اردو کا بھی اپنا حق ہے، منوانے کے لیے منصوبہ بند حکمتِ عملی ضروری
دوسری سرکاری زبان کے مطالبے سے اردو کے تعلیمی و انتظامی حقوق تک، منظم جدوجہد وقت کی ضرورت
از : محمد اعظم شاہد،بنگلور
کرناٹک کے ساحلی اضلاع دکشن کنڑا (منگلور) اور اڈوپی میں یہاں کی مقامی زبان ’’تلو‘‘ کے بولنے والوں کی کثیرتعداد موجود ہے-ان اضلاع کے’تلو‘ زبان بولنے والوں اوران کے سیاسی نمائندوں نے حکومت کرناٹک سے مسلسل مطالبہ کرتے آئے تھے کہ اس زبان کو ریاستی زبان کنڑا کے ساتھ دوسری علاقائی زبان کا سرکاری درجہ دیا جائے-حکومت کرناٹک کے وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے منگلور شہر میں 18 ستمبرکو ریاستی کابینہ اجلاس منعقد کیا اور ریاست کے ساحلی علاقوں کی ترقی کیلئے نئے منصوبے منظور کئے- اس کابینہ اجلاس میں منگلور اور اڈوپی اضلاع میں کثرت سے بولی جانے والی زبان تلو کو ان اضلاع میں دوسری سرکاری زبان کے طورپر منظور کرنے کا اعلان کیا -اس اعلان سے پہلے سمجھا جارہا تھا اور قیاس بھی کیا جارہاتھا کہ وزیراعلیٰ ان علاقوں کے عوام کے ساتھ اپنی گہری یگانگت اور وابستگی کی دہائی دینے کیلئے کچھ نئے منصوبوں کا اعلان کرنے والے ہیں - تلو زبان کے حوالے سے اعلان کے بعد کہ منگلور اور اڈوپی اضلاع میں انتظامیہ میں اس زبان کے سرکاری استعمال کو یقینی بنانے عنقریب سرکاری احکامات جاری کئے جائیں گے- اس طرح تلو زبان بولنے والوں اور اسی علاقے کے عوامی نمائندوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا-
’تلو‘ زبان سے متعلق اعلان کے ساتھ ہی ایس ڈی پی آئی اوردیگر احباب نے حکومت کرناٹک سے یہ مدلل مطالبہ کیا ہے کہ ریاست میں’’ اردو‘‘ بولنے والوں کی تعداد کل ریاست کی آبادی میں تقریباً گیارہ فیصد ہے اورکنڑا کے بعد اردو سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے-ریاست میں چارہزار سے زائد اُردو اسکولس موجود ہیں،جہاں تقریباً چار لاکھ اسی ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں-حکومت کواردو زبان کو دوسری سرکاری زبان منظورکرنے سے متعلق ایس ڈی پی آئی کے مطالبہ میں مدلل طورپر اعداد وشمار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تلو کو دوسری سرکاری زبان ساحلی اضلاع میں منظورکرنا اس علاقے کے عوام کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کرنا ایک خوش آئند اقدام ہے - یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہمارے ملک کی لسانی تکثریت Linguistic diversity ہماری جمہوریت کا حسن ہے - حکومت کو چاہئے کہ اردو زبان بولنے والوں کی تعداد، اس زبان کا استعمال، تاریخی پس منظراور زبان کے بولنے والوں کے جذبات کے احترام کو خاطر میں لاکر مرحلہ وار اردو زبان کو دوسری زبان بنانے سے متعلق منصوبہ بند طور پر حکومت کی جانب سے اقدامات ضروری ہیں-سال 2011 کی مردم شماری کے اعداد وشمار کے مطابق اردو بولنے والوں کا تناسب 10.8 فیصد بتایا گیا ہے -(جوممکن ہے کہ اب گیارہ فیصد سے تجاویز کرگیا ہوگا) تیلگو بولنے والوں کا تناسب 5.8 فیصد، تمل زبان بولنے والوں کا تناسب 3.5 فیصد، مراٹھی 3.4 فیصد، ہندی 3.2 فیصد، تلو 2.6 فیصد، کوکنکی1.3 فیصد اور ملیالم بولنے والوں کا تناسب 1.3 فیصد بتایا گیا ہے- ایس ڈی پی آئی نے اپنے میمورنڈم میں بتایا ہے کہ مرحلہ وار اردو زبان کی انتظامی امور میں جیسے عرضیاں اور گذارشات خطوط سرکاری دفاتر میں قبول کرنے اور اہم عوامی خدمات سے متعلق اس زبان میں اطلاعات فراہم کرنے سے متعلق غوروفکر کیا جانا چاہئے-جس طرح پڑوسی ریاست تلنگانہ میں سرکاری زبان قوانین میں ترمیمات کے بعد اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے-اس سے رہنمائی اورمعلومات حاصل کئے جاسکتے ہیں - حکومت کو اپنی عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ ریاست کرناٹک کے اردو اسکولوں میں جو اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں، انہیں پُر کرنے اور اردو اسکولوں کے انتظامی ڈھانچے اورسہولیات میں سدھار لانے اور ریاست میں اردو زبان، تہذیب اور ادب کو تحقیق اورتراجم کے ذریعہ بھی ترقی اور ترویج کیلئے اقدامات ضروری ہیں-
