یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں
از : محمداعظم شاہد
جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے گردن ہماری ہی کٹی
پھر بھی کہتے ہیں ہم سے یہ اہلِ چمن
یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں
اکثر یہ شعر فراموش اور نظرانداز کرنے کے اس غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ سنگدلی کے فعل کی ترجمانی کے طورپر استعمال کیا جاتا رہا ہے - مطلب یہ کہ آپ کو حسب موقع اور ضرورت استعمال کرلیا جاتا ہے اور استعمال کرنے والے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے اس کی تعریف وتوصیف میں لگے رہتے ہیں - کسی کام کو سرانجام دینے والے نے جس بے لوث جذبے کے تحت اپنی خدمات انجام دی ہیں اس کی دہائی دی جاتی ہے -اس کے گن گائے جاتے ہیں - اس کی خدمات کا اعتراف بھی کیا جاتا ہے - اورکبھی ان خدمات کے عوض کسی منصب یا عہدے سے نوازے جانے کی گھڑی آتی ہے - وہ بھی آتے آتے اتنی دیر ہوجاتی ہے کہ کیا کہیں- اکثر ایسا سب کچھ عملی سیاست میں ہوتا رہا ہے - اور اگر کوئی منصب یا عہدہ مل بھی جاتا ہے تو ارباب اقتدار اس خدمت گزار پر ہر وقت نظریں جمائے رہتے ہیں -وہ چاہتے ہیں کہ دیرینہ قربانیوں اور خدمات کے بعد جو عہدہ یا پوزیشن دی گئی ہے اس کو وہ غنیمت جانیں -اپنی حد میں رہیں - اپنی کمیونٹی کیلئے کوئی سوال نہ کریں -آواز نہ اٹھائیں - کچھ نہ بولیں - خاموش رہیں - اپنے عہدوں کے ساتھ سیاسی آقاؤں سے سمجھوتہ کرنے والے کثرت میں مل جاتے ہیں - مصلحت کو گوشۂ عافیت تصور کرنے والے بہت سے نام نہاد قائدین مل جاتے ہیں - مگر جو اپنی نمائندگی کا حق ادا کرنے اور اپنی کمیونٹی کیلئے آواز اٹھانے اور مطالبہ کرنے والوں کو معیوب سمجھاجاتا رہا ہے - جمہوری نظام میں اقدار کو مقدار پر قربان کرنے کی روایت چلی آرہی ہے - مسلم سیاسی لیڈر شپ کو بہت کم ہی سیاسی پارٹیاں گوارا کرتی آئی ہیں - مسلمانوں کیلئے ان کے حقوق کے تحفظ اوران کے مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھانے والوں کو سیاسی پارٹیوں کی جانب سے نظر اندازکیا جانا کوئی نئی بات نہیں رہ گئی ہے - سیاست میں کسی خاص طبقہ کو یا کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مفادات کیلئے بالخصوص اقتدار کے حصول کیلئے استعمال کرنا دراصل سیاسی موقع پرستی کی علامتیں ہیں - مگر کوئی عہدہ دینا یا کسی مذہب سے سرفراز کرنا سیاسی پارٹیاں اس قدر جتاتی رہتی ہیں کہ گویا انہوں (سیاسی پارٹیاں) نے بڑا احسان کردیا ہے - ایسا مسلم سیاستدانوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے - اب جو حالات سامنے ہیں کہ مسلم لیڈر شپ کے قومی اور علاقائی سطح پر اس پس منظر میں مذکورہ بالا شعر پوری طرح حالات کی ترجمانی کرنے والا محسوس ہوتا ہے -
ملک کی تاریخ رفتہ پر ایک نظر ڈالیں تو یہی محسوس ہوگا کہ تحریک آزادی میں دیگر برادران وخواہران وطن کے ساتھ مسلمانوں نے جو قربانیاں دیں اور جو خدمات انجام دیں - یہ پہلو دانستہ طورپر فراموش کیا جاتا رہا - حصول آزادی کے بعد مسلمان اور اردو کے ساتھ جو رویہ آزاد ہندوستان میں رہا ہے -اس موقع پر زیادہ سنانے کی ضرورت نہیں ہے - خود مجاہد آزادی اورملک کے پہلے وزیرتعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے ساتھ بھی جو رویہ روا رکھا گیا اس کا اظہار مولانا نے کیا تھاکہ وہ وطن میں غیرمحسوس کرنے لگے تھے -تب سے لے کر آج تک ملک ان گنت ایسی مثالیں ہمارے روبرو ہیں کہ ملک میں مسلمانوں اورمسلم قیادت کو کئی صبر آزما آزمائشوں