کے پی سی سی میں انتخابی حکمت عملی پر غور، کارکنان کو متحرک کرنے کا فیصلہ
پریانک کھرگے کی حمایت، بی جے پی پر جمہوری اقدار کمزور کرنے کا الزام
بنگلورو، 10 جون (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے دفتر میں منعقدہ کارکنان کے اجلاس اور پریس کانفرنس میں نو نامزد کے پی سی سی صدر بی۔ کے۔ ہری پرساد، کارگزار صدر جی۔ سی۔ چندر شیکھر اور منجوناتھ بھنڈاری نے پارٹی تنظیم کو مزید مضبوط بنانے، کارکنان کی اہمیت اور آئندہ انتخابی چیلنجوں پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔بی۔ کے۔ ہری پرساد نے کہا کہ وہ 21 جون کو منعقد ہونے والے عہدہ سنبھالنے کے پروگرام میں تمام اہم سیاسی اور تنظیمی امور پر تفصیل سے بات کریں گے۔ انہوں نے کارکنان سے اپیل کی کہ انہیں مبارکباد کے طور پر شال یا پھول پیش کرنے کے بجائے وہی رقم کانگریس پارٹی کے فنڈ میں جمع کرائیں تاکہ پارٹی مزید مضبوط ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس غریبوں اور عام لوگوں کی جماعت ہے۔ ایک طرف کانگریس کے پاس محدود وسائل ہیں جبکہ دوسری جانب بی جے پی کے پاس ہزاروں کروڑ روپے کے وسائل موجود ہیں، اس کے باوجود کانگریس نظریات اور عوامی خدمت کی بنیاد پر اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔بی۔ کے۔ ہری پرساد نے یقین دلایا کہ پارٹی میں مخلص اور فعال کارکنان کو ترجیح دی جائے گی اور مقامی اداروں کے انتخابات میں ایسے کارکنان کو ٹکٹ دیا جائے گا جو عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں، چاہے ان کے پاس مالی وسائل کم ہی کیوں نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سال کانگریس کارکنان کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ اس دوران بلدیاتی انتخابات، ضمنی انتخابات اور بعد ازاں اسمبلی و لوک سبھا انتخابات کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے پارٹی کارکنان پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر بی جے پی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں کا مقابلہ کریں۔

سورج ہیگڑے کو خراجِ عقیدت
کے پی سی سی کے کارگزار صدر جی۔ سی۔ چندر شیکھر نے اے آئی سی سی سکریٹری اور کانگریس رہنما سورج ہیگڑے کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات کانگریس کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔انہوں نے کہا کہ سورج ہیگڑے اپنی ناسازیٔ صحت کے باوجود پارٹی کے لیے سرگرم رہے اور تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ ان کی زندگی پارٹی کارکنان کے لیے خدمت، عزم اور قربانی کی روشن مثال ہے۔چندر شیکھر نے کہا کہ بی۔ کے۔ ہری پرساد کی تقرری اس بات کا ثبوت ہے کہ کانگریس قیادت زمینی سطح پر کام کرنے والے کارکنان کو اہم ذمہ داریاں سونپنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 21 جون کو بنگلورو کے پیالیس گراؤنڈ میں ہری پرساد کے عہدہ سنبھالنے کی تقریب بڑے پیمانے پر منعقد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں دو ضمنی انتخابات، گریٹر بنگلورو اتھارٹی انتخابات، بلدیاتی انتخابات اور 2028 کے اسمبلی انتخابات جیسے اہم چیلنج درپیش ہیں، جن کا مقابلہ مضبوط تنظیم اور کارکنان کے تعاون سے کیا جائے گا۔جی۔ سی۔ چندر شیکھر نے وزیر اعلیٰ سدارامیا کے کردار کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ قیادت کی منتقلی اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے جس تدبر اور وسیع النظری کا مظاہرہ کیا گیا، وہ پورے ملک کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پارٹی اتحاد کو برقرار رکھا گیا۔

بی۔ کے۔ ہری پرساد کی نصف صدی پر محیط خدماتت
کارگزار صدر منجوناتھ بھنڈاری نے کہا کہ بی۔ کے۔ ہری پرساد گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں سے کانگریس پارٹی کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ اقتدار کے بجائے تنظیم اور کارکنان کو ترجیح دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہری پرساد ایک ایسے رہنما ہیں جو ریاست کے ہر ضلع اور حلقے کے کارکنان کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور نوجوان قیادت کی تربیت میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے۔
بی جے پی پر جمہوری اقدار کو نقصان پہنچانے کا الزام
صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کانگریس رہنماؤں نے راجیہ سبھا انتخابات میں میناکشی نٹراجن کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کیے جانے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی جمہوری عمل کو کمزور کرنے اور انتخابی نظام کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔آر ایس ایس کے رجسٹریشن سے متعلق وزیر پریانک کھرگے کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ پریانک کھرگے آئینی حدود کے اندر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور ان کے مؤقف سے اتفاق کیا جاتا ہے۔اجلاس میں کارکنان نے پارٹی کی تنظیمی مضبوطی، عوامی رابطہ مہم اور آئندہ انتخابات کی تیاری کے لیے متحد ہو کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
Post a Comment