ملّی کونسل کا تعزیتی اجتماع، مولانا عبداللہ مغیثی کی ہمہ جہت خدمات پر روشنی
علمی بصیرت، ملی قیادت اور فکری وراثت کو قائدین کا بھرپور خراج
نئی دہلی 17 اپریل (حقیقت ٹائمز)
مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی بہت باوقار اور عظیم شخصیت کے مالک تھے. اللہ تعالیٰ نے انھیں لمبی عمر عطا فرمائی اور انھوں نے وہ پوری عمر ملک و ملت کی تعمیر میں خدمات پیش کرتے ہوئے گزار دی. اُن کی رحلت پر آل انڈیا ملّی کونسل سے وابستہ تمام لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ کو کھو دیا ہے. ان خیالات کا اظہار ملک کے معروف عالم دین اور آل انڈیا ملّی کونسل کے کارگزار صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کیا. وہ کونسل کے مرکزی دفتر کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے عظیم الشان تعزیتی اجلاس میں خطبۂ صدارت پیش فرما رہے تھے. انھوں نے مزید کہا کہ "مولانا عبداللہ مغیثی جیسی گہری شخصیات بار بار پیدا نہیں ہوتیں. اُن کی شخصیت ہمارے لیے ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی تھی. ہم کونسل کی میٹنگوں میں ان کی گہری بصیرت اور دور اندیشی سے خوب استفادہ کرتے تھے. افسوس کہ ہم اُن کے سائے سے محروم ہوگئے ہیں."تعزیتی اجلاس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر و نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا پیغام سنایا گیا، جس میں انھوں نے فرمایا: "میری بڑی خواہش تھی کہ میں اس اجلاس میں شریک ہوتا، تنظیمی تعلق کے علاوہ میرا مولانا سے شخصی تعلق بھی رہا ہے اور مجھ کو ہمیشہ ان کی شفقت حاصل رہی ہے؛ لیکن افسوس کہ آج ہی میرا ایک سفر ہے. مناسب ہوگا کہ ملی کونسل مولانا مرحوم کی شخصیت پر کونسل کے ترجمان کا خصوصی شمارہ شائع کرے؛ کیوں کہ جو چیز تحریر میں آجاتی ہے وہ باقی اور محفوظ رہتی ہے اور تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے، کونسل کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے کہ اس کے دونوں اہم بنیادی ذمہ داران بہت کم فاصلہ سے اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، اب متبادل انتظام پر گہرائی کے ساتھ غور کرنا چاہیے."ملک کے مشہور عالم و بزرگ مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ "جب ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب نے سورج کنڈ میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا تھا، میں اُس میں بھی شریک تھا. میں کونسل کو ملت کی ایک مفید اور ضروری تحریک سمجھتا ہوں. قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور مولانا عبداللہ مغیثی کے درمیان کافی مزاجی ہم آہنگی تھی. قاضی صاحب مولانا مغیثی پر بہت اعتماد فرماتے تھے. آپس میں بے تکلفی بھی تھی. اسی لیے آگے چل کر مولانا عبداللہ مغیثی کو کونسل کی صدارت تفویض کی گئی، جسے انھوں نے بہت خوبی کے ساتھ نبھایا. اب ڈاکٹر محمد منظور عالم اور مولانا محمد عبداللہ مغیثی کی پے در پے وفات کے بعد کونسل کو ایک متحرک، بیدار مغز اور سرگرم قیادت کی ضرورت ہے. امید ہے کہ کونسل اس مرحلے کو دانش مندی کے ساتھ طے کرے گی کیوں کہ امت کو ملّی کونسل کی جتنی ضرورت پہلے تھی اس سے کہیں زیادہ ضرورت آج ہے."آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے اپنے خطاب میں مولانا عبداللہ مغیثی کی زندگی کا تفصیلی خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کی یہ بڑی خوش نصیبی رہی کہ انھیں امت کے اکابر سے استفادے کے مواقع میسر آئے. مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی کے وہ مجاز تھے. ملت کے لیے ان کی کوششیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی. اُن کی وفات سے ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے."مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اپنے مختصر خطاب میں مولانا عبداللہ مغیثی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کی.سکریٹری ملّی و ملکی امور جماعت اسلامی ہند جناب محمد احمد نے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے آل انڈیا ملّی کونسل اور مولانا عبداللہ مغیثی کے اہل خانہ و وابستگان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ "مولانا عبد اللہ مغیثی کی شخصیت بہت سے اوصاف کی حامل تھی. مجھے بھی اُن کی شفقتیں حاصل کرنے کا موقع ملا. میں اُن کے تین اوصاف سے بہت متأثر ہوا ہوں. زہد، یکسوئی اور اخلاق. ان تینوں اوصاف نے اُن کی شخصیت کو بہت مؤثر بنا دیا تھا."انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے چیئرمین پروفیسر محمد افضل وانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "مولانا عبداللہ مغیثی جیسے اہم قائد کا جانا بہت افسوس ناک ہے، لیکن ہمیں اطمینان ہے کہ وہ اپنے پیچھے آل انڈیا ملّی کونسل جیسی بہت مضبوط تنظیم چھوڑ کر گئے ہیں. ایک ایسی تنظیم جو حکمت و فراست کے اصول پر قائم کی گئی تھی اور آج بھی اسی کے مطابق کام کر رہی ہے. اس تنظیم کے دونوں بنیادی سربراہان مولانا عبداللہ مغیثی اور ڈاکٹر محمد منظور عالم کی وفات پر ہم سب کو از سرِ نو عزم کرنے کی ضرورت ہے."