Karnataka Clerics Question Congress Action Against Muslim Leaders مسلم رہنماؤں کے خلاف کارروائی پر علماء کا سخت اعتراض، وضاحت طلب

کرناٹک میں مسلم قیادت کے خلاف کارروائی پر سخت ردعمل

یکطرفہ فیصلوں سے برادری میں بے چینی، شفافیت کا مطالبہ ۔علماء کا الزام

بنگلورو، 16 اپریل (حقیقت ٹائمز) 

ریاست کرناٹک میں مسلم رہنماؤں کے خلاف کانگریس کی جانب سے کی جانے والی مبینہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی صدر مفتی افتخار احمد قاسمی نے کہا ہے کہ ایک خاندان کی خاطر پوری برادری کو ناراض کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں ہے۔انہوں نے جمعرات کے روز بنگلورو پریس کلب میں علماء کرناٹک کی جانب سے منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ داونگیرے جنوبی اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کے دوران پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزامات کی بنیاد پر مسلم رہنماؤں کے خلاف قواعد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تادیبی اقدام سے قبل شوکاز نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کرنا ضروری تھا، جو نہیں کیا گیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ عبدالجبار پر دباؤ ڈال کر ان سے کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے اقلیتی شعبہ کے ریاستی صدر کے عہدے سے استعفیٰ لیا گیا، اور بعد ازاں انہیں پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے بھی معطل کر دیا گیا۔ اسی طرح نصیر احمد کو باگلکوٹ ضمنی انتخاب کی ذمہ داری دی گئی تھی، لیکن بعد میں انہیں وزیرِ اعلیٰ کے سیاسی مشیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، جس کی وجوہات واضح نہیں ہیں۔مفتی افتخار احمد قاسمی نے سوال اٹھایا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں شیموگہ میں بی جے پی امیدوار کے حق میں مہم چلانے کے باوجود شامنور شیو شنکرپا کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ اگر وہ پارٹی مخالف سرگرمی نہیں تھی تو پھر دیگر رہنماؤں کے خلاف کارروائی کیوں؟۔انہوں نے مزید کہا کہ داونگیرے جنوبی حلقہ کے لیے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، مگر نظرانداز کیا گیا۔ حالیہ ضمنی انتخاب میں بھی علماء اور پارٹی رہنماؤں نے مسلم امیدوار کے لیے درخواست کی، لیکن ٹکٹ نہیں دیا گیا، جبکہ دیگر مقامات پر خاندانی بنیادوں پر ٹکٹ دیے گئے۔پریس کانفرنس میں موجود دیگر علماء نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا۔ مولانا قاری ذوالفقار احمد نوری نے کہا کہ پارٹی قیادت کی جانب سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، مگر وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلمانوں میں بڑھتی ناراضگی کانگریس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔اسی دوران مولانا زین العابدین نے کہا کہ اگر کانگریس نے اقلیتوں کے ساتھ اپنے رویے میں بہتری نہ لائی تو دیگر ریاستوں کی طرح کرناٹک میں بھی اس کے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں۔اس پریس کانفرنس میں مولانا سید شبیر احمد ندوی، مولانا سید عاصم عبداللہ سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔

0/Post a Comment/Comments