Jamaat-e-Islami Hind: A Test of Its Principles جماعتِ اسلامی ہند اور احتساب کا امتحان

اصول، شخصیات اور احتساب کے بیچ جماعتِ اسلامی ہند

مالی الزامات اور قیادت کے طرزِ عمل نے تنظیم کی شفافیت پر نئی بحث چھیڑ دی

از: مدثراحمد ، شیموگہ

9986437327

جماعتِ اسلامی ہند ملک کی قدیم دینی و دعوتی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ ایک زمانے میں اس تنظیم کی شناخت نظم و ضبط، دیانت، کردار سازی، دعوتِ دین اور اصول پسندی سے ہوتی تھی۔ جماعت کی رکنیت بھی آسان معاملہ نہیں سمجھی جاتی تھی اور اس کے ارکان سے بلند اخلاقی معیار کی توقع کی جاتی تھی۔مگر آج جماعتِ اسلامی ہند کے بارے میں خود اس کے حلقۂ اثر میں کئی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سب سے اہم سوال جماعت کے امیر سید سعادت اللہ حسینی کے حوالے سے سامنے آنے والے سنگین مالی الزامات کا ہے۔ ان پر  تعلیمی اداروں کے قیام کے تعلق سے کروڑوں روپے کے مبینہ مالی گھوٹالوں اور امت کے نام پر جمع کیے گئے پیسے کے غلط استعمال سے متعلق الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔ ایسے الزامات اگر سامنے آچکے ہیں تو جماعت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں خاموشی سے دبانے کے بجائے شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائے۔

اگر یہ الزامات غلط ہیں تو جماعت کو ثبوت کے ساتھ انہیں مسترد کرنا چاہیے، اور اگر درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ دار کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ الزام لگانے والے غلط ہیں۔ جو میڈیا تنقید کررہا ہے وہ گودی میڈیا ہے۔  بلکہ دینی تنظیم میں عہدہ احتساب سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔سوال یہ بھی ہے کہ جماعت کی مجلسِ شوریٰ اس معاملے پر خاموش کیوں ہے؟ ۔ اگر جماعت اپنے عام ارکان سے جواب دہی کا تقاضا کرتی ہے تو پھر اعلیٰ ترین عہدیدار وں کو چھوٹ کیوں ہے؟

دوسرا بڑا سوال جماعت کے بدلتے ہوئے مزاج کا ہے۔کیا دعوت، تربیت اور اصلاح کے مقابلے میں سیاست، جلسے، مہمات اور اسٹیج کی سرگرمیاں زیادہ نمایاں نہیں ہوگئی ہیں؟ اگر دین، امت اور خدمت کے نام پر عوام سے مالی تعاون لیا جاتا ہے تو اس کے استعمال میں مکمل شفافیت بھی لازمی ہونی چاہیے۔جماعت کے کارکن بھی اس سوال سے خود کو الگ نہیں کرسکتے کہ کیا وہ اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں یا شخصیات کے ساتھ؟ اگر قیادت سے سوال کرنا مشکل ہوجائے، شوریٰ خاموش رہے اور مالی معاملات پر واضح جواب نہ ملے تو پھر تنظیم کی شفافیت خود ایک سوال بن جاتی ہے۔جماعتِ اسلامی ہند کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ شخصیتوں کے بجائے اصول، احتساب اور شفافیت کو ترجیح دے۔ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو انہیں ثابت کرکے رد کیا جائے، اور اگر ان میں حقیقت ہے تو کسی بھی عہدے یا شخصیت کو کارروائی سے محفوظ نہ رکھا جائے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جماعتِ اسلامی کی بنیاد اس مقصد کے ساتھ رکھی تھی کہ مسلمان سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اپنی زندگی کو سنواریں، دین کی دعوت کو عام کریں اور غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ اس جماعت نے اپنے سفر کے دوران بڑے بڑے داعی، دانشور، اہلِ علم اور صالح افراد پیدا کیے، جنہوں نے مختلف میدانوں میں دین اور معاشرے کی خدمت انجام دی۔لیکن آج یہ سوال اٹھانا ضروری ہوگیا ہے کہ کیا جماعتِ اسلامی ہند میں وہی مزاج، وہی طریقۂ کار اور وہی مصلحت باقی رہ گئی ہے جو اس کے اصول و دستور میں بیان کی گئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جماعت کے متفقین اور ارکان کہیں نہ کہیں بھیڑ بن گئے ہیں اور قائدین چرواہے۔ یہ صورتِ حال اس وقت مزید تشویش ناک ہوجاتی ہے جب قائدین کے قول و فعل میں تضاد نظر آنے لگے۔ جن لوگوں کا کردار دوسروں کے لیے مثال بننا چاہیے تھا، اگر انہی پر مالی بے ضابطگیوں اور مفادات کے حصول کے الزامات عائد ہونے لگیں تو سوال اٹھنا فطری ہے۔

جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی کے حوالے سے بھی مسلسل سنگین الزامات سامنے آنے کی بات کی جارہی ہے، جن میں امت کے نام پر جمع کیے گئے کروڑوں روپے کے مبینہ غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات شامل ہیں۔ اگر یہ الزامات بے بنیاد ہیں تو جماعت کو واضح اور دستاویزی انداز میں ان کی تردید کرنی چاہیے، اور اگر ان میں حقیقت کا کوئی پہلو ہے تو غیر جانب دارانہ تحقیقات اور احتساب کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔محض الزامات سامنے آنے کے باوجود کسی اعلیٰ ذمہ دار کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا جماعت کی شفافیت کے حوالے سے سوالات ضرور پیدا کرتا ہے۔اگر سعادت اللہ حسینی واقعی جماعت کی ساکھ اور اعتماد کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو کیا انہیں تحقیقات مکمل ہونے تک اپنے عہدے سے الگ ہوکر ایک مثال قائم نہیں کرنی چاہیے؟ کیونکہ ایک دینی و دعوتی تنظیم کے سربراہ پر اٹھنے والے سوالات معمولی نہیں ہوتے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ کل معاملہ کسی قانونی ادارے یا عدالت تک پہنچ جائے اور پھر جماعتِ اسلامی ہند کے سربراہ کے حوالے سے ایسے مناظر دیکھنے کو ملیں جن کا تصور بھی جماعت کے وابستگان کے لیے تکلیف دہ ہو۔

مسئلہ صرف سعادت اللہ حسینی تک محدود نہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا قوم، امت اور جماعت کے نام پر کام کرنے والے بعض دیگر اعلیٰ عہدیداران پر بھی مفادات کے حصول اور امت کے استحصال کے سوالات نہیں اٹھ رہے؟ کیا جماعت میں دعوت کا دائرہ محدود اور سیاسی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع نہیں ہوتا جارہا؟اللہ کے دین کے قیام اور معاشرے کی اصلاح کا دعویٰ کرنے والوں کے لیے سب سے پہلی ضرورت خود احتسابی ہے۔ اگر جلسے، پروگرام، مہمات اور تقریریں ہی تنظیم کی پہچان بن جائیں اور عملی کردار پسِ پشت چلا جائے تو پھر یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ دعوت کہاں ہے اور اس کا اثر کہاں ہے؟اگر امت سے تعاون اور چندہ دین کے نام پر لیا جاتا ہے تو اس کے استعمال میں مکمل شفافیت بھی ضروری ہے۔ جلسے، اسٹیج اور مہمات عوامی اعتماد حاصل کرنے کا ذریعہ ضرور ہوسکتے ہیں، لیکن انہیں کبھی بھی عوامی اعتماد سے فائدہ اٹھانے کا وسیلہ نہیں بننا چاہیے۔

یہاں جماعتِ اسلامی ہند کی مجلسِ شوریٰ سے بھی سوال بنتا ہے کہ وہ ایسے معاملات میں خاموش کیوں ہے؟ کیا اس نے الزامات کی حقیقت جاننے کی کوشش کی؟ کیا متعلقہ ذمہ داران سے وضاحت طلب کی گئی؟ کیا مالی معاملات کی آزادانہ جانچ ہوئی؟ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو انہیں واضح طور پر مسترد کیوں نہیں کیا جاتا؟کیا مجلسِ شوریٰ داغ دار افراد کی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہی ہے، یا کسی مصلحت کے تحت خاموش ہے؟

کیا جماعتِ اسلامی ہند میں اب ایسے بے داغ افراد باقی نہیں رہے جو شخصیتوں سے بالاتر ہوکر اصول اور حق کی بات کرسکیں؟۔

مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے 

0/Post a Comment/Comments