Shabbir Ahmed Ansari Passes Away, OBC Movement Loses a Key Leader سماجی انصاف کا علمبردار دنیا سے رخصت

بانی آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن شبیر انصاری انتقال کر گئے

ریزرویشن اور پسماندہ طبقات کی آواز خاموش

جالنہ، (مہاراشٹرا)22 مارچ (جاوید جمال الدین)

شبیر احمد انصاری، بانی و قومی صدر آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن، کا آج دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے طویل علالت کے بعد 79 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ ان کی تدفین آج رات جالنہ میں عمل میں آئے گی۔ پسماندگان میں اہلیہ، تین صاحبزادے، چھ صاحبزادیاں اور ایک بڑا سوگوار خاندان شامل ہے۔ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی ریاست مہاراشٹرا سمیت ملک بھر میں او بی سی تحریک اور سماجی انصاف کے حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی، اور انہیں ایک عہد ساز رہنما کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔شبیر احمد انصاری محض ایک تنظیمی قائد نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت سماجی تحریک کی علامت تھے۔ انہوں نے مسلم سماج کے پسماندہ طبقات کو شناخت، شعور اور حقوق کی جدوجہد کے لیے منظم کیا اور اپنی پوری زندگی سماجی انصاف، مساوات اور آئینی حقوق کے لیے وقف رکھی۔ مہاراشٹر میں مسلم او بی سی ریزرویشن کی تحریک کے وہ معمار سمجھے جاتے ہیں، جبکہ قومی سطح پر انہوں نے او بی سی بیانیے کو نئی جہت عطا کی۔انہوں نے 1984 میں مہاراشٹر مسلم او بی سی آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن میں تبدیل ہوئی۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے انہوں نے نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ملک بھر میں پسماندہ مسلمانوں کو منظم کیا۔ ایسے دور میں جب مسلم قیادت محدود طبقات تک سمٹ گئی تھی، انہوں نے دستکار اور محنت کش برادریوں—انصاری، منصوری، سلمانی، درزی، قریشی اور دیگر طبقات—کو سماجی و سیاسی دھارے میں لانے کی مؤثر کوشش کی۔

ان کی قیادت میں منعقد ہونے والے جلسے، جلوس اور عوامی تحریکیں او بی سی شناخت کے فروغ کا ذریعہ بنیں اور حکومتوں کو پسماندہ مسلمانوں کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا۔ انہی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ مہاراشٹر میں مسلم او بی سی طبقات کو ریزرویشن حاصل ہوا، جو ان کی ایک بڑی تاریخی کامیابی مانی جاتی ہے۔او بی سی تحریک کو وسعت دینے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کی ممتاز شخصیات نے ان کا ساتھ دیا، جن میں  بالخصوص معروف اداکار دلیپ کمار، سینئر صحافی حسن کمال اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ظہیر قاضی  شامل ہیں۔ ان شخصیات نے نظریاتی اور عملی دونوں سطحوں پر تحریک کو تقویت دی اور اسے قومی سطح پر شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔قومی سطح پر بھی شبیر احمد انصاری کی جدوجہد نمایاں رہی۔ انہوں نے منڈل کمیشن کی سفارشات کے نفاذ کے لیے سرگرم کردار ادا کیا اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ اس کے فوائد مسلم پسماندہ طبقات تک بھی پہنچیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے رام ولاس پاسوان ، شرد پوار اور کرپوری ٹھاکر  جیسے رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ایک سادہ بنکر خاندان سے تعلق رکھنے والے شبیر احمد انصاری نے محدود وسائل کے باوجود اپنی محنت، عزم اور نظریاتی وابستگی کے ذریعے قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی خودنوشت “منڈل نامہ” او بی سی تحریک اور ان کی جدوجہد کی ایک اہم دستاویز مانی جاتی ہے، جو اردو اور مراٹھی زبانوں میں دستیاب ہے۔انہوں نے او بی سی تحریک کے ساتھ ساتھ اوقاف، مساجد اور مدارس کے تحفظ کے لیے بھی نمایاں خدمات انجام دیں اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے۔ مختلف سماجی و تعلیمی شخصیات نے ان کے انتقال کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔سیاسی و سماجی حلقوں میں بھی ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کے ترجمان نظام الدین راعین نے کہا کہ شبیر انصاری کی جدوجہد نے او بی سی تحریک کو نئی توانائی دی، جبکہ اے ایم پی کے صدر عامر ادریسی نے انہیں ایک نڈر اور مخلص قائد قرار دیا۔تنظیم کے قومی ترجمان مرزا عبد القیوم ندوی نے ان کی وفات کو “ایک عہد کا خاتمہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا نظریہ تھا کہ حق کی جدوجہد سڑکوں سے شروع ہو کر ذہنوں تک پہنچتی ہے، اور یہی فکر ان کی تحریک کی بنیاد بنی۔شبیر احمد انصاری آخری وقت تک سماجی انصاف، ذات پات پر مبنی مردم شماری اور دستور کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے۔ سماجی کارکنوں نے انہیں “مسلم سماج کا جیوتیبا پھولے” قرار دیا—جو ان کی خدمات کا ایک بڑا اعتراف ہے۔ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا، تاہم ان کی جدوجہد اور فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔ او بی سی تحریک کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھا جائے گا۔

0/Post a Comment/Comments