After Vande Mataram Row, U.T. Khader Gives Minority Artisans’ Fair a New Direction وندے ماترم پر مرکز سے اختلاف، اقلیتی میلے کا رخ بدلا

وندے ماترم پر مرکز سے اختلاف کے بعد ’بھارت پروا‘ کا نیا ریاستی روپ

کرناٹک پروا-2026 کے تحت یو۔ ٹی۔ قادر کی نگرانی میں اقلیتی دستکاروں کے لیے بڑا پلیٹ فارم

بنگلورو، 22 ستمبر (خصوصی رپورٹ: عبدالحلیم منصور)

وندے ماترم کی ادائیگی کے طریقۂ کار پر مرکز اور کرناٹک حکومت کے درمیان جاری اختلاف نے اقلیتی دستکاروں اور ہنرمندوں کے لیے مجوزہ ایک بڑے پروگرام کی سمت بھی تبدیل کردی ہے۔ مرکزی وزارتِ اقلیتی امور کے اشتراک سے ’’بھارت پروا‘‘ کے نام سے منعقد ہونے والا پروگرام اب ریاستی سطح پر ’’کرناٹک پروا-2026‘‘ کے نام سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی میں وزیر اقلیتی بہبود، حج و اوقاف اور صحت و خاندانی بہبود یو۔ ٹی۔ قادر کا کردار اہم رہا ۔دستیاب معلومات کے مطابق ابتدائی منصوبے میں مرکزی وزارتِ اقلیتی امور کے اشتراک سے قومی سطح پر دستکاروں کی نمائش اور ثقافتی پروگرام منعقد کیا جانا تھا، تاہم وندے ماترم کی مکمل ادائیگی کے معاملے پر مرکز اور ریاست کے درمیان اختلاف کے بعد مرکزی اشتراک میں یہ پروگرام آگے نہیں بڑھ سکا۔ اس کے بعد ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود نے اسی پروگرام کو نئی شناخت اور وسیع دائرۂ کار کے ساتھ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

یو۔ ٹی۔ قادر نے اس معاملے کو ریاست کے وقار سے جوڑتے ہوئے، مرکزی اشتراک میں پروگرام آگے نہ بڑھنے کے باوجود اسے منسوخ ہونے دینے کے بجائے ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے ذریعے مقررہ تاریخ اور مقام پر بڑے پیمانے پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔جس پر تقریباً چار کروڑ روپے خرچ ہونگے ۔اب محکمہ کی جانب سے اس کی تیاریوں کو تیز کردیا گیا ہے اور پروگرام کو محض متبادل انتظام کے طور پر نہیں بلکہ اقلیتی دستکاروں، ہنرمندوں، چھوٹے کاروباری افراد اور روایتی صنعتوں کے لیے ایک جامع تجارتی و ثقافتی پلیٹ فارم کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل یو۔ ٹی۔ قادر نے 27 اگست کو محکمہ اقلیتی بہبود کے اجلاس کے بعد مرکزی وزارتِ اقلیتی امور کے اشتراک سے قومی سطح کی دستکار نمائش اور ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے خود امدادی گروپوں اور دستکاروں کو اپنی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کا موقع دینے کے ساتھ ثقافتی سرگرمیوں، مباحثوں اور غذائی شعبے کو بھی شامل کرنے کی بات کہی گئی تھی۔

وندے ماترم تنازع اور ’بھارت پروا‘ کی سمت میں تبدیلی

’’بھارت پروا‘‘ سے ’’کرناٹک پروا‘‘ تک کی یہ تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ریاستی حکومت نے 8 ستمبر کے حکم کے تحت عام ریاستی سرکاری پروگراموں میں وندے ماترم کے پہلے دو بندوں کی ادائیگی کا انتظام کیا ہے، جبکہ صدر، نائب صدر، وزیر اعظم یا گورنر کی موجودگی والے پروگراموں میں مکمل نغمے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کے برعکس مرکزی سطح پر جاری رہنما اصولوں میں مکمل سرکاری نسخے کی ادائیگی سے متعلق ہدایات موجود ہیں۔ اس اختلاف پر کرناٹک میں سیاسی بحث کے ساتھ قانونی کارروائی بھی سامنے آئی ہے۔یو۔ ٹی۔ قادر نے بھی واضح کیا ہے کہ ریاستی پروگراموں میں دو بندوں کی ادائیگی حکومت کے جاری کردہ حکم کے مطابق ہوگی ۔اسی تنازع کے پس منظر میں مرکز کی جانب سے مکمل وندے ماترم کی شرط پر اختلاف پیدا ہوا اور مرکزی اشتراک میں پروگرام آگے نہیں بڑھ سکا۔ ریاستی سطح پر اس فیصلے کو قبول کرنے کے بجائے یو۔ ٹی۔ قادر نے محکمہ اقلیتی بہبود کے ذریعے اسی تاریخ اور مقام پر پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے ایک بڑے عوامی، تجارتی اور ثقافتی میلے میں تبدیل کرنے کی تیاری شروع کی۔

