Education Is the Real Foundation of National Progress: Prof. Mohammad Mohsin Khan تعلیم قوموں کی حقیقی ترقی کی بنیاد ہے: پروفیسر محمد محسن خان

تعلیم ہی قوموں کی حقیقی ترقی کی بنیاد ہے: پروفیسر محمد محسن خان

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں "کھوج سفر" وفد کی اہم ملاقاتیں، علومِ قرآن اور تعلیمی تعاون کے فروغ پر زور

علی گڑھ/کالی کٹ (عبدالکریم امجدی)

انڈیا کنیکٹ کے تحت ہولی قرآن ایوارڈ کی تشہیری مہم "کھوج سفر" کے وفد نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں مختلف علمی و تعلیمی مراکز کا معائنہ، اہم شخصیات سے ملاقاتیں اور تعلیم، تحقیق، علومِ قرآن اور باہمی تعاون کے فروغ سے متعلق تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفد کی قیادت سید احمد کبیر البخاری نے کی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچنے پر ایس ایس ایف اے ایم یو یونٹ اور ملیالی ایسوسی ایشن کی جانب سے وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر ملک گیر "کھوج سفر" اور قرآن بیداری مہم کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا گیا۔وفد نے یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی سماجی، فکری اور تہذیبی ترقی کی حقیقی بنیاد ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اقدار پر مبنی تعلیم، اخلاقی تربیت اور معیاری تعلیمی نظام ہی باشعور، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔وفد نے مدین اکیڈمی کی تیس سالہ تقریبات اور ہولی قرآن ایوارڈ کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس قومی منصوبے کا مقصد ملک بھر کے طلبہ اور تعلیمی اداروں میں قرآنِ کریم کی تلاوت، حفظِ قرآن اور قرآنی شعور کو فروغ دینا ہے۔

دورے کے دوران وفد نے کے۔ اے۔ نظامی مرکز برائے قرآنی علوم و مخطوطات کا بھی دورہ کیا، جہاں علومِ قرآن، نادر مخطوطات کے تحفظ، تحقیقی اشتراک اور قرآنی تعلیم کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ نشست میں اسلامی علمی ورثے کے تحفظ اور جدید تحقیقی تقاضوں سے ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔بعد ازاں وفد نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات کا دورہ کیا، جہاں اسلامیات، اعلیٰ تعلیم، تحقیقی تعاون اور قرآنی و اسلامی علوم میں مشترکہ تعلیمی منصوبوں کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے ممتاز اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی۔وفد میں سید احمد کبیر البخاری، حضرت بشیر سعدی (کیرالا) سمیت متعدد ذمہ داران شامل تھے، جبکہ تعلیمی وفد میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحیم (چیئرمین، شعبۂ میوزیالوجی)، ڈاکٹر عبدالعزیز این۔ پی (شعبۂ معاشیات)، ڈاکٹر منیر ارم کژھیان (شعبۂ انگریزی)، ڈاکٹر سبیر پی۔ ایم (شعبۂ غیر ملکی زبانیں)، رفصل بابو سی۔ وی۔ (شعبۂ جدید ہندوستانی زبانیں) اور ڈاکٹر حمید میاں (کے۔ اے۔ نظامی مرکز برائے قرآنی علوم) شریک تھے۔شعبۂ اسلامیات کی جانب سے پروفیسر آدم ملک خان، پروفیسر عبدالحمید فاضلی، پروفیسر ڈاکٹر بلال احمد کٹی اور ڈاکٹر ایاز احمد بھی اس نشست میں موجود تھے۔مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ دورہ تعلیمی تعاون کو مضبوط بنانے، اخلاقی اقدار کے فروغ، علومِ قرآن کی اشاعت اور نوجوان نسل کو علم و کردار سے آراستہ کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ ملک بھر میں علم، کردار سازی اور قرآنی تعلیم کے فروغ کے لیے تعلیمی اداروں اور علمی و سماجی تنظیموں کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔

0/Post a Comment/Comments