سے گذرنا پڑا ہے اوریہ سلسلہ اب بھی جاری ہے - یہ بات اور یہ حقیقت سب پر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حکومت کے فیصلوں اور قانون سازی میں کسی بھی طبقہ کے نمائندگی اکثر موثر ہے تو ظاہر ہے کہ اس طبقہ کے مفادات کے تحفظ کے امکانات مثبت طور پر روشن ہیں - مگر اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ مسلم قیادت میں وزارتیں اور اہم عہدے ایسے نمائندوں کو دئے جاتے ہیں جو تجربہ اور بصیرت سے خالی ہوتے ہیں - یعنی محض خانہ پری کیلئے رسمی طورپر خاموش رہنے والے نمائندوں کو عہدے دئے جاتے ہیں - مان لیجئے ان میں سے کبھی کبھی تجربات، مشاہدات اور بصیرت کے حامل چند قائدین کو چن لیا جاتا ہے اور انہیں سرکاری یا سیاسی پارٹی کے عہدوں سے نوازا جاتا ہے - ویسے قائدین کو خاموش کرنے کی تاک میں رہنے والی سیاسی پارٹیاں انہیں عہدوں سے سبکدوش کروانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے -
یہ بھی ایک المیہ ہی ہے کہ مسلم قیادت میں اندرونی اختلافات اور اقتدار کے لالچ نے مسلم قیادت کا بیڑہ اکثر غرق کیا ہے اور سیاسی پارٹیاں بالخصوص وہ جو خود کو مسلمانوں کی ہمدرد اور ہم نوا کہلواتی ہیں اوربار بار ایسا کہتی ہیں کہ مسلمانوں کی حمایت کے باعث ہیں وہ الیکشن میں کامیاب ہوتے رہے ہیں -ایسی سیاسی پارٹیاں (جماعتیں) مسلم قیادت کے اندرونی اختلافات اور خلفشار کا فائدہ اٹھاتی آئی ہیں - ہونا تو یہی چاہئے کہ دیگر طبقات کے سیاسی قائدین جس طرح باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنی سیاسی حیثیت کو بھی منواتے آئے ہیں - ویسے ہی مسلم لیڈر شپ میں بھی فکری وعملی اتحاد ناگزیر ہے - ایسا باہمی اتحاد مسلم قیادت کی بقاء کیلئے وقت کی اہم ضرورت ہے- اگر کسی ایک مسلم نمائندے یا لیڈر کو نظر انداز کیا جارہا ہے -یا پھر عہدے سے برطرف کیا جارہا ہے -یا اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ہے یا کوئی مقصد کارفرما ہے تو ضروری ہوجاتا ہے کہ متحد ہوکر مسلم نمائندے اپنی سیاسی حکمت عملی اپنائیں اوراپنے طبقہ کی نمائندگی کی سلامتی کیلئے کام کریں - جب ایسا نہیں ہوپاتا تو واضح ہے کہ مسلم قیادت بے وقعت اور کمزور ہوتی چلی جاتی ہے -اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمان سیاسی طورپر بے آواز اور کمزور ہوکر رہ جاتے ہیں - ایسے واقعات قومی سطح پر بھی دیکھے گئے ہیں - اور ریاستوں میں بھی ایسا کچھ ہوتا رہا ہے - جب بھی کسی مسلم سیاسی نمائندے (لیڈر) کے ساتھ نظر انداز کئے جانے اورکوئی سرکاری عہدے سے برطرف کرنے یا سیاسی پارٹی کے عہدے سے مستعفی ہونے کے حالات پیدا ہوتے ہیں -تب یہی دیکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے کوئی خاص مطالبہ یا ناراضگی کا اجتماعی اظہار ہونہیں پاتا ہے -ہاں کسی خاص مسلم نمائندے کی حمایت میں اس کے گاؤں یا ضلع کے چند حامی جمع ہوجائیں کسی مقام پر یہ تو ٹھیک ہے - مگر ریاست گیر پیمانے پر جو خاموشی عام طورپر دیکھی جاتی ہے - اس سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ جو کچھ بھی ہوجائے ، ہوتا رہے - سب کو اپنی اپنی پڑی ہے -سب کی الگ الگ مصروفیات ہیں-ایسے ماحول میں ہماری سیاسی ساکھ کہاں باقی رہے گی- جب کوئی ہمارا نمائندہ سرکاری عہدہ پر فائز ہے تب ہمارے مسائل کی یکسوئی کیلئے ہمارے ہی لوگ قطاروں میں جمع ہوجاتے ہیں - اور جب ہماری اپنی حمایت کی گھڑی آن پڑتی ہے ہم پیچھے رہ جاتے ہیں -یہ احساس بے نیازی ہماری سیاسی پسماندگی کی بھی ذمہ دار ہے -
Post a Comment