یو۔ ٹی۔ قادر کی پہل، پروگرام کو نئی شناخت

یو۔ ٹی۔ قادر کی نگرانی میں محکمہ اقلیتی بہبود اب ’’کرناٹک پروا-2026‘‘ کو محض پانچ روزہ خرید و فروخت تک محدود رکھنے کے بجائے دستکاروں کو نئے خریداروں، بازاروں اور کاروباری مواقع سے جوڑنے کے پلیٹ فارم کے طور پر تیار کر رہا ہے۔محکمہ کی جانب سے پروگرام میں آن‌ لائن تجارت، آن‌ لائن تشہیر، جدید کاروباری طریقوں، بازار تک رسائی اور کاروباری روابط سے متعلق تربیتی نشستیں اور مذاکرات بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ روایتی ہنر رکھنے والے افراد کو بدلتی ہوئی تجارتی ضروریات سے ہم آہنگ ہونے کے مواقع مل سکیں۔یہی وہ پہلو ہے جو ’’کرناٹک پروا‘‘ کو عام دستکاری میلے سے مختلف بناتا ہے۔ مقصد صرف مصنوعات کی نمائش نہیں بلکہ دستکار کو ہنر سے بازار، بازار سے خریدار اور خریدار سے مستقل کاروباری تعلق تک پہنچانے کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

26 سے 30 ستمبر تک 180 سے زائد اسٹال

’’کرناٹک پروا-2026‘‘ 26 سے 30 ستمبر تک تریپورا واسنی، پیلس گراؤنڈز، بنگلورو میں منعقد ہوگا۔پروگرام میں 180 سے زائد اسٹال قائم کیے جائیں گے، جہاں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے دستکار، روایتی ہنرمند، چھوٹے کاروباری افراد اور مختلف مصنوعات تیار کرنے والے اپنے سامان کی نمائش اور فروخت کریں گے۔روایتی دستکاری، گھریلو مصنوعات، غذائی اشیا اور دیگر مصنوعات کے ساتھ دستکاروں کو براہِ راست صارفین تک پہنچنے کا موقع ملے گا۔ اس سے درمیانی ذرائع پر انحصار کم کرنے اور ہنرمندوں کو اپنی مصنوعات کی بہتر تجارتی قدر حاصل کرنے کے امکانات پیدا ہوں گے۔پروگرام کے دوران کاروباری اداروں اور ممکنہ خریداروں سے روابط قائم کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی، تاکہ پانچ روزہ میلے کے بعد بھی دستکاروں کے لیے نئے بازاروں تک رسائی کے راستے کھلے رہیں۔

قوالی، صوفیانہ کلام، مشاعرہ اور غذائی میلہ

’’کرناٹک پروا‘‘ کو صرف تجارتی سرگرمیوں تک محدود نہیں رکھا گیا ہے۔ پانچ روزہ پروگرام کے دوران صوفیانہ کلام، قوالی، مشاعرہ اور دیگر ثقافتی پروگرام بھی منعقد ہوں گے، جبکہ مختلف ذائقوں اور غذائی روایات کو اجاگر کرنے کے لیے غذائی میلے کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔اس طرح ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود نے دستکاری، کاروبار، ثقافت، ادب اور غذائی تنوع کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔پروگرام کا افتتاح 26 ستمبر کو صبح 11 بجے وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار کریں گے۔ اس موقع پر وزراء، ارکان اسمبلی اور مختلف سرکاری کارپوریشنوں و بورڈوں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ عوام کے لیے داخلہ مفت ہوگا، جس سے بنگلورو کے شہریوں کو براہِ راست دستکاروں سے مصنوعات دیکھنے اور خریدنے کا موقع ملے گا۔

’بھارت پروا‘ رکنے کے بعد ’کرناٹک پروا‘ کی نئی شناخت

یوں ’’کرناٹک پروا-2026‘‘ محض ایک نام کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسے پروگرام کی نئی ریاستی شکل ہے جو ابتدا میں مرکزی وزارتِ اقلیتی امور کے اشتراک سے ’’بھارت پروا‘‘ کے نام سے منعقد ہونے کی سمت میں آگے بڑھ رہا تھا۔ وندے ماترم کی ادائیگی کے معاملے پر مرکز اور ریاست کے درمیان اختلاف اس تبدیلی کا اہم پس منظر ہے، جبکہ اب ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کی توجہ پروگرام کو کامیاب بنانے اور اسے دستکاروں کے لیے عملی معاشی مواقع میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔یو۔ ٹی۔ قادر نے مرکزی اشتراک کے رک جانے کے بعد اسے ریاستی سطح پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس پروگرام کو ایک نئی شناخت دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کی جانب سے اسے ریاست کے وقار سے وابستہ معاملے کے طور پر دیکھے جانے کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود نے مقررہ تاریخ اور مقام پر پروگرام کو منفرد انداز میں منعقد کرنے کی تیاری شروع کی ہے۔26 سے 30 ستمبر تک تریپورا واسنی، پیلس گراؤنڈز میں منعقد ہونے والا یہ پروگرام اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ’’بھارت پروا‘‘ سے ’’کرناٹک پروا‘‘ تک کا سفر وندے ماترم کے تنازع کے سیاسی پس منظر میں ہوا، جبکہ اس کی موجودہ سمت دستکاروں کے ہنر، بازار، کاروبار اور ثقافتی شناخت کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ہے۔

0/Post a Comment/Comments