ممبئی میں رمضان کی روحانی فضا، اجتماعی افطار کی خوبصورت روایت جاری
مساجد اور فلاحی اداروں میں ہزاروں روزہ داروں کے لیے خاموش خدمت
ممبئی، 18 مارچ (خصوصی رپورٹ:جاوید جمال الدین)
عروسُ البلاد ممبئی نہ صرف تجارت اور فلمی دنیا کا مرکز ہے بلکہ مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور خدمتِ خلق کی ایک درخشاں مثال بھی ہے۔ ماہِ رمضان المبارک میں یہ شہر ایک منفرد روحانی اور سماجی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ افطار پارٹیوں کی چکاچوند سے ہٹ کر ممبئی کی مساجد، محلوں اور فلاحی اداروں میں روزانہ ہزاروں روزہ داروں کے لیے خاموش مگر منظم انداز میں افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے، جو اس شہر کی قدیم تہذیب اور اجتماعی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔
ممبئی کی تاریخ سات جزیروں سے ایک عالمی بندرگاہ بننے تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ آباد ہوئے۔ مسلمانوں نے بھی اس شہر کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور اپنے ساتھ دینی و سماجی روایات کو فروغ دیا۔ انہی میں رمضان المبارک کے دوران اجتماعی افطار کی روایت ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی گئی ہے۔
جنوبی ممبئی کے تاریخی علاقے محمد علی روڈ پر رمضان کی رونق اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ یہاں بیگ محمد باغ گراؤنڈ میں میمن جماعت فیڈریشن کی جانب سے روزانہ ہزار سے زائد خواتین کے لیے افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے، جو خریداری کے لیے آنے والی خواتین کو سہولت اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح جامع مسجد ممبئی رمضان کے دوران روحانیت کا مرکز بن جاتی ہے، جہاں روزانہ تقریباً تین ہزار روزہ داروں کے لیے افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ مسجد نہ صرف مذہبی خدمات انجام دیتی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتی ہے۔
قریب ہی واقع مینارہ مسجد میں بھی سینکڑوں افراد کے لیے روزانہ افطار کا انتظام کیا جاتا ہے، جبکہ چونا بھٹی مسجد اور دیگر مساجد میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ اسماعیل حبیب مسجد، میمن واڑہ مسجد اور حمیدیہ مسجد پائیدھونی جیسے مقامات پر بھی ہزاروں افراد کے لیے افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں مساجد صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ سماجی خدمت کے مراکز بھی ہیں۔
فورٹ کے علاقے میں انجمن اسلام کے ہال میں روزانہ اجتماعی افطار کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں ہر طبقے کے لوگ بلا تفریق شریک ہوتے ہیں۔ اسی طرح مدنپورہ، وڈالا اور دیگر علاقوں کی مساجد میں بھی بڑے پیمانے پر افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
مضافاتی علاقوں میں بھی یہی روحانی فضا قائم رہتی ہے۔ باندرہ کی جامع مسجد اور دیگر مقامات پر مقامی افراد کے ساتھ ساتھ مسافروں کے لیے بھی افطار کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ماہم میں واقع حضرت مخدوم شاہ مہیمی درگاہ میں بھی روزانہ سینکڑوں عقیدت مند افطار کرتے ہیں، جہاں روحانیت اور عقیدت کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔
ممبئی میں افطار کا یہ سلسلہ صرف مساجد تک محدود نہیں بلکہ سماجی، فلاحی اور سیاسی ادارے بھی بڑے پیمانے پر دعوتِ افطار کا اہتمام کرتے ہیں۔ مختلف تنظیمیں، نوجوانوں کے گروپ اور مخیر حضرات سڑکوں، اسپتالوں، ریلوے اسٹیشنوں اور کچی بستیوں میں روزہ داروں کے لیے افطار تقسیم کرتے نظر آتے ہیں۔
یہ تمام سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ممبئی میں رمضان صرف عبادات کا مہینہ نہیں بلکہ ایثار، ہمدردی اور اجتماعی شعور کا عملی مظاہرہ بھی ہے۔ یہاں افطار پارٹیوں کی ظاہری چمک سے کہیں زیادہ اہم وہ خاموش خدمت ہے جو روزانہ مساجد اور محلوں میں انجام دی جاتی ہے۔
اختتاماً یہ کہا جا سکتا ہے کہ عروسُ البلاد ممبئی میں رمضان کی اصل روح انہی اجتماعی افطاروں میں جھلکتی ہے، جہاں امیر و غریب، مقامی و مسافر سب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر بھائی چارے، مساوات اور انسانیت کا عملی درس دیتے ہیں۔
Post a Comment