کرناٹک میں کانگریس پر سماجی ناانصافی کا الزام
جے ڈی ایس کا دعویٰ: دلت و اقلیتی قیادت کے ساتھ امتیازی سلوک
بنگلورو، 16 اپریل (حقیقت ٹائمز)
ریاست کرناٹک میں کانگریس پارٹی کے اندرونی معاملات پر تنقید کرتے ہوئے جنتا دل (سیکولر) نے پارٹی قیادت پر سماجی ناانصافی کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری ایک بیان (سوشل میڈیا پوسٹ) میں کہا گیا ہے کہ کانگریس میں دلت اور اقلیتی رہنماؤں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔جے ڈی ایس نے اپنے بیان میں کہا کہ ماضی میں درج فہرست طبقہ سے تعلق رکھنے والے رہنما کے این راجنا کو اچانک وزارت سے ہٹا دیا گیا، جبکہ حال ہی میں اقلیتی برادری کے رہنما عبدالجبار کو پارٹی سے معطل کر دیا گیا ہے۔بیان میں الزام لگایا گیا کہ کانگریس کے اندر قیادت کے معاملے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور عہدے کی سیاست کے تحت بعض رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جے ڈی ایس نے خصوصاً کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مخالف دھڑے کے لیڈروں کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت کارروائیاں کر رہے ہیں۔پارٹی نے مزید کہا کہ اگر اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد سے غلطی ہو تو انہیں محض معافی مانگنے کا موقع دیا جاتا ہے، لیکن دلت اور اقلیتی رہنماؤں کے خلاف سخت کارروائی جیسے برطرفی اور اخراج عمل میں لایا جاتا ہے، جو دوہرا معیار ظاہر کرتا ہے۔جے ڈی ایس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ طاقت اور وسائل کے بل بوتے پر نچلی سطح کے کارکنان، خصوصاً دلت اور پسماندہ طبقات کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے ان کے سیاسی مستقبل پر اثر پڑ رہا ہے۔دوسری جانب کانگریس پارٹی کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان ریاست کی بدلتی سیاسی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
Post a Comment