبہ

بنگلورو، 21 ستمبر (حقیقت ٹائمز)

ایک بار پھر ریاست کے تعلیمی شعبے میں اردو کو نظر انداز کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔کرناٹک کے سرکاری پری یونیورسٹی کالجوں میں 814 لیکچرار کی براہِ راست بھرتی کے عمل میں اردو کی آسامیوں سے متعلق واضح معلومات سامنے نہ آنے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ریاستی جنرل سکریٹری افسر کوڈلی پیٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاست بھر میں خالی اردو لیکچرار آسامیوں کی تعداد، ان کی بھرتی میں شمولیت اور آئندہ کے لائحۂ عمل کے بارے میں واضح تفصیلات جاری کرے۔حکومت کی جانب سے سرکاری پری یونیورسٹی کالجوں میں 814 خالی لیکچرار عہدوں کو براہِ راست بھرتی کے ذریعے پُر کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ دستیاب اطلاع کے مطابق انتخابی عمل کرناٹک امتحانی اتھارٹی کے ذریعے انجام دیا جائے گا اور بھرتی کے لیے 13 مضامین کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں کنّڑ، انگریزی، تاریخ، معاشیات، سیاسیات، عمرانیات، جغرافیہ، کامرس، طبیعیات، کیمیا، ریاضی، حیاتیات اور کمپیوٹر سائنس شامل ہیں۔

افسر کوڈلی پیٹ نے سوال اٹھایا کہ 814 آسامیوں کی اس بھرتی میں اردو کو کیوں شامل نہیں کیا گیا، ریاست کے سرکاری پری یونیورسٹی کالجوں میں اردو لیکچرار کی کتنی آسامیاں خالی ہیں اور ان خالی آسامیوں میں سے کتنی کو موجودہ بھرتی کے لیے شمار کیا گیا ہے۔انہوں نے حکومت سے یہ بھی دریافت کیا کہ اگر اردو لیکچرار کی آسامیوں کو موجودہ بھرتی میں شامل نہیں کیا گیا ہے تو کیا اردو کے لیے الگ یا ضمنی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اردو لیکچرار کی خالی آسامیوں کی مضمون، ضلع اور کالج وار مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں، تاکہ بھرتی کے عمل میں موجود صورتحال واضح ہوسکے۔افسر کوڈلی پیٹ نے کہا کہ ریاست کے مختلف سرکاری کالجوں میں اردو کو مضمون کے طور پر پڑھنے والے طلبہ کی تعلیمی ضروریات کو بھی بھرتی کے منصوبے میں مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صرف موجودہ بھرتی کی آسامیوں کی تعداد بتانا کافی نہیں، بلکہ محکمہ تعلیم کو تمام مضامین میں موجود تدریسی خالی عہدوں کا جامع ریکارڈ جاری کرنا چاہیے۔انہوں نے حکومت کے 2026-27 کے بجٹ میں تقریباً 15,000 تدریسی آسامیوں کو پُر کرنے سے متعلق اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس عمل میں اردو اسکولوں اور کالجوں کی حقیقی ضرورت بھی شامل کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو کے لیے کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کیا جارہا، بلکہ طلبہ کی تعداد اور تعلیمی ضرورت کے مطابق اساتذہ کی دستیابی کو یقینی بنانے کی بات کی جارہی ہے۔

ریاستی سطح پر سرکاری پری یونیورسٹی کالجوں میں تدریسی عملے کی کمی کا معاملہ پہلے بھی سامنے آتا رہا ہے۔ 2026-27 کے تعلیمی سال کے لیے ہزاروں مہمان لیکچرار کی خدمات برقرار رکھنے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔افسر کوڈلی پیٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اردو سمیت تمام مضامین کی خالی تدریسی آسامیوں کا شفاف اور مضمون، ضلع و کالج وار ڈیٹا جاری کیا جائے اور اردو لیکچرار کی بھرتی کے بارے میں واضح فیصلہ کیا جائے۔ ان کے مطابق طلبہ کے لیے مناسب اساتذہ کی فراہمی اور تعلیمی مواقع میں برابری کو بھرتی کے عمل کا بنیادی حصہ بنایا جانا چاہیے۔

0/Post a Comment/Comments