کولار میں اقلیتی تعلیم و ترقی پر توجہ، خواتین کیلئے وقف پی یو کالج کے قیام کا فیصلہ
جائزہ اجلاس میں تعلیمی سہولیات، ہاسٹل منصوبوں اور فلاحی اسکیموں کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت
کولار 17 اپریل (شبیر احمد)
ضلع کولار میں اقلیتی طبقات کی تعلیمی اور سماجی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ایم۔ آر۔ روی نے کہا کہ سرکاری منصوبے صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے فوائد براہِ راست عوام تک پہنچنے چاہئیں۔وہ ڈپٹی کمشنر دفتر میں منعقدہ ’’وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام‘‘ کے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جس میں مختلف اسکیموں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اقلیتی طالبات کو اعلیٰ تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے ایک نئے ’’وقف خواتین پی یو کالج‘‘ کے قیام کا اہم فیصلہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دی کہ مستقل عمارت کی عدم دستیابی کو بہانہ بنا کر تعلیمی سرگرمیوں میں تاخیر نہ کی جائے، بلکہ عارضی طور پر کمیونٹی ہال یا کسی موزوں عمارت کو کرایہ پر لے کر فوری طور پر کالج شروع کیا جائے۔انہوں نے گاجل دنّے میں واقع ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام رہائشی اسکول کی جانب سے مسلسل سو فیصد نتائج حاصل کرنے پر اس کی ستائش کرتے ہوئے دیگر تعلیمی اداروں کو اس ماڈل کی پیروی کرنے کی تلقین کی۔

اساتذہ اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو ضلعی سطح پر اعزاز دینے کی بھی ہدایت دی گئی۔بنگارپیٹ اور کے جی ایف علاقوں میں اقلیتی طلبہ کے زیر تعمیر ہاسٹلوں کی سست رفتار پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ کو ہدایت دی گئی کہ مانسون سے قبل تمام کام مکمل کر کے داخلہ عمل شروع کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے غیر مجاز تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ والدین سے زائد فیس یا چندہ وصول کرنے والے اسکولوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ غریب طلبہ کے لیے تعلیم بوجھ نہیں بننی چاہیے۔انہوں نے سادہ شادی اور طلبہ کے وظائف سے متعلق دیہی سطح پر بیداری پیدا کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مستحق افراد کو دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے آن لائن سہولیات فراہم کی جائیں۔اجلاس میں وقف املاک پر ناجائز قبضوں کے خاتمے اور مولانا آزاد اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا۔ ضلع میں ہنرمندی کے پروگراموں میں تاخیر پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے جدید تکنیکی کورسز جیسے مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر اور موبائل مرمت کی تربیت شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔مزید برآں، محکمہ ریشم اور زراعت کی اسکیموں میں اقلیتی کسانوں کی شمولیت بڑھانے، جیو کھاد اور نینو یوریا کے استعمال سے متعلق بیداری پیدا کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ضلع میں تازہ مچھلی کی فروخت کو فروغ دینے کے لیے ہر تعلقہ میں مچھلی فروخت مراکز قائم کرنے اور کلاک ٹاور کے قریب واقع قدیم وقف عمارت کی مرمت کر کے وہاں معلوماتی مرکز اور وقف دفتر قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران اور کمیٹی کے ارکان شریک تھے۔
Post a Comment