نمک کے زیادہ استعمال میں کمی کے لیے کرناٹک کا ریاستی ایکشن پلان جاری: یو۔ ٹی۔ قادر
صحت مند غذائی عادات کے فروغ اور غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام کے لیے کثیر شعبہ جاتی اقدامات پر زور
بنگلورو، 22 ستمبر (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک حکومت نے عوام میں نمک کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو کم کرنے اور صحت مند غذائی عادات کو فروغ دینے کے مقصد سے ریاستی کثیر شعبہ جاتی ایکشن پلان برائے نمک میں کمی اور صحت مند غذائی عادات جاری کیا ہے۔ یہ منصوبہ منگل کو ودھان سودھا، بنگلورو میں منعقدہ تکنیکی مشاورتی گروپ کے اجلاس کے دوران ریاستی وزیر صحت و خاندانی بہبود یو۔ ٹی۔ قادر نے سابق وزیر دنیش گنڈو راؤ اور راجیہ سبھا رکن منصور علی خان کی موجودگی میں جاری کیا۔اجلاس میں غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام، نمک کے ضرورت سے زیادہ استعمال میں کمی اور ریاست بھر میں صحت مند غذائی ماحول کے فروغ کے لیے مختلف محکموں اور اداروں کے درمیان مربوط کارروائی کو مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ماہرین کے مطابق غیر صحت بخش غذا غیر متعدی بیماریوں کے ایسے خطرات میں شامل ہے جن میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ نمک کا زیادہ استعمال بلند فشارِ خون سے وابستہ ہے اور فالج سمیت دل اور خون کی نالیوں سے متعلق بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔ دستیاب تخمینوں کے مطابق ہندوستان میں روزانہ فی فرد تقریباً 8 سے 11 گرام نمک استعمال کیا جاتا ہے، جو عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے تجویز کردہ روزانہ 5 گرام سے کم مقدار کے تقریباً دوگنا ہے۔

یو۔ ٹی۔ قادر نے کہا کہ حکومت صحت مند غذا کے فروغ اور غذائی خطرات میں کمی کے ذریعے غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے صحت مند غذائی عادات کے فروغ کے لیے مختلف سرکاری محکموں کو شامل کرتے ہوئے ایک ریاستی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے اور مربوط و مستقل اقدامات کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔تکنیکی مشاورتی گروپ ڈاکٹر بھگوان بی۔ سی، وائس چانسلر راجیو گاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی صدارت میں تشکیل دیا گیا ہے۔ اس میں محکمہ صحت و خاندانی بہبود، شری جے دیوا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر سائنسز اینڈ ریسرچ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز، تعلیمی و غذائی اداروں اور صحتِ عامہ سے وابستہ مختلف تنظیموں کے ماہرین اور نمائندے شامل ہیں۔ریاستی ایکشن پلان کا مقصد 2030 تک عوام کی مجموعی نمک کے استعمال کی مقدار میں 30 فیصد کمی کے قومی عالمی ہدف میں اپنا حصہ ادا کرنا ہے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے تجویز کردہ روزانہ 5 گرام سے کم نمک کے استعمال کی طرف پیش رفت کو بھی فروغ دینا ہے۔منصوبے میں نمک کے استعمال کو تین اہم شعبوں میں تقسیم کرکے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں: گھریلو سطح پر نمک کا استعمال، گھر سے باہر کھائی جانے والی غذا اور تیار شدہ و پیک شدہ غذائیں۔ اس کے تحت کھانے میں اضافی نمک کے استعمال میں کمی، صحت مند غذائی انتخاب کی حوصلہ افزائی، تیار شدہ اور پیک شدہ غذاؤں میں نمک کی مقدار کم کرنے، صحت کے نظام کے ذریعے غذائی مشاورت کو مضبوط بنانے اور پوٹاشیم سے افزودہ کم سوڈیم والے نمک سے متعلق تحقیق و شواہد کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔کرناٹک میں پہلے سے جاری بعض اقدامات کو بھی اس ایکشن پلان سے مربوط کیا گیا ہے، جن میں پردھان منتری پوشن اسکیم کے تحت نمک میں کمی سے متعلق اقدامات، گرہ آروگیا پروگرام کے ذریعے غذائی مشاورت اور غیر متعدی بیماریوں کے قومی پروگرام کے تحت غذائی خطرات سے متعلق مشاورت شامل ہے۔

اجلاس میں شری جے دیوا کارڈیو ویسکیولر ہیلتھ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر دنیشا بی نے نمک میں کمی اور صحت مند غذا سے متعلق تکنیکی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر گنیش کامتھ نے ریاستی ایکشن پلان کی ترجیحات، مقاصد اور مختلف شعبوں میں مجوزہ اقدامات کی تفصیلات پیش کیں۔اجلاس میں محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے ڈاکٹر رگھونندن، راجیو گاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈاکٹر امرت کدم، حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنٹیفک ایڈوائزر کے مشاورتی گروپ کے رکن ڈاکٹر یو۔ ایس۔ وشال راؤ، ریزولو ٹو سیو لائیوز کے ڈاکٹر سید عمران فاروق اور ڈاکٹر منیکا شرما، وژن فار سوشل ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر امیت کارنک سمیت دیگر ماہرین اور نمائندے موجود تھے۔ایکشن پلان کی تیاری میں سرکاری محکموں، تعلیمی اداروں، صحتِ عامہ کے ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں اور سماجی تنظیموں نے حصہ لیا ہے۔ اس سلسلے میں ریزولو ٹو سیو لائیوز اور وژن فار سوشل ڈیولپمنٹ کی جانب سے تکنیکی تعاون فراہم کیا گیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ مختلف محکموں اور موجودہ پروگراموں کو باہم مربوط کرکے ریاست میں صحت مند غذائی عادات اور بہتر غذائی ماحول کو فروغ دینے کے لیے ایک کثیر شعبہ جاتی نظام قائم کیا جائے گا۔
Post a Comment