خیال سے جمال تک، احساسات کی بارش میں بھیگی ایک غزل
سوال، ملال، جلال اور محبت کے رنگوں سے سجی شعری کیفیت
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
جیسے تھی وہ مثال کی بارش
اُن سے مجھ تک خیال کی بارش
ہم فقیروں کے حال کی بارش
ہو رہی ہے ملال کی بارش
ان کی جانب سے کچھ جواب ملے
تھم یہ جائے سوال کی بارش
بھیگ لیتے ہیں ساتھ ان کے ہم
ہوئی ہو جب خیال کی بارش
وہ بھی خاموش ہوگئے، دیکھا
سر اٹھائی جلال کی بارش
سنگ تیرے جہاں جہاں ہوں گے
دیکھ لیں گے کمال کی بارش
کون سا جادو ہو رہاہے میرؔ
لمحہ لمحہ جمال کی بارش
Post a Comment