کرناٹک انفارمیشن کمیشن کا تاریخی فیصلہ، گلبرگہ۔یادگیر ڈی سی سی بینک عوامی ادارہ قرار
آر ٹی آئی کے تحت معلومات کی فراہمی اور عوامی اطلاعاتی افسر مقرر کرنے کا حکم
گلبرگہ، 5 اگست (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک انفارمیشن کمیشن کے گلبرگہ بنچ نے ایک اہم فیصلے میں گلبرگہ۔یادگیر ڈسٹرکٹ سنٹرل کوآپریٹیو بینک (ڈی سی سی بینک) کو عوامی ادارہ قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بینک اطلاعات کے حق کے قانون 2005 کی تمام متعلقہ دفعات پر عمل درآمد کرے۔یہ فیصلہ کمیشن کے کمشنر بی وینکٹ سنگھ نے راج کمار آلند کی جانب سے دائر دوسری اپیل کی سماعت کے بعد سنایا۔ درخواست گزار نے بینک کی آلند شاخ میں دی گئی اپنی درخواست پر کی گئی کارروائی کی تفصیلات طلب کی تھیں، تاہم بینک نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اسے حکومت سے خاطر خواہ مالی امداد حاصل نہیں ہوتی، اس لیے وہ اطلاعات کے حق کے قانون کے دائرے میں نہیں آتا۔کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ بینک کو براہِ راست بڑی مالی امداد حاصل نہیں ہوتی، لیکن اس کے انتظامی اور مالی معاملات حکومت کے ضابطوں، ہدایات اور نگرانی کے تحت چلتے ہیں، اس لیے اسے عوامی ادارہ تصور کیا جائے گا۔فیصلے میں کہا گیا کہ بینک کو حکومت کی جانب سے شیئر سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے، چیف ایگزیکٹو افسر اور منیجنگ ڈائریکٹر حکومت مقرر کرتی ہے، بے ضابطگیوں کی صورت میں حکومت کو بینک کی جانچ اور سپرسیڈ کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ انتظامیہ میں سرکاری نمائندوں کی نامزدگی بھی حکومت کرتی ہے۔کمیشن نے مزید نشاندہی کی کہ کسانوں کو فراہم کیے جانے والے قرضوں پر سود حکومت ادا کرتی ہے، قرض معافی کی صورت میں متعلقہ رقم بھی حکومت ہی بینک کو فراہم کرتی ہے، ملازمین کی بھرتی حکومتی منظوری سے ہوتی ہے اور نابارڈ و اپیکس بینک ہر سال بینک کے کام کاج کا معائنہ کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ان تمام حقائق کی بنیاد پر کمیشن نے بینک کو عوامی ادارہ قرار دیتے ہوئے ہدایت دی کہ اطلاعات کے حق کے قانون کی دفعہ 4(1)(الف) اور 4(1)(ب) کے تحت لازمی معلومات شائع کی جائیں، ہر شاخ میں عوامی اطلاعاتی افسر اور پہلا اپیلیٹ اتھارٹی مقرر کی جائے۔ اس سلسلے میں محکمۂ تعاون کے پرنسپل سکریٹری، رجسٹرار آف کوآپریٹو سوسائٹیز اور متعلقہ حکام کو بھی ضروری کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔
جولائی میں 526 مقدمات نمٹائے
کرناٹک انفارمیشن کمیشن کے گلبرگہ بنچ نے جولائی کے دوران 767 مقدمات کی سماعت کی، جن میں سے 526 مقدمات نمٹا دیے گئے۔کمیشن نے معلومات فراہم کرنے میں غفلت برتنے والے مختلف سرکاری افسران پر مجموعی طور پر 60 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا، جبکہ 6 درخواست گزاروں کو مجموعی طور پر 27 ہزار روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔اسی طرح 24 نومبر 2025 سے 31 جولائی 2026 تک کمیشن نے 5,123 مقدمات کی سماعت کی، جن میں سے 2,448 مقدمات نمٹا دیے گئے۔ اس عرصے میں مجموعی طور پر 5 لاکھ 93 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جن میں سے 4 لاکھ 72 ہزار روپے وصول کیے جا چکے ہیں، جبکہ 86 ہزار روپے بطور معاوضہ درخواست گزاروں کو ادا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
Post a Comment