کرناٹک یونیورسٹی میں اردو کا رنگ، ادبی میلے نے سب کو متاثر کیا
ریاست بھر کے طلبہ کی شرکت، تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار
دھارواڑ، 13 اپریل (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک یونیورسٹی دھارواڑ کے شعبۂ اردو و فارسی کے زیرِ اہتمام 9 اپریل کو ایک پروقار اور یادگار بین الکلیاتی ادبی میلہ منعقد کیا گیا، جس میں ریاست کے مختلف اضلاع سے 21 کالجوں کے طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ اس ادبی میلے کا بنیادی مقصد نئی نسل کو اردو زبان و ادب کی اہمیت سے روشناس کرانا اور طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنا تھا۔مقابلہ جات میں نعت خوانی، غزل سرائی، تقریری مقابلہ (بعنوان: مصنوعی ذہانت اور اردو زبان) اور ادبی معلوماتی مقابلہ شامل تھے، جن میں طلبہ نے اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا اور حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔تقریب کا آغاز قاری احمد علی ہنچنمنی کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں شاہین بھاوی کٹی نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جبکہ طلبہ نے قومی و ثقافتی نغمات اور ترانۂ اردو پیش کر کے محفل کو روح پرور بنا دیا۔افتتاحی اجلاس کے مہمانِ خصوصی شیخ الجامعہ پروفیسر اے۔ ایم۔ خان نے پودے کی آبیاری کر کے میلے کا افتتاح کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے اردو زبان کی شیرینی، وسعت اور اس کی تہذیبی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ مشترکہ تہذیب اور بھائی چارے کی علامت ہے۔ انہوں نے اردو کی سرپرستی کرنے والے قومی رہنماؤں کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی ہمہ گیر حیثیت کو اجاگر کیا اور کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔اعزازی مہمان پروفیسر سیتارام پوار نے اردو اور ہندی کے درمیان لسانی ہم آہنگی پر زور دیا، جبکہ پروفیسر ایم ایچ اگڑی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔شعبہ کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شکیلہ بانو گوری خان نے مہمانوں اور طلبہ کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ بزمِ ادب اردو کے سیکریٹری احمد رضا نائک نے پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اردو کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تقریب کی نظامت عرفان بیالی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔اختتامی تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر ڈاکٹر ناصر بی نالتواڑ نے شرکت کرتے ہوئے طلبہ کو معیاری اردو سیکھنے اور اسے روزمرہ زندگی میں اپنانے کی تلقین کی۔ اس موقع پر کئی ممتاز اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز نے بھی شرکت کر کے پروگرام کو چار چاند لگا دیے۔تقسیمِ انعامات کے دوران مختلف مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو ٹرافیز اور اسناد سے نوازا گیا، جبکہ مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر نہرو کالج ہبلی نے چیمپئن ٹرافی اپنے نام کی۔ تمام شریک طلبہ کو بھی توصیفی اسناد پیش کی گئیں۔آخر میں منتظمین نے تمام مہمانوں، اساتذہ اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔ یہ ادبی میلہ اردو زبان و ادب کے فروغ کی جانب ایک اہم اور قابلِ قدر قدم ثابت ہوا۔
Post a Comment