اردو و مراٹھی میڈیم اساتذہ کی بھرتی میں 800 اور 200 آسامیوں کی منظوری کا مطالبہ
جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور صالیڈارٹی یوتھ موومنٹ کی سلیم احمد سے ملاقات، 312 آسامیوں کی منظوری پر تشویش
بنگلورو، 23 ستمبر (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک میں 15 ہزار اساتذہ کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں اردو اور مراٹھی سمیت لسانی اقلیتوں کے امیدواروں کو مناسب نمائندگی نہ ملنے پر پیدا ہونے والی صورتحال کے درمیان جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور صالیڈارٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک نے حکومت سے اردو اور مراٹھی میڈیم اساتذہ کی مطلوبہ تعداد میں بھرتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس سلسلے میں ریاست بھر سے اردو اور مراٹھی میڈیم کے امیدوار بنگلورو پہنچے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور صالیڈارٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک کے وفد نے ودھان سودھا میں قانون ساز کونسل کے چیئرمین سلیم احمد سے ملاقات کرکے معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کی۔وفد کے مطابق امیدواروں اور مختلف حلقوں کے مطالبات کے بعد حکومت کی جانب سے 800 اردو اور 200 مراٹھی میڈیم اساتذہ کی آسامیوں پر تقرری کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جس کے بعد امیدواروں نے اپنا احتجاج مؤخر کرکے نئے نوٹیفکیشن کا انتظار کیا۔ تاہم اب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ صرف 312 آسامیوں پر تقرری کی منظوری دی گئی ہے، جس پر امیدواروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
میمورنڈم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاستی کابینہ میں 800 اردو اور 200 مراٹھی میڈیم اساتذہ کی آسامیوں کو پُر کرنے کی تجویز زیرِ غور تھی، تاہم محکمہ خزانہ کی جانب سے صرف 312 آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے۔ وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر دوبارہ غور کرتے ہوئے اصل تجویز کے مطابق آسامیوں کو منظور کیا جائے۔وفد کے مطابق ریاست میں 3,897 سرکاری اردو میڈیم اسکول ہیں، جہاں تقریباً 4,901 تدریسی آسامیاں خالی بتائی جاتی ہیں۔ تعلیمی سال 2025-26 میں اردو میڈیم میں تقریباً 3,04,206 طلبہ زیرِ تعلیم ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ وفد نے کہا کہ اس صورتِ حال میں 312 آسامیوں کی منظوری اساتذہ کی موجودہ کمی کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی اور اس کا اثر طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تقرری کے منتظر اہل امیدواروں پر بھی پڑے گا۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور صالیڈارٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک نے سلیم احمد سے اپیل کی کہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس معاملے کو وزیر اعلیٰ کے سامنے ترجیحی بنیاد پر اٹھایا جائے اور 800 اردو اور 200 مراٹھی میڈیم اساتذہ کی آسامیوں کی منظوری کے لیے حکومت پر زور دیا جائے۔سلیم احمد نے وفد کی بات سننے کے بعد یقین دلایا کہ وہ اس مسئلے کو وزیر اعلیٰ کے علم میں لائیں گے اور مناسب حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس موقع پر قانون ساز کونسل کے سابق چیئرمین بسوراج ہورٹی نے بھی امیدواروں کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی۔وفد نے ریاستی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود اور اقلیتی بہبود، وقف و حج یو۔ ٹی۔ قادر اور ریاستی وزیر رضوان ارشد سے بھی ملاقات کی اور اردو و مراٹھی میڈیم اساتذہ کی بھرتی سے متعلق مطالبات پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے ان کی حمایت طلب کی۔وفد نے رکن قانون ساز کونسل بلقیس بانو کی جانب سے اس معاملے میں کی گئی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ وفد کے مطابق بلقیس بانو نے ابتدا ہی سے امیدواروں کے مطالبات کی حمایت کی اور قانون ساز اجلاسوں میں اردو اساتذہ کی آسامیوں کا مسئلہ اٹھایا۔ وفد نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو بھی معاملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور 800 اردو اور 200 مراٹھی میڈیم اساتذہ کی تقرری کے مطالبے کی حمایت کی۔ملاقات کے دوران جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سراج ہنچگی، محمد مزمل حقی اور مرتضیٰ کاکبال، صالیڈارٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک کے ریاستی صدر ڈاکٹر نسیم احمد سمیت دیگر ذمہ داران موجود تھے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور صالیڈارٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک نے ریاست کی مختلف ملی، سماجی اور تعلیمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اردو اور مراٹھی میڈیم طلبہ کے تعلیمی مفادات اور اہل امیدواروں کے روزگار کے مسئلے پر آواز بلند کریں۔ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 800 اردو اور 200 مراٹھی میڈیم اساتذہ کی بھرتی سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے۔
Post a Comment