مسلمانوں کے لیے دوہرا پیمانہ؟
انصاف، تاخیر اور نظامِ عدل پر ایک سنجیدہ سوال
از : جاوید جمال الدین
انصاف کا اصول اور زمینی حقیقت ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد انصاف، مساوات اور قانون کی بالادستی پر رکھی گئی ہے، مگر عملی سطح پر بعض ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو ان اصولوں کے اطلاق پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ خاص طور پر دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد جیسے حساس معاملات میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری، طویل قید اور بعد ازاں رہائی یا بریت کے واقعات ایک ایسے بیانیے کو جنم دیتے ہیں جسے نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں ممبئی کی ایک خصوصی عدالت کی جانب سے دو مسلم نوجوانوں کو چودہ سال سے زائد عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد ضمانت پر رہائی دینا اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر قانونی تقاضوں کے مطابق تھا، کیونکہ عدالت نے مقدمے کی سماعت میں غیر معمولی تاخیر اور یکسانیت کو بنیاد بنایا، مگر اس کے ساتھ ہی یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ اگر یہی انصاف تھا تو اس میں چودہ سال کیوں لگے؟ کیا ایک جمہوری نظام میں انصاف کی فراہمی اس قدر سست ہو سکتی ہے کہ ایک انسان کی پوری جوانی عدالتی انتظار کی نذر ہو جائے؟
طویل قید: سزا سے پہلے سزا ہارون عبدالرشید نائیک اور نقی احمد جیسے نوجوانوں کی کہانی صرف دو افراد کی داستان نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی عکاسی کرتی ہے، جہاں کسی پر سنگین الزام عائد ہوتے ہی اس کی زندگی گویا منجمد ہو جاتی ہے۔ ان کے خلاف مقدمہ ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے قیمتی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ استغاثہ کی جانب سے گواہوں کو پیش کرنے میں تاخیر، سماعت کا محدود شیڈول، اور قانونی پیچیدگیاں اس طوالت کی بنیادی وجوہات بنیں، مگر اس کا خمیازہ صرف ملزمین کو بھگتنا پڑا۔ جب عدالت نے بالآخر ضمانت دی تو یہ ایک طرح سے اس حقیقت کا اعتراف بھی تھا کہ انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر ہوئی ہے، اور اس تاخیر نے ملزمین کو سزا سے قبل ہی سزا کا سامنا کرایا۔
مالیگاؤں بم دھماکہ اور کرنل پروہت: ایک متضاد مثال یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن جاتا ہے جب اسی نوعیت کے ایک دوسرے کیس، یعنی مالیگاؤں بم دھماکہ، میں ملوث سمجھے جانے والے فوجی افسر شری کانت پروہت کی رہائی اور اس کے بعد ان کی پیشہ ورانہ ترقی کی خبر سامنے آتی ہے۔ کرنل پروہت، جن کا نام اس حساس مقدمے میں سامنے آیا تھا، ایک طویل قانونی عمل سے گزرے، گرفتار ہوئے، برسوں تک مقدمے کا سامنا کیا، مگر بالآخر عدالت سے بری ہو گئے۔ اس کے بعد نہ صرف انہیں سروس میں برقرار رکھا گیا بلکہ انہیں بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری بھی دی گئی۔ یہ پیش رفت قانونی طور پر درست سمجھی جا سکتی ہے، مگر یہاں سوال قانونی جواز کا نہیں بلکہ عملی تضاد کا ہے۔ ایک طرف وہ مسلم نوجوان ہیں جو بغیر کسی حتمی سزا کے برسوں جیل میں پڑے رہے، اور دوسری طرف ایک ایسا فرد ہے جسے نہ صرف بریت ملی بلکہ نظام نے اسے دوبارہ اپنے اندر جگہ دیتے ہوئے ترقی بھی عطا کی۔
