Congress Faces Internal Rift Over Davanagere Ticket ٹکٹ تنازع پر ہنگامہ، قیادت آزمائش میں

داونگیرے ضمنی انتخاب: کانگریس میں ٹکٹ پر شدید رسہ کشی

مبصرین کے روبرو ہنگامہ، اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے

داونگیرے 18 مارچ (الطاف رضوی)

داونگیرے کے ساؤتھ حلقہ میں ہونے والے مجوزہ ضمنی انتخاب نے کانگریس پارٹی کے اندرونی اختلافات کو کھل کر سامنے لا دیا ہے۔ ٹکٹ کی تقسیم کے معاملے پر پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان کشیدگی اس قدر بڑھ گئی کہ مبصرین کی موجودگی میں ہی حامی گروپوں کے درمیان تلخ کلامی اور گرما گرمی دیکھنے میں آئی، جس نے اعلیٰ قیادت کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی (آل انڈیا کانگریس کمیٹی) کی ہدایات پر کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی نے اس حساس حلقہ کے لیے تین سینئر مبصرین — منجوناتھ بھنڈاری، ایچ ایم ریونا اور ایچ آنجینیا — کو مقرر کیا تھا تاکہ مقامی سطح پر رائے لے کر موزوں امیدوار کا انتخاب کیا جا سکے۔ اجلاس میں ضلع کے نگران وزیر ایس ایس ملیکارجن بھی شریک رہے۔اجلاس کے دوران جیسے ہی امیدوار کے نام پر گفتگو شروع ہوئی، ایس ایس ملیکارجن اور رکن قانون ساز کونسل عبدالجبار کے حامی آمنے سامنے آ گئے۔ دونوں گروہوں نے اپنے اپنے قائد کے حق میں ٹکٹ دینے کا پرزور مطالبہ کیا۔ذرائع کے مطابق اس دوران بعض کارکنان کی جانب سے ایسے متنازع جملے بھی کہے گئے جنہیں اقلیتی طبقہ کے خلاف سمجھا گیا، جس پر فضا مزید کشیدہ ہو گئی۔ اس کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان تیز جملوں کا تبادلہ ہوا اور اجلاس کا ماحول خاصا گرما گیا۔ مبصرین کو صورتحال سنبھالنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت داونگیرے ساؤتھ میں ایک واضح سماجی و سیاسی صف بندی دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں اقلیتی، پسماندہ اور دیگر محروم طبقات کی بڑی تعداد عبدالجبار کے حق میں کھڑی نظر آ رہی ہے۔حالیہ دنوں ایک بڑے افطار اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حلقہ میں مسلم ووٹوں کی نمایاں موجودگی کو دیکھتے ہوئے سماجی انصاف کے تحت اس بار کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا جانا چاہیے۔

اس موقع پر عبدالجبار نے واضح طور پر کہا کہ داونگیرے ساؤتھ سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینا ان کا دیرینہ مطالبہ ہے، اور اس کے لیے مختلف طبقات اور جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے۔ تاہم انہوں نے پارٹی اتحاد کو ترجیح دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر پارٹی کسی اور امیدوار کو میدان میں اتارتی ہے تو وہ سب مل کر اس کی کامیابی کے لیے کام کریں گے۔دوسری جانب شامنور خاندان کو دوبارہ ٹکٹ دیے جانے کی قیاس آرائیوں نے بھی سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ حلقہ کے ایک طبقے کا ماننا ہے کہ طویل عرصے سے ایک ہی خاندان کی نمائندگی کے باعث کارکنان میں بے چینی پائی جا رہی ہے اور اب تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔کچھ مقامی لیڈران اور کارکنان نے تنظیمی سطح پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے، جس سے پارٹی کے اندرونی حالات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی بھی اس حلقہ میں اپنی حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی ایک نئے چہرے کو میدان میں اتارنے پر غور کر رہی ہے، جس میں جی بی ونے کمار کا نام زیر غور بتایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بھی عندیہ دیا ہے کہ پارٹی کی ہدایت پر وہ انتخاب لڑنے کے لیے تیار ہیں۔مجموعی طور پر داونگیرے ساؤتھ اس وقت کرناٹک کی سیاست کا ایک اہم اور حساس حلقہ بن چکا ہے، جہاں کانگریس قیادت کو امیدوار کے انتخاب میں نہایت احتیاط برتنا ہوگی۔ معمولی سی غلطی بھی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔آئندہ دو سے تین دنوں میں امیدوار کے اعلان کی توقع کی جا رہی ہے، جس کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ پارٹی کس سمت میں قدم بڑھاتی ہے اور آیا وہ داخلی اختلافات کو قابو میں رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

0/Post a Comment/Comments