A Life Devoted to Service: The Inspiring Journey of Dr. Gourma Siddareddy خدمت، جدوجہد اور بااختیاری کی داستان: ڈاکٹر گورما سِدھاریڈی

سماجی خدمت کو زندگی کا مشن بنانے والی خاتون رہنما

ڈاکٹر گورما سِدھاریڈی نے جدوجہد اور کامیابیوں کی داستان سنائی

بیدر، 11 جون (جی چندراکانتھ) 

کمزور طبقات، دلت برادری اور بے سہارا خواتین کی فلاح و بہبود اور ان کے بااختیار بنانے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کرنا ہی میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اور مقصد ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف سماجی کارکن ڈاکٹر گورما سِدھاریڈی نے کیا۔وہ بدھ کے روز بیدر میں محکمۂ کنڑ و ثقافت، گلبرگہ ڈویژن کی جانب سے منعقدہ "سادھکروں کے ساتھ مکالمہ-2026" پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے اپنی زندگی، خدمات اور سماجی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال رہی تھیں۔ڈاکٹر گورما سِدھاریڈی نے بتایا کہ ان کا تعلق بنیادی طور پر ضلع وجئے پور سے ہے۔ 1965 میں ڈاکٹر ایس۔ ایس۔ سِدھاریڈی سے شادی کے بعد وہ بیدر منتقل ہوئیں اور اسی وقت سے سماجی خدمت کے میدان میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم سے محروم بچوں کی مدد اور خواتین کی ترقی ہمیشہ ان کی ترجیحات میں شامل رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ شادی کے بعد بھی انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور ایم اے (انگریزی) کی ڈگری حاصل کی، جس میں ان کے شوہر کی بھرپور حوصلہ افزائی اور تعاون شامل رہا۔ڈاکٹر گورما سِدھاریڈی نے کہا کہ انہیں چالیس سے زائد سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ انہوں نے "کیتور رانی چنّما مہیلا منڈل" قائم کرکے ہزاروں خواتین کو خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ کچی آبادیوں میں بچوں کی نگہداشت کے مراکز قائم کرنے، معذور خواتین کے لیے رہائشی سہولیات فراہم کرنے، مفت سلائی مشینوں کی تقسیم اور قانونی بیداری کے متعدد پروگراموں کو کامیابی سے نافذ کیا۔انہوں نے بتایا کہ حکومتِ کرناٹک نے سن 2000 میں انہیں خواتین کی ترقی سے متعلق ٹاسک فورس کمیٹی کی صدر مقرر کیا تھا۔ اس کمیٹی کی سفارشات کے نتیجے میں وجئے پور میں خواتین یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا، جبکہ ریاست کے ہر ضلع میں خواتین پولیس اسٹیشن اور خواتین کی شکایات کی سماعت کے خصوصی نظام کو فروغ ملا۔اپنی خدمات کے اعتراف میں حاصل ہونے والے اعزازات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتِ کرناٹک نے 2005 میں انہیں کیتور رانی چنّما ایوارڈ سے نوازا، جبکہ 2018 میں انہیں ایشیا پیسفک بین الاقوامی ایوارڈ اور گلبرگہ یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ بھی عطا کی گئی۔پروگرام میں ادیباؤں پاروتی سونارے، بھارتی وسترد، منگلا بھاگوت اور دیگر دانشوروں نے ڈاکٹر گورما سِدھاریڈی سے مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا۔ محکمۂ کنڑ و ثقافت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سدرام سندھے نے مہمانوں کا استقبال کیا جبکہ گلبرگہ ڈویژن کے جوائنٹ ڈائریکٹر بسوراج ہوگار نے تمہیدی خطاب پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت دیوداس جوشی نے انجام دی۔اس موقع پر ضلع بھر کے ادباء، دانشور، طلبہ، خواتین تنظیموں کے نمائندے اور سماجی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔

0/Post a Comment/Comments