ایمانداری زندہ ہے؛ درزی نے لاکھوں مالیت کا گمشدہ سامان لوٹا دیا
پولیس نے مثالی شہری قرار دے کر چندرن کی ستائش کی
کے جی ایف، 10 جون (شبیر احمد)
ایمانداری اور دیانت داری کی ایک شاندار مثال پیش کرتے ہوئے شہر کے ایک درزی نے مارکیٹ میں ملنے والا قیمتی زیورات اور نقدی سے بھرا وینٹی بیگ پولیس کے حوالے کر دیا، جسے بعد ازاں اس کے اصل مالک تک بحفاظت پہنچا دیا گیا۔ اس قابلِ ستائش اقدام پر پولیس محکمہ نے درزی چندرن کی بھرپور تعریف کی ہے۔تفصیلات کے مطابق سنجے گاندھی نگر کی رہائشی گوتَمی خریداری کی غرض سے شہر کے مصروف ایم جی مارکیٹ گئی تھیں۔ خریداری کے بعد جب وہ گھر واپس پہنچیں تو انہیں احساس ہوا کہ ان کا وینٹی بیگ راستے میں کہیں گم ہو گیا ہے۔ بیگ میں تقریباً تین لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات اور پانچ ہزار روپے نقد رقم موجود تھی، جس کے باعث وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئیں۔اسی دوران 8 جون کی رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے بالاکرشنا لے آؤٹ کے رہائشی اور پیشہ سے درزی 59 سالہ چندرن کو ایم جی مارکیٹ روڈ پر ایک لاوارث بیگ ملا۔ چندرن نے غیر معمولی دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیگ کو اپنے پاس رکھنے کے بجائے فوری طور پر رابرٹسن پیٹ پولیس اسٹیشن پہنچ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔پولیس نے بیگ میں موجود اشیاء اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ جانچ کے دوران بیگ کی مالک گوتَمی کا سراغ لگا لیا گیا، جس کے بعد بیگ میں موجود تمام سونے کے زیورات اور نقد رقم بحفاظت ان کے حوالے کر دی گئی۔اپنا گم شدہ قیمتی سامان واپس ملنے پر گوتَمی نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رابرٹسن پیٹ پولیس اور چندرن کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چندرن کی ایمانداری اور پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث ان کا قیمتی سامان محفوظ طور پر واپس مل سکا۔اس موقع پر ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ شیوانشو راجپوت سمیت دیگر پولیس افسران لکشمیا وی، انیل کمار ایم ایس اور مہیش مالی نے چندرن کی دیانت داری اور سماجی ذمہ داری کے جذبے کو سراہتے ہوئے انہیں ایک مثالی شہری قرار دیا۔ پولیس حکام نے کہا کہ ایسے افراد معاشرے میں اعتماد، اخلاقی اقدار اور انسانی ہمدردی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ عوامی مقامات پر اپنے قیمتی سامان کی حفاظت کے لیے خصوصی احتیاط برتیں اور اگر کسی کو کوئی گم شدہ سامان ملے تو اسے فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن کے حوالے کریں تاکہ وہ اس کے اصل مالک تک پہنچایا جا سکے۔یہ واقعہ معاشرے میں دیانت داری، امانت داری اور انسانی اقدار کی ایک روشن مثال بن کر سامنے آیا ہے، جس نے ثابت کیا ہے کہ آج بھی ایسے باکردار افراد موجود ہیں جو ذاتی مفاد کے بجائے اخلاقی ذمہ داری کو ترجیح دیتے ہیں۔
Post a Comment