حالیہ دنوں میں کرناٹک پردیش کانگریس کے صدر بی کے ہری پرساد نے اردو میڈیا کے ساتھ اپنی ملاقات اور تبادلۂ خیال کے دوران اردو کو دوسری زبان بنائے جانے سے متعلق کہا کہ حکومت اردو اور دیگر اقلیتی زبانوں کو ان کے جائز حقوق دلوانے سے متعلق بتدریج اقدامات کرے گی- پچھلے مہینوں میں حکومت کرناٹک کے محکمۂ تعلیمات نے پندرہ ہزار اساتذہ کی اسامیاں سرکاری اسکولوں میں بھرتی کرنے کے لئے اشتہارات جاری کئے تھے-مگر اردو میڈیم اسکولوں میں تقریباً دوہزار اساتذہ کی خالی اسامیاں ہیں-ریاست کے محکمۂ اسکول ایجوکیشن نے اردو دان طبقہ کے مطالبات پر غورکرتے ہوئے آٹھ سو اسامیاں بھرتی کرنے کا اشارہ دیا ہے-اور ابھی چند دن قبل کرناٹک میں سرکاری پری یونیورسٹی کالجوں(11ویں اور بارھویں جماعتوں کیلئے) میں تدریس کیلئے 814 لیکچررز کو راست طورپر تقرر کرنے کا اعلان ہوا ہے-اس میں اردو زبان بطور مضمون (سبجیکٹ)پڑھانے کیلئے ایک بھی اسامی Vacancy کا تذکرہ نہیں ہے -
اس طرح اردو کے حوالے سے حکومت کی جانب سے غفلت اورعدم توجہی کے کئی وجوہات رہے ہوں گے -مگر ان مسائل کی یکسوئی کیلئے منظم طورپر مطالبات اور حکمت عملی بھی ضروری ہے-حال ہی میں انجمن ترقی اردو ہند کرناٹک نے مسلم وزراء، ارکان اسمبلی وکونسل کی موجودگی میں ریاست کے وزیربنیادی وثانوی تعلیم (اسکول ایجوکیشن) کو کرناٹک میں اردو مدارس کی موجودہ صورتحال پر چارسو صفحات پر مشتمل اپنی جائزاتی رپورٹ پیش کی ہے-اس رپورٹ کو قبول کرتے ہوئے وزیرتعلیم نے اپنے اعلیٰ افسران کی موجودگی میں یہ تیقن دیا ہے کہ وہ اردو مدارس کے سدھار کیلئے مرحلہ وار اقدامات بروئے کار لائیں گے-
کرناٹک میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کے مطالبے پر ابھی سے چند تنگ نظرٹی وی کنڑا چینلس پر بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیا یہ مطالبہ اردو کا ضروری ہے- اگر ضروری ہے تو کس طرح یہ لاگو کیا جاسکتا ہے، وغیرہ وغیرہ- یہ مطالبہ اردو سے متعلق دیگر مطالبات کی طرح اس قدر آسان نہیں ہے، جیسا کہ سمجھا جاتا رہا ہے-اس کیلئے مجموعی طورپر اجتماعی اقدامات ضروری ہیں -جس طرح تلو زبان کے حامی عوامی نمائندوں نے حکومت کو مسلسل یہ باور کروانے کی کوشش کی تھی ،اسی طرح اردو بولنے والوں کی نمائندگی کرنے والے وزراء، ارکان ریاستی اسمبلی وکونسل بھی اپنا مطالبہ حکومت کے سامنے پیش کریں - اور اردو بولنے والوں کی تنظیمیں ، انجمنیں اور ادارے بھی منصوبہ بند طورپر حکمت عملی اپنائیں اوراپنے عوامی نمائندوں سے ربط پیدا کریں اوراپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کی کوشش کریں-کھلے عام مظاہرے ، مطالبات، جلسے اور جلوس سے احتراز کرتے ہوئے سرکاری اعداد وشمار کی روشنی میں اوردیگر ریاستوں میں جس طرح اردو کو دوسری سرکاری زبان بنایا گیا ہے-اس ضمن میں متعلقہ امور کا تفصیلی اور قانونی جواز کا جائزہ لینے کے بعد ہی حکمت عملی اختیارکریں-کسی بھی صورت میں موقع پرست ومفاد پرست فرقہ واریت کو موقع نہ ملے کہ اردو والوں کے مدلل مطالبے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر معاملہ کو پس پشت ڈالنے میں اپنا رول منفی طورپر ادا کریں -
Post a Comment