Karnataka Muslim Bodies Question Congress Over Representation and Inclusion کانگریس کے رویّے پر مسلم تنظیموں کا احتجاج، نمائندگی کا مسئلہ نمایاں

کرناٹک میں مسلم تنظیموں کی مشترکہ صدائے احتجاج، کانگریس کے طرزِ عمل پر سنجیدہ سوالات

سیاسی نمائندگی، وقار اور شمولیت کے فقدان پر فوری نظرِ ثانی کا مطالبہ

بنگلورو، 17 اپریل (حقیقت ٹائمز) 

کرناٹک کے مختلف علاقوں کی سرکردہ مسلم تنظیموں، اداروں اور اتحادوں کے نمائندوں نے ایک مشترکہ پریس بیان جاری کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے طرزِ عمل پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے اور اسے مسلم برادری کے وقار کے خلاف قرار دیا ہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں کانگریس کو اقتدار تک پہنچانے میں مسلم برادری کی متحدہ حمایت کلیدی حیثیت رکھتی ہے، لیکن اس کے باوجود پارٹی اور حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ منصفانہ اور باوقار رویہ اختیار نہیں کیا جا رہا۔ تنظیموں کے مطابق حالیہ سیاسی فیصلوں سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کو نہ تو سیاسی تقرریوں میں مناسب نمائندگی دی جا رہی ہے اور نہ ہی انتظامی عہدوں میں ان کا حق تسلیم کیا جا رہا ہے۔داؤنگیرے ضمنی انتخاب اور دیگر حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ کانگریس کا طرزِ عمل یہ پیغام دے رہا ہے کہ مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عہدے اور مواقع کو احسان کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر مسلم رہنما اپنے حقوق یا ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاتی ہے، جو کہ ناقابل قبول ہے۔تنظیموں نے سوال اٹھایا کہ کیا پارٹی کے نظم و ضبط کے اصول صرف ایک مخصوص برادری کے لیے ہیں؟ اگر نہیں تو دیگر مواقع پر اسی نوعیت کے معاملات میں کیا کارروائیاں کی گئی ہیں، اس کی وضاحت کی جائے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ معاملہ چند افراد تک محدود نہیں بلکہ پوری مسلم برادری کے وقار اور عزت کا مسئلہ ہے۔ برادری کے مذہبی اور سماجی قائدین کو اعتماد میں لیے بغیر یکطرفہ فیصلے کرنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔تنظیموں نے الزام لگایا کہ بعض مواقع پر مسلمانوں کو انتخابی ٹکٹ سے محروم رکھا جاتا ہے، پھر ان سے پارٹی کے حق میں مہم چلانے کو کہا جاتا ہے، اور بعد میں معمولی وجوہات کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی کے اندر مسلم قیادت کو آپس میں تقسیم کرنے کی کوششوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کچھ مسلم رہنما ذاتی مفادات کی خاطر برادری کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف مؤثر آواز نہیں اٹھا رہے، جو کہ قابل مذمت ہے۔تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا تو اس کے سنگین سیاسی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کانگریس فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور مسلم برادری کے ساتھ مساوی اور منصفانہ رویہ اختیار کرے۔ مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ ایسے یکطرفہ فیصلوں سے گریز کیا جائے اور موجودہ فیصلوں پر دوبارہ غور کیا جائے۔بیان جاری کرنے والے نمایاں دستخط کنندگان میں شامل ہیں ،مولانا سید تنویر ہاشمی (صدر، مسلم متحدہ محاذ، وجے پور)،عبدالقادر صاحب (صدر، شاہین گروپ آف ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز، بیدر)،مولانا شبیر احمد ندوی (صدر، ویلفیئر آف ہیومینیٹی فاؤنڈیشن، بنگلورو)،کے ایس محمد مسعود (صدر، مسلم سنٹرل کمیٹی، جنوبی کینرا و اُڈپی؛ سابق صدر ریاستی اقلیتی کمیشن)،حاجی محمد حنیف (جنرل سکریٹری، مسلم سنٹرل کمیٹی)،محمد مولا (صدر، اُڈپی ضلع مسلم اتحاد)،یاسین ملپے (سابق صدر، اُڈپی ضلع مسلم اتحاد)،مولانا عبدالرقیب ندوی (جنرل سکریٹری، مجلس اصلاح و تنظیم، بھٹکل)،اشرف علی بشیر (کنوینر، مسلم وائس آف کرناٹک، ہبلی)،ڈاکٹر عبد الکریم (سابق صدر، کرناٹک اقلیتی کمیشن)،کے اشرف (صدر، جنوبی کینرا ضلع مسلم اتحاد)،محمد رفیق (صدر، کرناٹک مسلم جماعت، اُڈپی)،رفیع الدین کدرولی (صدر، یونیوِف، منگلورو)،قاسم شعیب الرحمن قریشی (صدر، جمعیت القریشی، کرناٹک)،افضل محمود (سکریٹری، کرناٹک مسلم پولیٹیکل فورم، گلبرگہ)،جبار کلبرگی (صدر، کرناٹک مسلم یونٹی، باگلکوٹ)،نثار احمد (ریاستی رابطہ کار، اَددے لو کرناٹک، منگلورو)،نقوی یحییٰ ملپے (صدر، نمّا ناڈو اتحاد، اُڈپی)،افسر (صدر، کرناٹک سَوہارد اتحاد، منڈیا)،ایڈوکیٹ عبدالجبار گولا (نائب صدر، جوائنٹ ایکشن کمیٹی، گلبرگہ)،ایڈوکیٹ انشاد پالیہ (رکن، آل انڈیا وکلاء اتحاد، کرناٹک)،حاجی سلیمان صاحب (صدر، تیرتھ ہلی تعلقہ مسلم اتحاد)،مجاہد پاشا (الخریش ٹرسٹ، بسواکلیان) سمیت دیگر قائدین شامل ہیں۔

0/Post a Comment/Comments