Ramzan Special Nazm: A Silent City, A Trembling Prayer رمضان اسپیشل نظم: خاموش شہر اور لرزتی دعاؤں کی عید

 لہو رنگ عید

ڈاکٹر فرزانہ فرح (بھٹکل) 

​سہمے سہمے در و دیوار کھڑے ہیں چپ چاپ

دھند، بارود کی، تیزاب کی بارش کے تلے

خواب ملبے میں کہیں دب سے گئے ہیں شاید

دور سائرن کی صدا آ کے فضا چیرتی ہے

شہر خاموشی کی آغوش میں گم صم، غمگین

کوئی در کھلتا نہیں، کوئی صدا آتی نہیں

سانس لیتا ہے دھواں جیسے گلی کوچوں میں

زندگی خود سے بھی نظروں کو ملا پاتی نہیں

آخری عشرۂِ رمضاں کی یہ بوجھل راتیں

خوب ہونی تھیں عبادات، مگر کم سی ہیں

لب پہ تکبیر ہے، ہاتھوں میں دعاؤں کی لکیر

اور فضا پھر بھی عجب خوف سے نم ناک سی ہے

عید کا چاند تذبذب میں ہے ابھروں کہ نہیں؟

جیسے پوچھے ہے کہ مسرور کرے گی میری دید؟

اور کہیں ملبے پہ اک بچہ کھڑا سوچتا ہے

کیا یتیمی کے اسی حال میں آ جائے گی عید؟

0/Post a Comment/Comments