مشہور عالم و مصنف مولانا عبدالحمید نعمانی نے مولانا عبداللہ مغیثی سے اپنے دیرینہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے اوپر اُن کی شفقتوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ "دیکھنے کی چیز یہ ہوتی ہے کہ انسان نے اپنی زندگی میں جو اعمال کیے وہ کس نوعیت کے تھے؟ یہی اعمال انسان کی اصل شخصیت کا تعین کرتے ہیں. مولانا عبداللہ مغیثی اپنے پیچھے ایسے متعدد صدقاتِ جاریہ اور اعمال صالحہ چھوڑ کر گئے ہیں جو ان شاء اللہ اُن کو بھی فائدہ پہنچاتے رہیں گے اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی بھی کرتے رہیں گے."آل انڈیا ملّی کونسل آسام کے صدر ایڈوکیٹ حافظ رشید احمد چودھری نے مولانا عبداللہ مغیثی کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ "آسام کے مسلمانوں کی جتنی فکرمندی صدر کونسل میں نظر آتی تھی اتنی دوسرے افراد میں کم ہی نظر آئی. ہم سب کو ان کی تعلیمات اور ہدایات پر مضبوطی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے."تلنگانہ ملّی کونسل کے جنرل سکریٹری مفتی عمر عابدین قاسمی نے کہا کہ "مولانا عبداللہ مغیثی اور قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ہم سبق تھے. اس لیے ان کے درمیان بڑا تعلق خاطر تھا. قاضی صاحب کی نماز جنازہ بھی انھوں نے ہی پڑھائی اور ان کے بعد کونسل کو سنبھالنے کا فریضہ بھی ادا کیا. ملّی کونسل کی تحریک کے سربراہ کی حیثیت سے وہ ہمارا فخر بھی تھے، ہمارا وقار بھی تھے اور ہمارے میرِ کارواں بھی تھے. ان کی زندگی کو مبسوط انداز میں سامنے لاکر ان کے مشن کو آگے بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے."لیگل ایڈ ملّی کونسل کی سربراہ ایڈوکیٹ افسر جہاں نے کہا کہ "مولانا عبداللہ مغیثی کی آواز میں بھی بہت زور تھا اور ان کی ہدایات بھی بہت وقیع ہوا کرتی تھیں. ہم نے کونسل کے سربراہ کو کھو دیا ہے لیکن ان کی تعلیمات ہمارے ساتھ ہمیشہ باقی رہیں گی."انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے سکریٹری جنرل جناب محمد عالم نے مولانا عبداللہ مغیثی سے وابستہ اپنی یادوں کا تذکرتے ہوئے کہا کہ "وہ چھوٹوں کو آگے بڑھانے اور ان کی تربیت کرنے کی بہت فکر کرتے تھے. میرے والد صاحب کی وفات کے بعد انھوں نے مجھے باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دینے کی بات کہی تھی، لیکن افسوس کہ وہ خود بھی بہت جلد دنیا سے رخصت ہو گئے."ملّی کونسل دہلی کے صدر حاجی پرویز میاں نے کہا کہ "میرے لیے بہت فخر کی بات ہے کہ مجھے مولانا جیسی عظیم ہستی کی محبتیں حاصل رہیں. وہ ایک عظیم رہنما اور بہت بڑے بزرگ تھے. ان شاء اللہ ہم لوگ ان کے بعد بھی ان کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے."اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے رفیق علمی مفتی احمد نادر قاسمی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم لوگ جب بھی مولانا عبداللہ مغیثی سے ملتے تھے وہ ہمیشہ بہت محبت و شفقت کے ساتھ نصیحتیں کیا کرتے تھے. ان کے لیے ہمارا سب سے بڑا خراج عقیدت یہ ہوگا کہ ہم لوگ آل انڈیا ملّی کونسل کو اسی طرح مضبوط و فعال رکھیں جس طرح قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، ڈاکٹر محمد منظور عالم اور مولانا عبداللہ مغیثی کی زندگی میں تھی."ملت ٹائمز کے سربراہ جناب شمس تبریز قاسمی نے کہا کہ "مولانا عبداللہ مغیثی جیسی عظیم شخصیت کی وفات ایک بہت بڑا سانحہ ہے. مجھے بھی کونسل کے جلسوں میں انھیں سننے اور ان سے گفتگو کرنے کا موقع ملتا رہا ہے. میں نے انھیں ہمیشہ ایک دوراندیش رہنما اور عظیم عالم دین کے اوصاف کا حامل پایا."مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی کے صاحب زادے اور جامعہ رحمت، گھگھرولی، سہارنپور کے ناظم مولانا عبدالخالق مغیثی نے اس بڑے تعزیتی اجلاس کے انعقاد پر منتظمین و سامعین کا شکریہ ادا کیا اور اپنے والدِ ماجد کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست کی. جب کہ مولانا کے جانشین اور جامعہ گلزار حسینیہ، اجراڑہ، میرٹھ کے مہتمم مولانا عبدالمالک مغیثی نے اپنے والد ماجد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ "انھوں نے جیسی جفا کشی کی زندگی گزاری ایک چھ دہائیوں سے زیادہ مدت تک اجراڑہ جیسے علاقے میں بیٹھ کر بے تاج کی سلطانی کی وہ انھی کا حصہ تھا. ان کی زندگی میں توکل علی اللہ اور غایت درجہ احتیاط کا پہلو انتہائی اہم ہے. انھوں نے اپنے مرشد مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی کی اتباع کرتے ہوئے دو جلدوں میں اپنی زندگی کے حالات قلم بند کرائے تھے جو کاروانِ مغیثی کے نام سے شائع ہوچکے ہیں اور ہمارے لیے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتے ہیں."
