Karnataka Braces for Weak Monsoon, Govt Orders Pre-emptive Water Measures کم بارش کا خدشہ، پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت: سدارامیا

کرناٹک میں کمزور مون سون کا خدشہ — حکومت الرٹ

پینے کے پانی کی قلت سے بچاؤ کے لیے پیشگی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت

بنگلورو، 16 اپریل (حقیقت ٹائمز)

 وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے خبردار کیا ہے کہ ریاست کے پانچ اضلاع کے علاوہ بیشتر علاقوں میں اس سال مون سون کی کمی کا امکان ہے، لہٰذا پینے کے پانی کی قلت سے بچنے کے لیے فوری اور مؤثر پیشگی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے ودھان سودھا میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ضلع انچارج وزراء، ڈپٹی کمشنرز اور ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو افسران کو ہدایت دی کہ عوام کو کسی بھی صورت میں پینے کے پانی کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال اوسط سے کم بارش متوقع ہے، اگرچہ اگست میں معمول کے مطابق بارش ہو سکتی ہے، لیکن ستمبر میں بارش کم رہنے کا امکان ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے سختی سے کہا کہ اگر کسی ضلع میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوئی تو اس کی ذمہ داری متعلقہ ڈپٹی کمشنر پر عائد ہوگی۔ انہوں نے محصولات، پنچایت راج اور شہری ترقیاتی محکموں کو باہمی تال میل کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے واضح کیا کہ پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے اور اس مقصد کے لیے 419.50 کروڑ روپے پہلے ہی ڈپٹی کمشنرز کے پی ڈی اکاؤنٹس میں دستیاب ہیں۔اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق ریاست کے 213 تعلقہ اور 2410 گرام پنچایتوں میں پانی کی قلت کا خدشہ ہے، جن میں سے اس وقت 114 تعلقہ کی 598 گرام پنچایتوں میں مسئلہ درپیش ہے۔ 137 دیہات کو ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ 585 نجی بورویلز کرایہ پر لے کر 515 دیہات کو پانی سپلائی کیا جا رہا ہے۔شہری علاقوں میں بھی 27 بلدیاتی اداروں میں پانی کی قلت موجود ہے، جبکہ 95 اداروں میں مستقبل میں قلت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ 145 وارڈز میں 57 ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی جاری ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت دی کہ ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی صرف ہنگامی حالات میں کی جائے اور ترجیحی بنیادوں پر نجی بورویلز کو استعمال میں لایا جائے۔ ضرورت پڑنے پر نئے بورویلز بھی کھودے جا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کے 14 بڑے آبی ذخائر میں اس وقت 321.93 ٹی ایم سی پانی موجود ہے، جو کل گنجائش کا تقریباً 36 فیصد ہے، اور جولائی کے وسط تک پینے کے پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے آبپاشی کے مقابلے میں پینے کے پانی کو ترجیح دینے، ذخائر میں پانی کے ضیاع کو روکنے اور فوری مرمت کے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت دی۔وزیرِ اعلیٰ نے عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے تعلقہ اور وارڈ سطح پر کنٹرول روم قائم کرنے اور ضلعی سطح پر ٹاسک فورس کو فعال رکھنے پر زور دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ آلودہ پانی کی فراہمی سے صحت کے مسائل پیدا نہ ہوں، اس کے لیے سخت نگرانی کی جائے۔کھاد کی فراہمی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، لہٰذا ذخیرہ اندوزی کو روکنے، یوریا اور ڈی اے پی کی مناسب تقسیم کو یقینی بنانے اور دوسرے ریاستوں کو غیر ضروری ترسیل پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ہر تعلقہ میں پینے کے پانی سے متعلق ٹاسک فورس اجلاس منعقد کر کے رپورٹ پیش کی جائے اور پانی کے منصوبوں کے لیے بجلی کی فراہمی کو ترجیح دی جائے تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔

0/Post a Comment/Comments