نصیر احمد کی برطرفی پر ڈی کے شیوکمار کا ردعمل
پارٹی نظم و ضبط فیصلہ کی بنیاد قرار، ذمہ داری میں ناکامی کا اشارہ
بنگلورو، 14 اپریل (حقیقت ٹائمز)
نائب وزیر اعلیٰ و کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار نے وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر کے عہدے سے رکن کونسل نصیر احمد کی برطرفی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کے بعد پارٹی کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے منگل کے روز سداشیو نگر میں اپنی رہائش گاہ اور کے پی سی سی دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نصیر احمد کو داونگیرے جنوبی اسمبلی حلقہ میں باغی امیدوار کو واپس لینے کے لیے پارٹی کی جانب سے ذمہ داری دی گئی تھی، تاہم وہ اس ذمہ داری کو مؤثر طریقے سے نبھانے میں ناکام رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر مکمل رپورٹ ابھی موصول ہونا باقی ہے۔ریاستی وزیر ضمیر احمد خان پر کارروائی کے امکانات پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے واضح کیا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے نظم و ضبط نہایت اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے تمام قائدین کو اعتماد میں لے کر امیدوار کا انتخاب کیا تھا اور مسلسل رابطے میں بھی رہے، مگر مختلف رپورٹس کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ نے یہ فیصلہ لیا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، تو انہوں نے لاعلمی ظاہر کی۔
نائب وزیر اعلیٰ نے ارکانِ اسمبلی کو مشورہ دیا کہ وہ میڈیا سے بات کرتے وقت احتیاط برتیں اور پارٹی نظم و ضبط کا خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارتی عہدے کی خواہش رکھنا یا دہلی جانا کوئی غلط بات نہیں، لیکن پارٹی کے اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ ارکانِ اسمبلی سے انفرادی طور پر ملاقات کر کے مستقبل کی حکمت عملی،بالخصوص بلدیاتی اور مقامی اداروں کے انتخابات کے حوالے سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پارٹی صدر کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ رہنماؤں کی رہنمائی کریں اور آئندہ لائحہ عمل طے کریں۔ڈی کے شیوکمار نے یہ بھی کہا کہ داونگیرے جنوبی اور باگلکوٹ کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے ارکانِ اسمبلی سے رپورٹس موصول ہو رہی ہیں، جن کی بنیاد پر آئندہ فیصلے کیے جائیں گے۔
Post a Comment