سرینواس پور میں علماء کا کانگریس کو انتباہ، اقلیتی رہنماؤں کی بحالی تک احتجاج جاری رہے گا
نصیر احمد اور عبدالجبار کے خلاف کارروائی واپس نہ لی تو انتخابات میں سخت ردعمل کی تنبیہ
سرینواس پور 2 مئی (شبیر احمد)
سرینواس پور میں علماء کرام نے واضح انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اقلیتی رہنماؤں ایم ایل سی نصیر احمد اور ایم ایل سی عبدالجبار کو ان کے عہدوں پر بحال نہیں کیا جاتا، تب تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ شہر کے آزاد روڈ پر واقع جامع مسجد کے قریب منعقدہ قومی یکجہتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے علماء نے ریاست میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی سخت مذمت کی۔ مولوی کلیم اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگریس قائد راہل گاندھی نے ملک گیر سطح پر اتحاد، بھائی چارہ اور ہم آہنگی کا پیغام دیا، جسے عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی، لیکن ریاستی سطح پر اقلیتی قیادت کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ افسوسناک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی اسمبلی انتخابات میں اقلیتوں، خصوصاً مسلم برادری نے تقریباً نوے فیصد ووٹ کانگریس کے حق میں ڈالے، جس کے نتیجے میں موجودہ حکومت قائم ہوئی۔ اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

علماء نے داونگیرے ضمنی انتخاب کے تناظر میں کہا کہ اقلیتی رہنماؤں کا ٹکٹ کا مطالبہ کرنا ان کا جمہوری حق ہے، لیکن اس بنیاد پر عبدالجبار کو پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے معطل کرنا اور سینئر لیڈر نصیر احمد کو وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر کے عہدے سے ہٹانا غیر منصفانہ اقدام ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کانگریس پارٹی فوری طور پر اپنے فیصلے واپس لے اور دونوں رہنماؤں کو ان کے عہدوں پر بحال کرے، بصورت دیگر آنے والے انتخابات میں اقلیتی طبقہ سخت ردعمل دے گا۔اس موقع پر دیگر علماء نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پروگرام میں جامع مسجد سرینواس پور کے امام مولانا آصف اللہ، چارمینار مسجد کے امام حافظ ابو ہریرہ شریف عمری، مولانا سید نشاط اللہ، مولانا وزیر صاحب، حافظ لقمان، حافظ تبریز، حافظ یوسف، حافظ عظیم الدین سمیت متعدد علماء اور معززین نے شرکت کی۔جامع مسجد کے متولی زاہد انصاری نے بھی خطاب کیا۔ اس پروگرام میں سرینواس پور کی مختلف مساجد کے علماء اور مسلم برادری کے افراد کی بڑی تعداد شریک رہی۔
Post a Comment