CM Siddaramaiah Warns Against Irresponsible Journalism سدارامیا کا میڈیا کو ذمہ داری کا پیغام

قیاس آرائی پر مبنی صحافت خطرناک، میڈیا کو ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے: وزیر اعلیٰ سدارامیا

صحافی آئینی تقاضوں اور سماجی اصلاح میں اپنے کردار کا جائزہ لیں

بیدر، 11 اپریل (حقیقت ٹائمز)

وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ قیاس آرائی اور غیر ذمہ دارانہ صحافت معاشرے کے لیے نہایت خطرناک ہے، اس لیے معمولی معاملات کو دن بھر پیش کرنے والے میڈیا اداروں کو اس کے نتائج پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔وہ کرناٹک ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور بیدر ضلع ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ 40ویں ریاستی صحافیوں کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو خود یہ جائزہ لینا چاہیے کہ آیا وہ آئین کے اصولوں کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گھریلو جھگڑوں جیسے معمولی معاملات کو مسلسل نشر کرنے سے معاشرے کو کیا فائدہ ہوتا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور مہاتما گاندھی دونوں نے صحافت کے ذریعے بے آواز لوگوں کی آواز بن کر سماج کی اصلاح کی۔ 

اسی طرح بزرگ صوفی و سماجی مصلحین نے بھی معاشرے کی برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی، اور اگر مساوات پر مبنی معاشرہ قائم نہ ہو سکا تو ناانصافی برقرار رہے گی۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل تعلیم یافتہ افراد بھی اندھی عقیدت اور قسمت پرستی جیسے نظریات کو اپنا رہے ہیں، جو تشویش کی بات ہے۔ اس لیے سائنسی اور فکری تعلیم کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صحافی صرف معلومات فراہم کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ سماجی اصلاح میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ آئین کے مطابق سب کو معاشی اور سماجی طاقت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور حکومت اس سمت میں کام کر رہی ہے۔انہوں نے میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ادارے کارپوریٹ دباؤ میں آ کر سچائی کو بدل دیتے ہیں، حالانکہ عوام آج بھی اخبارات پر اعتماد رکھتے ہیں، اور اس اعتماد کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ دیہی صحافیوں کے لیے مفت بس پاس کی سہولت ان کی حکومت نے ہی متعارف کرائی تھی، اور اگر اس میں کسی قسم کی مشکلات ہیں تو بات چیت کے ذریعے انہیں دور کیا جائے گا۔اس موقع پر ضلع کے انچارج وزیر ایشور کھنڈرے، وزراء رحیم خان اور شرن پرکاش پاٹل سمیت کئی معزز شخصیات اور صحافی بڑی تعداد میں موجود تھے۔








0/Post a Comment/Comments