پروگرام کے آغاز میں کونسل کے معاون جنرل سکریٹری الحاج شیخ نظام الدین نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ "مولانا عبداللہ مغیثی کے ساتھ ایک مدت تک کام کرکے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا. جب ہم ان کے پاس اپنے مسائل لے کر جاتے تھے تو وہاں سے بہت پرعزم ہوکر لوٹتے تھے. افسوس کہ آل انڈیا ملّی کونسل اپنے دونوں مرکزی قائدین سے محروم ہوگئی ہے. لیکن ان شاء اللہ ہم لوگ اس نازک مرحلے کو عافیت کے ساتھ پار کرلیں گے."کونسل کے معاون جنرل سکریٹری جناب سلیمان خان موتی نگری نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ "حضرت صدر کونسل کی رحلت نے ہمیں نڈھال کردیا ہے. وہ کونسل کے آغاز سے کونسل سے وابستہ رہے. مختلف ذمہ داریاں سنبھالتے رہے. قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے دست راست رہے اور آخر میں ایک طویل مدت تک کونسل کی صدارت کا فریضہ انجام دیتے رہے. اس وقت ہم لوگوں کو دعا کی سخت ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کونسل کو ایک بار پھر مضبوط قیادت عطا فرمائے."آخر میں کلمات تشکر اور اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کونسل کی خازن پروفیسر حسینہ حاشیہ نے کہا کہ "مولانا عبداللہ مغیثی صاحب کونسل کے صدر بھی تھے اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز سے بھی گہرا تعلق رکھتے تھے. انسٹی ٹیوٹ نے ان کی عظیم خدمات کی بنیاد پر انھیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا تھا. مجھے اجراڑہ جاکر اُن کی تعلیمی و اصلاحی خدمات کو دیکھنے کا بھی موقع ملا. ان کی شخصیت اور خدمات نے مجھے بہت متأثر کیا. میں تمام مقررین، یہاں موجود سامعین اور آن لائن سامعین کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انھوں نے اس یادگار تعزیتی اجلاس کو کامیاب بنانے میں ہمارا تعاون کیا."آل انڈیا ملّی کونسل کے نائب صدر مولانا عبدالعلیم قاسمی بھٹکلی کی پرسوز دعا پر یہ جلسہ اپنے اختتام کو پہنچا. نظامت کے فرائض کونسل کے معاون جنرل سکریٹری شاہ اجمل فاروق ندوی نے انجام دیے. جب کہ خصوصی شرکاء میں الحاج شہود عالم، قاری محمد شفیق قاسمی، مفتی امتیاز احمد قاسمی، مفتی محمد نافع عارفی، مولانا نجیب الرحمن ململی، قاری عبدالحفیظ، ڈاکٹر انظار عالم، مولانا ایوب انصاری ندوی، جناب آصف عمر، محمد اکرم فلاحی، جناب عبدالمجید، جناب ماسٹر عبدالمبین، جناب حسیب احمد، جناب فیروز صدیقی، جناب انجم نعیم، جناب محمد فیاض شریف، جناب محمد مصدق اکیری، جناب محمد مکرم، جناب فیروز بخت احمد، جناب انیس اسلم، جناب محمد سالم، مولوی محمد مشتاق، جناب رئیس الدین، جناب الیاس سیفی، جناب امتیاز احمد، جناب حامد حسین، جناب محمد سہیل، جناب فیروز اختر، جناب عطاء الرحمن، ایڈووکیٹ کمال مسدر شامل تھے۔

Post a Comment