No Compromise on Student Safety, Warns Kolar ZP CEO غفلت برتنے والے بی ای او اور ہیڈ ماسٹر معطل ہوں گے

اسکولی بچوں کی حفاظت میں غفلت برداشت نہیں، ذمہ دار افسران معطل ہوں گے

خستہ حال اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز کی فوری رپورٹ طلب، طلبہ کی منتقلی کی ہدایت

کولار 18 جون (شبیر احمد)

ضلع کے سرکاری اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز میں بچوں کی حفاظت کے معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ خستہ حال اسکولی عمارتوں کے سبب اگر کوئی حادثہ پیش آیا تو متعلقہ بلاک تعلیمی افسر اور اسکول کے صدر مدرس کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرا کر فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا۔ یہ سخت انتباہ ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر پروین پی باگیواڑی نے دیا۔حال ہی میں کولار تعلقہ کے ایک سرکاری اسکول میں چھت کا ایک حصہ گرنے سے ایک استاد کے زخمی ہونے کے واقعہ کے بعد ضلع پنچایت ہال میں ہنگامی جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں ضلع کے تمام بلاک تعلیمی افسران اور محکمہ خواتین و اطفال بہبود کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر باگیواڑی نے ہدایت دی کہ ضلع بھر کے تمام خستہ حال اسکولی کمروں اور آنگن واڑی مراکز کی تفصیلی رپورٹ آئندہ تین دنوں کے اندر محکمہ تعلیم کے ذریعے پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو عمارتیں خطرناک قرار دی گئی ہیں، وہاں سے بچوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔تعلقہ وار جائزے کے دوران بتایا گیا کہ بنگارپیٹ تعلقہ میں 63 عمارتیں، کے جی ایف میں 24 کمرے جبکہ کولار، مالور، سرینواس پور اور مولباگل تعلقہ جات میں بھی متعدد عمارتیں معمولی یا بڑی مرمت کی محتاج ہیں۔چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے مرمتی کاموں کے لیے دستیاب فنڈس کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ عمومی مرمت کے لیے ایک کروڑ تینتالیس لاکھ انچاس ہزار روپے، درج فہرست ذاتوں کے فنڈ کے تحت ستر لاکھ اکیس ہزار روپے اور درج فہرست قبائل کے فنڈ کے تحت اٹھائیس لاکھ آٹھ ہزار روپے دستیاب ہیں۔ انہوں نے دیہی ترقیاتی محکمہ کے افسران کو ہدایت دی کہ مرمت کے کام فوری طور پر شروع کیے جائیں۔انہوں نے محکمہ خواتین و اطفال بہبود کے افسران کو بھی ہدایت دی کہ خستہ حال آنگن واڑی مراکز کی نشاندہی کرکے ان کی مرمت یا نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے گرام پنچایتوں کے تعاون سے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

ڈاکٹر باگیواڑی نے کہا کہ ہر اسکول میں صاف پینے کے پانی کی سہولت لازمی ہونی چاہیے اور لڑکوں و لڑکیوں کے لیے الگ الگ اور صاف ستھرے بیت الخلاء کا انتظام یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اسکولوں میں دواؤں کے پودوں پر مشتمل ’’دھنونتری ون‘‘ قائم کرنے پر بھی زور دیا۔اجلاس کے دوران کولار تعلقہ کے بعض سرکاری اسکولوں میں پہلی جماعت کے داخلوں میں گزشتہ سال کے مقابلے تقریباً تیس فیصد کمی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر افسران کو ہدایت دی گئی کہ عوام میں کنڑ اور انگریزی دو لسانی تعلیم کے فوائد سے متعلق بیداری پیدا کی جائے، معلوماتی پرچے تقسیم کیے جائیں اور اساتذہ گھر گھر جاکر والدین کو سرکاری اسکولوں میں داخلے کے لیے راغب کریں۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ضلع میں صنعتی علاقوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں ہر تین گرام پنچایتوں پر ایک جدید ماڈل اسکول قائم کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جس کے لیے بڑی کمپنیوں کے تعاون سے جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔اجلاس میں ضلع پنچایت کے ڈپٹی سکریٹری ٹی۔ کے۔ رمیش، محکمہ تعلیم کی ڈپٹی ڈائریکٹر الماس پروین تاج، ضلع کے تمام بلاک تعلیمی افسران اور محکمہ خواتین و اطفال بہبود کے افسران موجود تھے۔

0/Post a Comment/Comments