Fifth Iqbal Study Session Held in Chikkamagaluru with Literary Spirit چکمگلور میں درسِ اقبال کی کامیاب نشست

چکمگلور میں درسِ اقبال کی پانچویں نشست، علم و ادب کی روح پرور محفل

اقبال کے افکار، قرآنی تعلیمات اور مشاعرے نے محفل کو یادگار بنا دیا

چکمگلور، 9 اپریل (فیروز نشیمن) 

شہر میں “گھر گھر اردو” پروگرام کے تحت ماہانہ درسِ اقبال کی پانچویں نشست نہایت شاندار انداز میں محترمہ تنزیلہ حسین کے دولت کدہ پر منعقد ہوئی، جس کی صدارت داؤد علی جمشید نے کی۔پروگرام کا آغاز سمیع اللہ کی تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جبکہ اہلِ خانہ کے بچوں اور جی ایس فیروز احمد نے نعتِ رسول ﷺ پیش کی۔ میزبان نے تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور حسبِ روایت شمع روشن کر کے نشست کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔نظامت کے فرائض اکبر خان اکبر نے بہترین انداز میں انجام دیے، جبکہ خالد الرحمن نے گزشتہ نشستوں کی مختصر رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر رضوان خالد، کے محمد جعفر اور نسیم احمد سلیم مہمانانِ خصوصی کے طور پر شریک رہے۔علمی نشست میں نصرت رحیم نصرت نے سورۂ نمل (آیات 29 تا 31) کی روشنی میں حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس کے واقعہ کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا، جبکہ صدرِ نشست نے بالِ جبریل کے منتخب اشعار کی تشریح پیش کی۔اس کے بعد مشاعرے کا انعقاد عمل میں آیا جس میں نصرت رحیم نصرت، سلیم انسا، سہانہ سلطانہ، فرحت افزا، تنزیلہ حسین، جمشید صاحب، اکبر خان اکبر، شبیر حسین اور عبدالستار نے اپنا کلام پیش کر کے سامعین سے خوب داد وصول کی۔مہمانِ خصوصی نسیم احمد سلیم نے اردو ادب کی خدمات کو سراہتے ہوئے تعاون کا یقین دلایا، جبکہ کے محمد جعفر نے اقبال کے افکار کو موجودہ حالات سے جوڑ کر پیش کیا۔ رضوان خالد نے اپنے خطاب میں اتحاد اور دین کے لیے جدوجہد کو کامیابی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے علامہ محمد اقبال کا یہ شعر پیش کیا کہ “ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشیدِ مبیں، ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے بھلا کیا بات بنے۔”پروگرام کے اختتام پر مہمانانِ خصوصی کی عزت افزائی کی گئی اور میزبان کی جانب سے بہترین ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ آخر میں خالد الرحمن نے علامہ اقبال کی دعا پر مبنی کلام پیش کیا۔ میزبان کے اظہارِ تشکر کے ساتھ یہ بامقصد نشست اختتام پذیر ہوئی اور اردو ادب کی یہ شام ایک یادگار شام بن گئی۔

0/Post a Comment/Comments