کانگریس میں اقلیتی قیادت میں ہلچل، عبدالجبار کا استعفیٰ
نصیر احمد کو بھی عہدہ چھوڑنے کی ہدایت، ضمیر احمد خان پر دباؤ برقرار.؟
بنگلورو، 11 اپریل (حقیقت ٹائمز)
داونگیرے جنوبی اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کے بعد کرناٹک کی سیاست میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ کانگریس ہائی کمان کو موصول داخلی رپورٹ کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں اہم قیادت کے خلاف تادیبی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق، ریاستی وزیر ضمیر احمد خان کے خلاف بعض اقلیتی اراکینِ اسمبلی نے شکایات درج کرائی ہیں اور کابینہ کی ممکنہ ردوبدل کے دوران انہیں ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس پیش رفت نے ریاستی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
ادھر، کے پی سی سی اقلیتی سیل کے صدر اور رکن قانون ساز کونسل عبدالجبار نے کے پی سی سی شعبہ اقلیت کی صدارت کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ممکنہ تادیبی کارروائی کے پیش نظر انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر و رکن کونسل نصیر احمد کو بھی استعفیٰ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران پارٹی کے اندرونی اختلافات اور قائدین کے درمیان ناراضگی نے کانگریس امیدوار کی جیت کو متاثر کیا۔ خاص طور پر اقلیتی قیادت کے درمیان اختلافات کو اس کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ان تمام پیش رفت کے درمیان آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملیکارجن کھرگے نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے اس معاملے پر لاعلمی ظاہر کی ہے، جسے سیاسی حلقوں میں معنی خیز خاموشی قرار دیا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں کابینہ میں ردوبدل اور تنظیمی سطح پر اہم فیصلے متوقع ہیں، جو ریاست کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
Post a Comment