اللہ والوں کے سائے میں ممبئی کی پہچان
رمضان میں عبادت و انسان دوستی کا حسین امتزاج
ممبئی، 20 مارچ (خصوصی رپورٹ جاوید جمال الدین)
عروسُ البلاد ممبئی اپنی تیز رفتار زندگی، بلند و بالا عمارتوں اور معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ایک گہری روحانی فضا کا بھی حامل ہے، جس کی جڑیں صدیوں پر محیط تاریخ میں پیوست ہیں۔ خصوصاً ماہِ رمضان المبارک میں یہ شہر ایک منفرد رنگ اختیار کر لیتا ہے، جہاں عبادات، خیرات، روحانیت اور باہمی ہم آہنگی کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس شہر پر اللہ والوں کا سایہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑے سے بڑے حالات کے باوجود یہ شہر جلد سنبھل کر کھڑا ہو جاتا ہے۔تاریخی اعتبار سے یہ شہر صرف ایک جدید بستی نہیں بلکہ اولیائے کرام اور صوفیاء کی سرزمین بھی رہا ہے۔ مختلف ادوار میں یہاں تشریف لانے والے بزرگوں نے دین کی اشاعت کے ساتھ ساتھ محبت، رواداری اور انسان دوستی کو فروغ دیا۔ یہی روحانی روایت آج بھی اس شہر کی فضا میں زندہ ہے، خاص طور پر رمضان المبارک کے مقدس ایام میں۔شہر کے مختلف علاقوں میں قائم درگاہیں اور آستانے اس روحانی ورثے کی نمایاں علامت ہیں، جن میں حاجی علی درگاہ کا نام سرفہرست ہے، جو سمندر کے درمیان ایک دلکش مقام پر واقع ہے۔ یہ درگاہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے بھی عقیدت کا مرکز ہے۔ رمضان کے دوران یہاں کا منظر نہایت روح پرور ہوتا ہے، افطار کے بعد اور خصوصاً عشاء اور تراویح کے اوقات میں زائرین کی بڑی تعداد یہاں جمع رہتی ہے اور رات گئے تک عبادت و دعا کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
مد و جزر کے باعث اس درگاہ تک پہنچنے کے اوقات محدود ہوتے ہیں، تاہم اس کے باوجود عقیدت مندوں کا جوش کم نہیں ہوتا۔ عیدالفطر کے دوسرے دن منعقد ہونے والے عرس میں لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں، جس کے پیش نظر انتظامات بھی وسیع پیمانے پر کیے جاتے ہیں۔
اسی طرح مخدوم علی ماہمیؒ بھی قدیم اور اہم روحانی مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ ماہم کے ساحل پر واقع یہ درگاہ صدیوں سے علم و عرفان کا مرکز رہی ہے۔ حضرت مخدوم علی ماہمیؒ ایک جلیل القدر صوفی بزرگ اور عالمِ دین تھے جنہوں نے اسلامی علوم میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ رمضان المبارک میں یہاں عبادات کا خاص اہتمام ہوتا ہے اور شب بیداری کا روح پرور منظر دیکھنے کو ملتا ہے، خصوصاً آخری ایام میں یہاں عبادت گزاروں کی بڑی تعداد جمع رہتی ہے۔
جنوبی ممبئی کے علاقوں میں واقع دیگر آستانے بھی رمضان میں خصوصی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں، جہاں ذکر و اذکار، دعا اور عبادات کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ یہاں حاضری دیتے ہیں۔ ان مقامات کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں مذہب یا طبقے کی کوئی قید نہیں، ہر شخص اپنی عقیدت کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔ رمضان کے دوران یہ ہم آہنگی مزید نمایاں ہو جاتی ہے جب افطار کے دسترخوان سب کے لیے کھلے ہوتے ہیں اور لوگ بلا تفریق شریک ہوتے ہیں۔
ان آستانوں کے تحت ہونے والی سرگرمیاں صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ فلاحی کام بھی انجام دیے جاتے ہیں۔ غریبوں کی مدد، طلبہ کی تعلیم اور بیماروں کے علاج کے لیے مالی تعاون فراہم کیا جاتا ہے، جس سے یہ مراکز معاشرتی خدمت کا بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
رمضان کے دوران شہر کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ایک خاص رونق دیکھنے کو ملتی ہے۔ دن کے اوقات میں خاموشی رہتی ہے لیکن افطار کے قریب آتے ہی گلیاں اور بازار آباد ہو جاتے ہیں، جہاں مختلف اقسام کے کھانے، پھل اور روایتی پکوان دستیاب ہوتے ہیں اور ہر طرف ایک خوشگوار ماحول قائم ہو جاتا ہے۔
رمضان کے آخری عشرے میں عبادات کا شوق اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ مساجد اور درگاہوں میں اعتکاف کا اہتمام کیا جاتا ہے، شب بیداری کی محفلیں سجتی ہیں اور لوگ خشوع و خضوع کے ساتھ اپنے رب کے حضور دعاگو ہوتے ہیں۔ اس دوران شہر کی فضا میں ایک خاص سکون اور روحانیت محسوس کی جا سکتی ہے۔
یہی خصوصیات اس شہر کو دیگر مقامات سے ممتاز بناتی ہیں کہ یہاں مادی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی اقدار کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ اولیائے کرام کے یہ آستانے نہ صرف عبادت کے مراکز ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی، خدمتِ خلق اور اخلاقی تربیت کے مراکز بھی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ رمضان المبارک میں یہ شہر ایک ایسے روحانی گلستاں کا منظر پیش کرتا ہے جہاں ہر طرف اللہ کی یاد، انسان دوستی اور بھائی چارے کی خوشبو پھیلی ہوتی ہے۔ یہی عناصر اس شہر کو محض ایک بستی نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیب بناتے ہیں، جہاں ہر رمضان نئی روشنی، نئی امید اور نئی روحانیت کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔
Post a Comment