BREAKING NEWS: Balkhees Banu Pushes 800 Urdu Teacher Vacancies Towards Approval بلقیس بانو کی کوششیں رنگ لائیں، 800 اردو اساتذہ کی آسامیوں کی راہ ہموار

اردو اساتذہ کی 800 آسامیوں کی بھرتی کی راہ ہموار، 312 آسامیوں کی تجویز پر نظرِ ثانی کی ہدایت

بلقیس بانو کی وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے ملاقات، چیف سکریٹری سے رپورٹ طلب؛ سرکاری اعلامیے کا انتظار

بنگلورو، 16 ستمبر (خصوصی رپورٹ: عبدالحلیم منصور)

کرناٹک میں اردو اساتذہ کی بھرتی کے دیرینہ مطالبے کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رکن قانون ساز کونسل بلقیس بانو نے آج وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے ملاقات کرکے اردو اساتذہ کی بھرتی کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی اور 312 کے بجائے پورے 800 اردو اساتذہ کی آسامیوں کو بھرتی کے عمل میں شامل کرنے کا مطالبہ پیش کیا۔ بلقیس بانو کے مطابق وزیر اعلیٰ نے معاملے کی فوری جانچ کے لیے چیف سکریٹری سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سابقہ فیصلے پر نظرثانی اور 800 اردو اساتذہ کی تقرری کے لیے اعلامیہ جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔

حقیقت ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بلقیس بانو نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے اس معاملے کو حل کرانے کے لیے مسلسل متعلقہ حکام سے رابطے میں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے ملاقات کے دوران اردو حلقوں کے جائز مطالبے اور موجودہ صورتحال سے انہیں واقف کرایا گیا۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری طور پر چیف سکریٹری سے رپورٹ طلب کی اور پورے 800 اردو اساتذہ کی تقرری کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرنے اور سابقہ 312 آسامیوں کے فیصلے پر نظرثانی کی ہدایت دی۔بلقیس بانو نے اس پیش رفت پر وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور متعلقہ حکام سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اردو میڈیم اسکولوں کی تعلیمی ضرورت اور طویل عرصے سے تقرری کے منتظر امیدواروں کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس معاملے کو آگے بڑھایا جائے گا۔

312 سے 800 آسامیوں تک معاملہ کیسے پہنچا؟

ریاست میں 15,000 اساتذہ کی بھرتی کے پہلے مرحلے میں اردو اساتذہ کی800 کے بجائے 312 آسامیوں کو شامل کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد اردو حلقوں اور امیدواروں میں تشویش پیدا ہوئی تھی۔ مختلف اضلاع میں اردو میڈیم اسکولوں کی ضرورت اور موجودہ تدریسی خلا کو دیکھتے ہوئے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اردو اساتذہ کی بھرتی کو صرف 312 آسامیوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ دستیاب خالی آسامیوں کے مطابق زیادہ تعداد میں تقرری کی جائے۔

اسی سلسلے میں وجئے پورہ، شیموگہ، میسورو اور ریاست کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافی ڈاکٹر نازیہ کوثر، دستگیر ملا اور دیگر نمائندوں کے وفد نے وزیر برائے شہری رسد و صارفین امور رضوان ارشد اور رکن قانون ساز کونسل بلقیس بانو سے آج ملاقات کی تھی۔ وفد نے انہیں یادداشت پیش کرتے ہوئے 312 آسامیوں کو ناکافی قرار دیا اور تقریباً 800 اردو اساتذہ کی بھرتی کا مطالبہ کیا تھا۔وفد کی نمائندگی پر رضوان ارشد اور بلقیس بانو نے معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھانے کے ساتھ وزیر تعلیم مدھو بنگارپا کو بھی اس سے واقف کرایا۔ اس کے بعد 312 آسامیوں سے متعلق فائل کو دوبارہ غور کے لیے طلب کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی، جس سے آسامیوں کی تعداد میں اضافے کی امید پیدا ہوئی۔

وزیر اعلیٰ سے براہِ راست ملاقات

معاملے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے بلقیس بانو نے آج وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے براہِ راست ملاقات کی۔ انہوں نے اردو حلقوں کی تشویش، اردو میڈیم اسکولوں کی ضرورت اور 800 اساتذہ کی تقرری کے مطالبے کو وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھا۔بلقیس بانو کے مطابق وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر چیف سکریٹری سے رپورٹ طلب کی اور سابقہ فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے 800 اردو اساتذہ کی تقرری کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت دی۔ تاہم اس سلسلے میں سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہونا ابھی باقی ہے۔

مسلم نمائندوں کی مشترکہ کوششیں

اردو اساتذہ کی بھرتی کے اس مطالبے کو آگے بڑھانے میں ریاست کے متعدد مسلم عوامی نمائندوں کی کوششیں شامل رہی ہیں۔  وزراء یو ٹی قادر، رضوان ارشد، ضمیر احمد خان کے علاوہ خصوصی طور پر قانون ساز کونسل کے چیئرمین سلیم احمد اور دیگر مسلم نمائندوں کی جدوجہد اور تعاون اس تحریک میں شامل رہا ۔

بلقیس بانو نے کہا کہ اردو اساتذہ کی بھرتی کا مسئلہ کسی ایک فرد یا تنظیم کا معاملہ نہیں بلکہ اردو میڈیم اسکولوں، طلبہ اور روزگار کے منتظر امیدواروں سے متعلق ایک اہم تعلیمی مسئلہ ہے۔مختلف سطحوں پر ہونے والی نمائندگی کے نتیجے میں یہ معاملہ حکومت کی اعلیٰ سطح تک پہنچا ہے۔

یو ٹی قادر کی مسلسل نمائندگی

اس معاملے میں وزیر یو ٹی قادر بھی پہلے ہی محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔ انہوں نے اردو اساتذہ کی زیادہ تعداد میں بھرتی، اردو میڈیم اسکولوں میں موجود ضرورت اور خالی آسامیوں کو پُر کرنے پر زور دیا ہے۔اسی طرح وزیر رضوان ارشد نے اردو اساتذہ کے نمائندوں کی جانب سے پیش کی گئی یادداشت کو متعلقہ حکام اور وزیر تعلیم کے سامنے رکھتے ہوئے معاملے پر کارروائی کے لیے نمائندگی کی۔

سرکاری اعلامیے کا انتظار

اردو اساتذہ کی بھرتی کے معاملے میں موجودہ پیش رفت کے بعد 800 آسامیوں کی منظوری اور تقرری کے لیے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم جب تک حکومت کی جانب سے باضابطہ منظوری اور سرکاری اعلامیہ جاری نہیں ہوتا، آسامیوں کی حتمی تعداد کو قطعی نہیں کہا جاسکتا۔اردو حلقوں اور امیدواروں کی نظریں اب حکومت کے آئندہ فیصلے اور سرکاری نوٹیفکیشن پر مرکوز ہیں۔ اگر 800 آسامیوں کا باضابطہ اعلامیہ جاری ہوتا ہے تو یہ 312 آسامیوں کی ابتدائی تجویز سے ایک اہم تبدیلی ہوگی اور ریاست کے اردو میڈیم اسکولوں میں تدریسی ضرورت کو پورا کرنے کی سمت ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔

0/Post a Comment/Comments