محمد محسن کی مثالی عوامی خدمات
دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کی روشن مثال
از : شبیر احمد، سرینواس پور
سرکاری نظام میں عموماً افسران قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سخت ضوابط کے تحت کام کرتے ہیں، لیکن کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو ان حدود کے اندر رہتے ہوئے انسانیت، ہمدردی اور خدمت کے جذبے کو ترجیح دے کر عوامی خدمت کو ایک نئی پہچان دیتی ہیں۔ ایسے ہی نادر اور مثالی افسران میں سینئر آئی اے ایس افسر محمد محسن کا نام نمایاں ہے، جو اپنی سادگی، عوام دوستی اور خدمت کے جذبے کی بدولت حقیقی معنوں میں غریبوں کی امید کی کرن بن چکے ہیں۔آئی اے ایس عہدہ جہاں اختیار، وقار اور ذمہ داریوں کی علامت ہوتا ہے، وہیں محمد محسن نے کبھی بھی اپنے منصب کا غرور نہیں دکھایا۔ وہ ایک عام انسان کی طرح لوگوں سے گھل مل کر بات کرتے ہیں، جو انہیں دیگر افسران سے منفرد بناتا ہے۔ ان کی یہی سادگی اور خوش اخلاقی عوام کے دلوں میں ان کے لیے بے پناہ عزت اور اعتماد پیدا کرتی ہے۔

دفتر میں آنے والے ہر شہری کو وہ برابری کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے مسائل کو تحمل کے ساتھ سن کر جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں ان کے تئیں خاص اعتماد پایا جاتا ہے۔ ریاست کے مختلف اضلاع اور اہم محکموں میں خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے ہمیشہ عوامی مفاد کو ترجیح دی ہے۔محمد محسن نے بطور ڈپٹی کمشنر بیجاپور، ضلع پنچایت بیجاپور میں سی ای او اور گدگ میں خدمات انجام دیتے ہوئے دیہی علاقوں کے مسائل پر خصوصی توجہ دی۔ کسانوں، مزدوروں، غریبوں اور پسماندہ طبقات کے مسائل کو قریب سے سمجھ کر فوری اقدامات کرنا ان کی پہچان رہی ہے۔
ان کی طویل سرکاری خدمات میں کئی اہم عہدے شامل ہیں۔ انہوں نے محکمۂ تعلیم عامہ میں کمشنر، کے ایس ایس آئی ڈی سی (صنعتی ادارہ) میں منیجنگ ڈائریکٹر، محکمۂ ریونیو میں پرنسپل سکریٹری، محکمۂ پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود میں سکریٹری، محکمۂ محنت (لیبر ڈپارٹمنٹ) اور محکمۂ کوآپریٹو میں بھی پرنسپل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ ہر محکمہ میں انہوں نے عوامی اسکیموں کو مؤثر انداز میں نافذ کر کے حکومت کے مقاصد کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی انتظامی صلاحیت کا سب سے اہم پہلو “حساسیت” ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عوام کے مسائل صرف فائلوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ ان پر فوری کارروائی ہونی چاہیے۔ اسی لیے وہ دفاتر تک محدود رہنے کے بجائے دیہاتوں کا دورہ کرتے ہیں، عوام سے براہ راست ملاقات کر کے موقع پر ہی مسائل کے حل کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرز عمل سے عوام میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ان کے قریب ہے۔سال 2021 سے 2023 تک محکمۂ ریونیو میں پرنسپل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے کئی اہم اصلاحات نافذ کیں۔ زمین سے متعلق مسائل، ریکارڈ کی درستگی اور حقِ ملکیت کی فراہمی جیسے معاملات میں شفافیت اور تیزی لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے، جس سے عوام کو بڑی سہولت حاصل ہوئی۔
فی الحال وہ محکمۂ صحت و خاندانی بہبود کے تحت میڈیکل ایجوکیشن شعبہ میں ایڈیشنل چیف سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے طبی تعلیم اور صحت کے شعبے کی ترقی، میڈیکل کالجوں کی بہتری، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صحت خدمات کے معیار کو بلند کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ دور دراز دیہات، سرحدی علاقوں اور چھوٹے قصبوں کے لوگ بھی اگر ان سے رابطہ کریں تو وہ ان کے مسائل کو سن کر فوری مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ یہ ان کی بے لوث خدمت اور عوامی جذبے کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
بااختیار عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ایک عام انسان کی طرح زندگی گزارنا، سادہ زبان میں عوام سے بات کرنا اور ان کے دلوں تک پہنچنا محمد محسن کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ بلا جھجھک اپنے مسائل ان کے سامنے رکھتے ہیں۔محمد محسن کی خدمات دیگر افسران کے لیے ایک مثالی نمونہ ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک سرکاری افسر اپنے منصب کو کس طرح حقیقی عوامی خدمت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ان جیسے افسران ہی سرکاری نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بناتے ہیں۔مجموعی طور پر، اپنی سادگی، دیانتداری، خدمت کے جذبے اور عوامی فلاح کے لیے مسلسل جدوجہد کے ذریعے محمد محسن واقعی غریبوں کی امید کی کرن بن کر ابھرے ہیں۔ ان کی خدمات نہ صرف موجودہ نظامِ حکومت کے لیے مشعلِ راہ ہیں بلکہ آنے والی نسل کے افسران کے لیے بھی ایک روشن مثال ہیں۔
Post a Comment