جعلی صحافیوں اور بلیک میلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن
ڈپٹی کمشنر و ایس پی کا ایف آئی آر، گرفتاری اور میڈیا اداروں کو مراسلہ بھیجنے کا اعلان
داونگیرے، 5 اگست (الطاف رضوی)
ضلع ڈپٹی کمشنر جی۔ ایم۔ گنگادھر سوامی نے واضح کیا ہے کہ پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے نام کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری افسران، عوام یا اداروں کو دھمکانے، بلیک میل کرنے یا غیر قانونی طور پر رقم وصول کرنے والے جعلی صحافیوں کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وہ منگل کے روز ضلع ڈپٹی کمشنر دفتر کے کانفرنس ہال میں صحافیوں کے ساتھ منعقدہ پہلے رابطہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ایچ۔ ٹی۔ شیکھر بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بعض افراد خود کو صحافی ظاہر کرکے سرکاری افسران، عوامی نمائندوں اور مختلف اداروں کو دھمکا رہے ہیں، بلیک میل کر رہے ہیں اور غیر قانونی طور پر رقم وصول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ ریت کے کاروبار سے وابستہ بعض افراد کی جانب سے گرام پنچایت ترقیاتی افسران کو بھی دھمکانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس سلسلے میں پولیس کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ میڈیا کے نام پر بلیک میلنگ یا بھتہ خوری میں ملوث کسی بھی شخص کے خلاف، خواہ وہ کسی بھی اخبار یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرے، فوری مقدمہ درج کیا جائے۔
گنگادھر سوامی نے کہا کہ ضلع انتظامیہ، پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مشترکہ طور پر ایسے معاملات کی نگرانی کریں گے۔ اس کے علاوہ متعلقہ اخبار، نیوز چینل یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ایڈیٹر، مالک اور انتظامیہ کو بھی باضابطہ مراسلہ بھیجا جائے گا تاکہ میڈیا کے نام کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ضلع، تعلقہ اور دیہی سطح پر سرکاری دفاتر کو میڈیا کے مجاز نمائندوں کی مستند فہرست فراہم کی جائے گی تاکہ جعلی افراد کی نشاندہی آسان ہو سکے۔ اگر کسی سرکاری افسر کو رات کے وقت فون کے ذریعے دھمکایا گیا، ویڈیوز یا تصاویر کے ذریعے بلیک میل کیا گیا یا سرکاری دفاتر میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی تو ایسے افراد کو فوری طور پر حراست میں لے کر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک تعلقہ میں اس نوعیت کے ایک معاملے میں پہلے ہی مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ عوامی مفاد اور صحافت کے وقار کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں اور ضلعی انتظامیہ یا عوامی اداروں کو بدنام کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت اور چیف سکریٹری کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق سرکاری افسران کو براہِ راست میڈیا سے معلومات یا سرکاری مواد شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ صرف عوامی مفاد اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق معلومات ہی مقررہ ضابطوں کے مطابق جاری کی جائیں گی۔اجلاس میں ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر گٹے مادھوا وٹھل راؤ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شیلونتھ شیوکمار، سٹی ڈی وائی ایس پی بی۔ شرن بسویشور، محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے سینئر اسسٹنٹ ڈائریکٹر دھننجپا، ڈسٹرکٹ رپورٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ناگراج ایس۔ بادل، سابق صدور ملکارجن کباڑو، ڈاکٹر بسوراج، ڈاکٹر رامیش سمیت متعدد صحافی اور افسران موجود تھے۔
Post a Comment