کرتویہ ایپ سے حاضری لازمی، صبح دس بجے تک چیک اِن ضروری
چیف سکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش کی تمام سرکاری ملازمین کو سخت ہدایت
بنگلورو، 5 جون (شبیر احمد)
ریاستی حکومت نے تمام سرکاری افسران اور ملازمین کے لیے کرتویہ (KAAMS) ایپ کے ذریعے حاضری درج کرنا لازمی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ روزانہ صبح 10 بجے سے قبل چیک اِن اور دفتری اوقات کے اختتام پر چیک آؤٹ کرنا ضروری ہوگا۔ اس سلسلے میں چیف سکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش نے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ودھان سودھا میں 4 جون کو منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد چیف سکریٹری نے جمعہ کے روز ایک باضابطہ سرکاری مکتوب جاری کرتے ہوئے تمام محکموں، کارپوریشنوں، بورڈز اور سرکاری اداروں کو اس پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی۔سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کے ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم (HRMS) سے مربوط کرتویہ ایپ میں اب بھی متعدد افسران اور ملازمین کی جانب سے حاضری درج کرنے میں لاپرواہی برتی جا رہی تھی، جس کے باعث انتظامی نگرانی اور جوابدہی کو مؤثر بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام ایڈیشنل چیف سکریٹریز، پرنسپل سکریٹریز، سکریٹریز، محکموں کے سربراہان اور دیگر سرکاری ملازمین کو روزانہ صبح 10 بجے تک ایپ میں اپنی حاضری درج کرنی ہوگی، جبکہ دفتری اوقات مکمل ہونے پر چیک آؤٹ کرنا بھی لازمی ہوگا۔تمام محکموں اور علاقائی دفاتر کے سربراہان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے لاگ اِن کے ذریعے کرتویہ ڈیش بورڈ پر ملازمین کی حاضری کی مسلسل نگرانی کریں اور سو فیصد عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی افسر یا ملازم دفتری اوقات کے دوران سرکاری کام کے سلسلے میں دفتر سے باہر ہو تو اسے ایپ میں موجود OOD (Out of Office Duty) آپشن کے ذریعے متعلقہ تفصیلات درج کرنا ہوں گی۔ ضابطوں کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔حکام کے مطابق کرتویہ ایپ میں حال ہی میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے، جس سے حاضری کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا گیا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے سرکاری ملازمین میں وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور جوابدہی کے کلچر کو فروغ ملے گا۔چیف سکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش کی جانب سے جاری یہ ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں اور تمام سرکاری اداروں کو ان پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

Post a Comment