دہلی 2020 کے فرقہ وارانہ فسادات: گرفتاریوں سے رہائی تک یہ تضاد محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک وسیع تر تناظر کا حصہ محسوس ہوتا ہے، جس کی جھلک ہمیں دہلی 2020 کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان فسادات کے بعد متعدد مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے کئی کو طویل عرصے تک ضمانت نہیں مل سکی۔ بعد ازاں عدالتوں نے مختلف مقدمات میں شواہد کی کمی، تفتیشی خامیوں اور قانونی تقاضوں کی عدم تکمیل کی بنیاد پر کئی افراد کو ضمانت یا بریت دی۔ ان فیصلوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا کہ اگر شواہد کمزور تھے تو ان افراد کو اتنے طویل عرصے تک قید میں کیوں رکھا گیا؟ کیا یہ محض تفتیشی ناکامی تھی یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور غیر اعلانیہ رویہ کارفرما تھا؟
نظامی کمزوریاں یا امتیازی رویہ؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہو جاتا ہے کیونکہ ماضی میں بھی متعدد ایسے مقدمات سامنے آئے ہیں جہاں مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا، برسوں جیل میں رکھا گیا اور بعد ازاں عدالتوں نے انہیں بے قصور قرار دے دیا۔ کئی فیصلوں میں عدالتوں نے تفتیشی ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے اور کہا کہ شواہد ناکافی یا متضاد تھے۔ ان تمام واقعات کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو ایک ایسا رجحان ابھرتا ہے جہاں گرفتاری نسبتاً آسان اور رہائی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے، اور اس عمل میں سب سے زیادہ متاثر وہ افراد ہوتے ہیں جو سماجی، معاشی یا سیاسی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔
انصاف میں تاخیر: ایک خاموش بحران یہ کہنا درست ہوگا کہ ہندوستان کا عدالتی نظام بنیادی طور پر آزاد اور خودمختار ہے، مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر ہو۔ “انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے” یہ اصول محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔ اگر کسی شخص کو پندرہ سال بعد بری کر دیا جائے تو کیا اس کے ضائع شدہ سال واپس آ سکتے ہیں؟ کیا اس کی کھوئی ہوئی ساکھ، معاشی استحکام اور ذہنی سکون بحال ہو سکتا ہے؟
قانونی امداد اور وکلاء کا کردار اس پوری بحث میں قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیموں اور وکلاء کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ کئی معاملات میں انہی کی مسلسل کوششوں کے باعث ملزمین کو انصاف مل سکا ہے۔ اگر یہ کوششیں نہ ہوتیں تو شاید کئی افراد آج بھی جیل میں ہوتے۔ مگر ایک مثالی جمہوری نظام میں انصاف کی فراہمی کے لیے غیر سرکاری کوششوں پر انحصار نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اصلاح کی ضرورت: آگے کا راستہ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ عدالتی اور تفتیشی نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں۔ مقدمات کی تیز رفتار سماعت کو یقینی بنایا جائے، بغیر ثبوت طویل حراست کو محدود کیا جائے، تفتیشی ایجنسیوں کو جوابدہ بنایا جائے، اور غلط مقدمات میں قید افراد کے لیے مناسب معاوضے کا نظام قائم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ معاشرے میں کسی بھی فرد کو صرف الزام کی بنیاد پر مجرم نہ سمجھا جائے۔
انصاف سب کے لیے یکساں؟ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہارون اور نقی احمد کی رہائی، دہلی فسادات کے ملزمین کی ضمانتیں، اور شری کانت پروہت کی رہائی کے بعد ان کی ترقی جیسے واقعات محض الگ الگ خبریں نہیں بلکہ ایک بڑے سوال کی علامت ہیں۔ یہ سوال اس بات سے متعلق ہے کہ کیا ہمارا نظامِ انصاف واقعی سب کے لیے یکساں ہے؟ اگر انصاف کے ترازو میں توازن برقرار نہ رہے، تو اعتماد کا بحران جنم لیتا ہے—اور یہی کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741
, مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں


Post a Comment