Ramalinga Reddy: Every Powerful Photograph Tells a Lasting Story تصویری صحافت تاریخ اور جذبات کی مؤثر ترجمان

تصویر زبان کی محتاج نہیں، جذبات کو دنیا تک پہنچانے کی طاقت رکھتی ہے: رام لنگا ریڈی

کرناٹک میڈیا اکادمی کے قومی سطح کے تصویری صحافت پروگرام کی اختتامی تقریب، بہترین تصاویر کو انعامات سے نوازا گیا

بنگلورو، 4 اگست (حقیقت ٹائمز)

وزیرِ آبی وسائل رام لنگا ریڈی نے کہا ہے کہ تصویر ایک ایسی عالمی زبان ہے جو کسی بھی لسانی رکاوٹ کے بغیر جذبات اور احساسات کو پوری دنیا تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بہترین تصویر کے پیچھے ایک فوٹو جرنلسٹ کی غیر معمولی محنت، صبر، وقت کی درست پہچان اور لگن پوشیدہ ہوتی ہے۔وہ منگل کے روز کرناٹک میڈیا اکادمی اور محکمۂ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے اشتراک سے بنگلورو کے کرناٹک چترکلا پریشد میں پریس فوٹو جرنلسٹوں کے لیے منعقدہ قومی سطح کی تصویری نمائش، مقابلہ اور تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ فوٹو جرنلسٹ اپنی جان کی پروا کیے بغیر اہم واقعات کے ہر لمحے کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرتے ہیں اور یوں تاریخ کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھتے ہیں۔ آج کی دنیا میں فوٹو جرنلسٹوں کے کردار کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ انہوں نے تقریب میں تقریباً سو سال پرانے کیمروں کی نمائش کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ایسے پروگرام بین الاقوامی سطح پر بھی منعقد کیے جانے چاہئیں۔کرناٹک چترکلا پریشد کے صدر ڈاکٹر بی۔ ایل۔ شنکر نے کہا کہ ایک مؤثر تصویر وہ بات بیان کر دیتی ہے جو ہزاروں الفاظ بھی بیان نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کو محفوظ رکھنے میں فوٹو جرنلسٹوں کا کردار بے حد اہم ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی فوٹو جرنلزم کے لیے ایک نیا چیلنج ہے، اس لیے فوٹو جرنلسٹوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ رہنا ہوگا۔

کرناٹک میڈیا اکادمی کی صدر عائشہ خانم نے کہا کہ فوٹو گرافی شاید دنیا کا واحد پیشہ ہے جو سب سے پہلے لوگوں سے "مسکرانے" کی اپیل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصویری صحافت بے آواز لوگوں کی آواز بنتی ہے اور زبانوں کی تمام حدیں عبور کر لیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قومی نمائش میں ملک بھر سے 220 تصاویر پیش کی گئیں، جبکہ اکادمی نے پہلی مرتبہ اس نوعیت کی قومی سطح کی وسیع ورکشاپ منعقد کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہترین تصویر اسی وقت وجود میں آتی ہے جب فوٹو گرافر اپنے دل اور نگاہ کے درمیان کیمرہ رکھ کر حقیقت کو محسوس کرے۔کرناٹک اطلاعاتی کمیشن کی کمشنر ڈاکٹر بی۔ آر۔ ممتا نے کہا کہ ہر تصویر صبر، مستقل مزاجی اور ریاضت کا نتیجہ ہوتی ہے، جبکہ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے میڈیا سکریٹری پربھاکر نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ لوگ رخصت ہو جاتے ہیں، مگر تصویر اور اس میں محفوظ تاریخ ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سدارامیا نے پہلی مرتبہ ایک فوٹو جرنلسٹ کو راجیہ اُتسو اعزاز سے نواز کر تصویری صحافت کی اہمیت کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا تھا۔مقابلے میں کیرالا کے بِنو راج نے پہلا، ممبئی (مہاراشٹر) کے کنال پاٹل نے دوسرا اور تلنگانہ کے ویرگونی رجنی کانت نے تیسرا انعام حاصل کیا۔تقریب میں کرناٹک ورکنگ جرنلسٹس یونین کے ریاستی صدر شیوانند تگڈور، میڈیا اکادمی کے ارکان ڈاکٹر ممتا، عباس اللہ، کنداور وینکٹیش، کرن سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات موجود تھیں۔ اکادمی کے سکریٹری ایل۔ پی۔ گریش نے استقبالیہ کلمات پیش کیے، سینئر صحافی ننجنڈپا نے نظامت کی، جبکہ محکمۂ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ، کلبرگی کے نائب ڈائریکٹر جڈی اپّا گیدلاگٹی نے اظہارِ تشکر ادا کیا۔

0/Post a Comment/Comments