زرعی ویلیو ایڈیشن اور خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو ترجیح دینے کی ہدایت
اوما مہادیون کا ٹماٹر، آم پروسیسنگ اور دیہی روزگار کے فروغ پر زور
کولار، 4 اگست (شبیر احمد)
ریاستی حکومت کی ایڈیشنل چیف سکریٹری اور ترقیاتی کمشنر اوما مہادیون نے ضلعی حکام کو ہدایت دی ہے کہ زرعی پیداوار کو صرف کاشت تک محدود رکھنے کے بجائے اس کی ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دی جائے اور خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو دیہی معیشت اور روزگار سے متعلق تمام اہم سرگرمیوں میں مؤثر کردار دیا جائے۔کولار کے ڈپٹی کمشنر دفتر میں منعقدہ ضلعی ترقیاتی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی، ماہی پروری، پولٹری اور دیگر دیہی ترقیاتی منصوبوں میں سنجیونی خواتین سیلف ہیلپ گروپس کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ دیہی خواتین معاشی طور پر خود کفیل بن سکیں۔انہوں نے ضلع میں ٹماٹر کی قیمت 16 روپے فی کلو سے بھی کم ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ٹماٹر اور آم کی ویلیو ایڈیشن کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ سن ڈرائیڈ ٹماٹر تیار کرکے یورپی اور خلیجی ممالک کو برآمد کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے، جبکہ ٹماٹر اور آم کی پروسیسنگ کے لیے ضلع میں پلپنگ یونٹس قائم کرنے کی غرض سے نبارڈ کے تعاون سے جامع منصوبہ تیار کیا جائے۔اجلاس میں حکام نے بتایا کہ ضلع میں کھاد کی کوئی قلت نہیں ہے اور اگر بارش میں کمی واقع ہوتی ہے تو متبادل فصلوں کا منصوبہ پہلے ہی تیار رکھا گیا ہے۔اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی کے باعث 903 بورویل عارضی طور پر بند ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس پر اوما مہادیون نے جل جیون مشن کے تحت دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کی دیکھ بھال اور انتظام کی ذمہ داری تربیت یافتہ خواتین سیلف ہیلپ گروپس کو سونپنے کی ہدایت دی۔انہوں نے کہا کہ ضلع کے 350 سے زائد تالابوں میں وافر مقدار میں پانی موجود ہے، اس لیے ان میں مچھلی کے بچے چھوڑنے، ماہی پروری، بھیڑ اور بکری پالنے، انڈوں کی پیداوار اور دیگر دیہی معاشی سرگرمیوں میں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو شامل کیا جائے تاکہ انہیں مستقل روزگار اور آمدنی کے مواقع فراہم ہوں۔غذائی تحفظ اور خواتین کے معاشی استحکام پر زور دیتے ہوئے انہوں نے بیک یارڈ پولٹری یونٹس کے قیام کی بھی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست بھر کے اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز میں روزانہ لاکھوں انڈوں کی ضرورت ہوتی ہے، جسے مقامی سطح پر پیداوار بڑھا کر پورا کیا جا سکتا ہے۔
اوما مہادیون نے ضلع کے 20 ہزار سے زائد ریشم کاشتکاروں کے مفاد میں منریگا کے تحت ریشم کی کاشت، شہتوت کے باغات، بنیادی ڈھانچے اور ٹرنچ کی تعمیر کو فروغ دینے کی ہدایت دی۔ انہوں نے ہر گرام پنچایت میں خواتین سیلف ہیلپ گروپس کے لیے ورک شیڈ تعمیر کرنے اور پرانی سرکاری عمارتوں کی مرمت کرکے انہیں دیہی لائبریریوں اور سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال میں لانے کی بھی ہدایت دی۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر ایم۔ آر۔ روی کمار، ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر پروین پی۔ باگیواڑی، ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کنیکا سکریوال، کے جی ایف پولیس سپرنٹنڈنٹ شیوانشو راجپوت، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ایس۔ ایم۔ منگل اور مختلف محکموں کے ضلعی افسران شریک تھے۔
Post a Comment