نوجوان قیادت اور جدید حکمرانی پر زور ,یو۔ٹی قادر کا ولولہ انگیز خطاب
جدید دور میں ڈیٹا، ٹیکنالوجی اور وژنری قیادت ناگزیر قرار
پناجی (گوا)/بنگلورو 10 اپریل (حقیقت ٹائمز)
کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن (سی پی اے) بھارت زون-7 کے پہلے اجلاس میں کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر یو ٹی قادر کا ولولہ انگیز خطاب قومی سطح پر عوامی نمائندوں اور قائدین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ انہوں نے نوجوان قیادت، جدید حکمرانی اور مستقبل کے بھارت کے خدوخال پر جامع اور فکر انگیز خیالات پیش کیے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حقیقی قیادت کا تعلق صرف عمر سے نہیں بلکہ سوچ، جرات اور واضح وژن سے ہوتا ہے۔ جو افراد نئی سوچ، اختراعی نظریات اور بدلتے تقاضوں کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہی دراصل حقیقی معنوں میں نوجوان قائدین کہلانے کے مستحق ہیں۔یو ٹی قادر نے زور دے کر کہا کہ نئے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی، چاہے ان کی عمر کچھ بھی ہو، عموماً کم تعصبات اور زیادہ تجرباتی سوچ رکھتے ہیں، اور اگر انہیں مناسب رہنمائی اور تربیت فراہم کی جائے تو وہ سماجی تبدیلی کے مؤثر محرک بن سکتے ہیں۔ انہوں نے بنگلورو میں منعقدہ "ایم ایل اے بوٹ کیمپ" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تربیتی پروگرام قانون سازی، ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہتر طرز حکمرانی کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا گورننس اور معاشی پالیسی جیسے شعبوں میں عوامی نمائندوں کی تربیت کو ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ آج کی حکمرانی محض ردعمل پر نہیں بلکہ پیشگی منصوبہ بندی اور ڈیٹا پر مبنی فیصلوں پر منحصر ہونی چاہیے۔معاشی ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت کو طویل مدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی، جس میں برآمدات میں اضافہ، مقامی پیداوار کو فروغ اور روپے پر مبنی لین دین کی حوصلہ افزائی شامل ہو، تاکہ ملک معاشی خود کفالت کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

روزگار اور ہنرمندی کے موضوع پر انہوں نے کہا کہ ہر حلقہ کو ایک چھوٹے معاشی یونٹ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، جہاں مقامی وسائل کو بروئے کار لا کر روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں اور ہجرت کے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ سیاحت کے فروغ کے لیے بھی غیر دریافت شدہ مقامات کو ترقی دے کر مقامی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے تعلیم کے میدان میں بھی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ میں مصنوعی ذہانت کی سمجھ، معاشی شعور اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یو ٹی قادر نے کہا کہ بھارت کا ہدف صرف ترقی نہیں بلکہ عالمی سطح پر قیادت حاصل کرنا ہونا چاہیے، اور 2047 تک ملک کو ایسا مقام حاصل کرنا ہوگا جہاں وہ دوسروں کی تقلید نہ کرے بلکہ خود نئے ماڈلز پیش کرے۔اس اہم اجلاس میں اوم برلا، پرمود ساونت، ہری ونش نارائن سنگھ سمیت مختلف ریاستوں کے اسمبلی اسپیکرز، ارکان پارلیمنٹ اور وزراء نے شرکت کی اور اہم موضوعات پر اظہار خیال کیا۔
Post a Comment