مولانا آزاد ماڈل اسکول سرینواسپور میں اساتذہ کی کمی، طلبہ کا مستقبل داؤ پر
شبیر احمد کا دورہ، خالی تدریسی اسامیاں فوری پُر کرنے کا مطالبہ
سرینواسپور، 9 جون (شبیر احمد)
وزیر اعظم کے نئے 15 نکاتی پروگرام کی ضلعی کمیٹی کے رکن شبیر احمد نے سرینواسپور کے چنتامنی روڈ پر واقع محکمہ اقلیتی بہبود کے زیرِ انتظام گورنمنٹ مولانا ابوالکلام آزاد ماڈل اسکول کا دورہ کرکے تعلیمی سرگرمیوں، داخلہ مہم اور طلبہ کی تعلیمی پیش رفت کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے اسکول کی ہیڈ مسٹریس اور اساتذہ سے ملاقات کرتے ہوئے نئے تعلیمی سال کے داخلوں، طلبہ کی حاضری میں اضافے اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے اسکول میں دستیاب بنیادی سہولیات، تدریسی انتظامات اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی تعلیمی رہنمائی کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔شبیر احمد نے دسویں جماعت (ایس ایس ایل سی) کے طلبہ سے ملاقات کرکے ان کی تعلیمی کارکردگی اور امتحانات کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بہتر نتائج کے حصول کے لیے تعلیمی سال کے آغاز ہی سے منظم منصوبہ بندی کے ساتھ خصوصی تربیت فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ہیڈ مسٹریس ارونا کو مشورہ دیا کہ مختلف مضامین کے لیے خصوصی کوچنگ کلاسیں، باقاعدہ ماڈل امتحانات اور مسلسل تعلیمی جائزہ پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ طلبہ سو فیصد کامیابی حاصل کر سکیں۔انہوں نے اسکول کی جانب سے گزشتہ برسوں کے دوران داخلوں میں اضافے اور تعلیمی میدان میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے روشن مستقبل کی تعمیر میں اساتذہ کا کردار نہایت اہم ہے۔ معیاری تعلیم ہی اقلیتی طلبہ کو ترقی اور کامیابی کی نئی راہوں سے ہمکنار کر سکتی ہے۔شبیر احمد نے توجہ دلائی کہ تقریباً 140 طلبہ پر مشتمل اس اسکول میں فی الحال صرف ایک ہیڈ مسٹریس اور پانچ مہمان اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہندی زبان کے استاد کی اسامی طویل عرصے سے خالی ہے، جبکہ جسمانی تربیت (پی ٹی) کے استاد کی عدم دستیابی بھی طلبہ کی ہمہ جہت ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی کمی کے باوجود اسکول کا تدریسی عملہ قابلِ ستائش خدمات انجام دے رہا ہے، تاہم طلبہ کے بہتر مستقبل کے لیے مستقل اساتذہ کی تقرری ناگزیر ہے۔شبیر احمد نے محکمہ اقلیتی بہبود اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسکول میں خالی تدریسی اسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے اور ضروری عملے کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیمی ماحول اور بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ اقلیتی طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنا حکومت اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور ایسے تعلیمی اداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ طلبہ مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔اس موقع پر ہیڈ مسٹریس ارونا، اسکول کے اساتذہ، اقلیتی معلوماتی مرکز کے عملہ کے ارکان مبارک پاشا، نواز پاشا اور دیگر موجود تھے۔
Post a Comment