داونگیرے میں بین المذاہب ہم آہنگی کی خوبصورت مثال
رمضان کے موقع پر بھائی چارے اور رواداری کا پیغام
داونگیرے 20 مارچ (حقیقت ٹائمز)
ریاست کرناٹک کے شہر داونگیرے میں کثرت میں وحدت اور بھائی چارے کی ایک دلکش مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب چترادرگہ مرگھا راجیندرا برہمنہ مٹھ کے سوامی ڈاکٹر شیومورتی مرگھا شرنو سماجی کارکن اور سابق منصوبہ بندی کمیشن رکن ڈاکٹر سی آر نصیر احمد کے مکان پر تشریف لائے۔اس موقع پر ان کے ہمراہ ویرکتہ مٹھ کے سوامی بسواپربھو بھی موجود تھے، جبکہ مدینہ مسجد کے خطیب و امام مولانا امین رضا قادری سمیت شہر کی مختلف معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔ ملاقات کے دوران سوامی ڈاکٹر شیومورتی مرگھا شرنو نے تمام مسلمانوں کو ماہِ رمضان المبارک اور عیدالفطر کی پیشگی مبارکباد پیش کی۔انہوں نے ماہِ رمضان کی روحانیت، روزے کی اہمیت اور اس کی برکتوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس موقع پر نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سننے کی خواہش ظاہر کی، جس پر مولانا امین رضا قادری نے نہایت خوش الحانی سے نعت پیش کی۔ نعت سننے کے بعد سوامی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ان کلمات سے انہیں قلبی سکون حاصل ہوا۔میزبان ڈاکٹر سی آر نصیر احمد نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی تہنیت کی۔ اس موقع پر شہر کی دیگر اہم شخصیات میں یشونت راؤ جادھو، شاعر غوث پیر ہمدرد، عبدالجبار اور پہلوان ارنی محمد علی بھی موجود تھے۔تقریب کے دوران مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے باہمی محبت، رواداری اور بھائی چارہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اصل پہچان اس کی گنگا جمنی تہذیب ہے، جہاں مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگ باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کو نفرت اور تعصب سے پاک کرنے اور تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں ضروری ہیں، کیونکہ علم کا حصول ہر مرد و عورت پر فرض ہے اور اسی کے ذریعے ایک بہتر معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر مہمانوں کی تواضع کی گئی اور خوشگوار ماحول میں یہ پیغام دیا گیا کہ باہمی ہم آہنگی اور اتحاد ہی ملک کی حقیقی طاقت ہے۔
Post a Comment