مٹی کا قرض— بھارتی راجا کے نام
از: جمیل احمد ملنسار
میں نے ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ عظیم فن کار وہ نہیں ہوتا جو دنیا کو بدل دے — عظیم فن کار وہ ہوتا ہے جو دنیا کو دنیا سے ملا دے۔ بھارتی راجا کو یاد کرتے ہوئے یہ جملہ بار بار ذہن میں گونجتا ہے۔۱۹۷۷ء میں جب "16 وَیتھینِلے" ( سولہ برس میں) ریلیز ہوئی، تمل سنیما اس وقت اپنی ہی چمک میں کھویا ہوا تھا۔ شہری زندگی، مصنوعی جذبات، اور اسٹوڈیو کی روشنیاں — یہی سنیما تھا۔ بھارتی راجا نے کیمرہ اٹھایا اور گاؤں کی طرف چل دیے۔ یہ کوئی سادہ فیصلہ نہیں تھا۔ یہ ایک اعلانِ بغاوت تھا۔
سوچیے ذرا — جس وقت پوری فلم انڈسٹری سیٹ پر روشنیاں لگا رہی تھی، اس وقت ایک شخص دھوپ میں کھڑے کسان کے چہرے پر پڑنے والی پرچھائیں فلما رہا تھا۔ جب دوسرے محبت کو گیتوں میں لپیٹ رہے تھے، وہ محبت کو آنکھوں کی خاموشی میں ڈھونڈ رہا تھا۔ کِژَکّے پوگُم رَیل (جنوبی سمت ریل)، سِگَپّو روژَکّال ( لال گلاب)، مُدھَل ماریَادَی ( پیلا اعزاز) — یہ فلمیں نہیں، دستاویزیں ہیں۔ ایک ایسے ہندوستان کی دستاویزیں جو اکثر اخبار کی سرخیوں میں نہیں آتا، مگر ہمیشہ سے موجود ہے۔

مُدھَل ماریَادَی کو لے لیجیے۔ ایک عمررسیدہ مرد اور ایک نوجوان عورت کے درمیان وہ نسبت جو نہ عشق کی تعریف میں آتی ہے، نہ معاشرے کی قبولیت میں — مگر اس کی پاکیزگی پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ فلم نے نیشنل ایوارڈ جیتا۔ مگر اس سے بڑی بات یہ ہے کہ فلم نے سوال اٹھایا — کیا انسانی جذبات کو ہمیشہ خانوں میں بند رکھنا ضروری ہے؟ یہ سوال آج بھی اتنا ہی تازہ ہے جتنا ۱۹۸۵ء میں تھا۔چالیس سے زائد فلمیں۔ ہر فلم میں وہی مٹی، وہی لوگ، وہی سچائی۔ انہیں اِیّاکُّنَر اِمَّیَم کہا گیا —( ہدایت کاروں میں ہمالیہ)۔ لقب درست ہے۔ مگر میں کہوں گا کہ وہ ہمالیہ سے زیادہ اس ندی کی مانند تھے جو ہمالیہ سے نکلتی ہے — خاموشی سے بہتی ہے، مگر جہاں سے گزرتی ہے، زمین کو سیراب کر جاتی ہے۔
آج جب ہم علاقائی سنیما کی عالمی کامیابی کا جشن مناتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ راہ کسی نے پہلے بنائی تھی۔ جن ہدایت کاروں نے بعد میں گاؤں، غربت، اور انسانی رشتوں کو سنیما کا موضوع بنایا — انہوں نے جانے انجانے بھارتی راجا کی بچھائی ہوئی پگڈنڈی پر قدم رکھا۔ وراثت یہی ہوتی ہے — نہ کوئی سرٹیفکیٹ، نہ کوئی مجسمہ۔ بس ایک کڑی جو آگے جڑتی چلی جاتی ہے۔ایک بات اور۔ بھارتی راجا نے کبھی پیغام دینے کی کوشش نہیں کی۔ یہی ان کی سب سے بڑی خوبی تھی۔ جو فن کار پیغام دینے نکلتا ہے، وہ اکثر تقریر کرتا ہے۔ جو سچ دکھانے نکلتا ہے، وہ فن تخلیق کرتا ہے۔ بھارتی راجا نے کبھی تقریر نہیں کی — انہوں نے ہمیشہ آئینہ دکھایا۔ اور آئینے میں جو صورت نظر آئی، وہ ہماری اپنی تھی۔
مٹی کا قرض ہوتا ہے۔ بھارتی راجا نے وہ قرض چکایا — اپنے فن سے، اپنی محنت سے، اپنی دیانت سے۔ ہم پر بھی یہ قرض ہے — کہ انہیں یاد رکھیں۔ نہ محض ایوارڈوں اور لقبوں میں — بلکہ اس روح میں جو انہوں نے سنیما کو دی۔اور وہ روح کہتی ہے: کہانی وہاں ہے جہاں انسان ہے — اسٹوڈیو میں نہیں، زمین پر۔
Post a Comment