Deve Gowda Dismisses Rajya Sabha Row, Says Bond with Modi Goes Far Beyond a Seat راجیہ سبھا نہ ملی تو کیا، مودی سے رشتہ مضبوط ہے

راجیہ سبھا نشست کا نہ مطالبہ کیا نہ خواہش — دیوے گوڑا کا دو ٹوک اعلان

مودی سے تعلق اعتماد اور احترام پر قائم، کانگریس کی سیاست بے بنیاد ہے

بنگلورو، 10 جون (حقیقت ٹائمز) 

 سابق وزیر اعظم اور جنتا دل (سیکولر) کے قومی صدر ایچ ڈی دیوے گوڑا نے کہا ہے کہ ان کا اور وزیر اعظم نریندر مودی کا باہمی تعلق راجیہ سبھا کی ایک نشست سے کہیں زیادہ مضبوط اور گہرا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ راجیہ سبھا کی رکنیت کے حوالے سے گزشتہ چند دنوں سے جاری بحث غیر ضروری ہے اور اس معاملے میں انہوں نے کبھی کوئی خواہش یا مطالبہ ظاہر نہیں کیا۔بنگلورو میں جے ڈی ایس کے ریاستی دفتر جے پی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیوے گوڑا نے کہا کہ تقریباً ستر برس پر محیط اپنی سیاسی زندگی میں انہوں نے ہمیشہ اقتدار کے بجائے عوامی خدمت کو ترجیح دی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ انہیں کسی عہدے یا منصب کا لالچ نہیں اور نہ ہی راجیہ سبھا کی رکنیت ان کی سیاسی ترجیحات میں شامل رہی ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ راجیہ سبھا کی نشست نہ ملنے پر انہیں مایوسی یا بے عزتی کا احساس ہوا ہے، لیکن ایسی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے بیانات کو وہ کوئی اہمیت نہیں دیتے کیونکہ ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔دیوے گوڑا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ راجیہ سبھا کی ایک نشست اس تعلق کو متاثر کر سکتی ہے تو یہ محض غلط فہمی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں وہ مودی کے سخت ناقد رہے ہیں، لیکن گزشتہ برسوں میں انہوں نے ان کی قیادت اور طرز حکمرانی کو قریب سے سمجھا ہے اور ان کے کئی اقدامات کی کھلے دل سے ستائش بھی کی ہے۔انہوں نے کانگریس رہنماؤں کی جانب سے دیے جانے والے بیانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی عناصر اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خاموش بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہیں بلکہ پارٹی کی مضبوطی اور کارکنوں کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتے رہیں گے۔دیوے گوڑا نے کہا کہ نریندر مودی کو صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور یہ ملک کے لیے مثبت بات ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا مودی کے ساتھ تعلق سیاسی مفادات کے بجائے ذاتی اعتماد اور احترام پر قائم ہے، جو مستقبل میں بھی برقرار رہے گا، خواہ وہ پارلیمنٹ میں ہوں یا نہ ہوں۔اپنی سیاسی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ 1954-55 سے عملی سیاست میں سرگرم ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مسلسل کام کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے آج انہیں کسی عہدے کے حصول کے لیے تگ و دو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر واقعی انہیں راجیہ سبھا جانے کی خواہش ہوتی تو وہ گزشتہ ماہ نئی دہلی کے دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی یا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے اس موضوع پر گفتگو کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ انہوں نے کبھی اس سلسلے میں کوئی درخواست یا مطالبہ پیش نہیں کیا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس کے بعض رہنما اس مسئلے کو غیر ضروری طور پر اچھال کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم وہ اس قسم کی تنقید یا بیان بازی کا جواب دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق وہ مستقبل میں بھی پارٹی اور کارکنوں کی خدمت کے لیے سرگرم رہیں گے اور یہی ان کی اولین ترجیح ہے۔پریس کانفرنس میں جے ڈی ایس کے متعدد رہنما اور عہدیداران بھی موجود تھے۔

0/Post a Comment/Comments