نیا ہجری سال 1448ھ کی آمد پر
میرؔبیدری ، بیدر،کرناٹک
میاں تم کروگے نئے سال میں کیا
ہاں خود سے ملوگے نئے سال میں کیا
نہ مڑکے ہی دیکھا، پرانے سفر میں
مرا ساتھ لوگے نئے سال میں کیا
بلاتا ہے رستہ اَدب کا تمہیں بھی
وہ رستہ چلوگے نئے سال میں کیا
جو گھیرا گیا ہے حسینی قبیلہ
اسے توڑ دوگے نئے سال میں کیا
مدارت بھی اس کی مگر چھوڑ بیٹھے
سلام اب کروگے نئے سال میں کیا
جوگزراگذر ہی گیا سال یارو
کہیں پھر ملو گے نئے سال میںکیا
چلے دین کا کارواں بھی مسلسل
سفر پھر کروگے نئے سال میںکیا
یزیدوں نے تو کام اپنا کیا میرؔ
یہ ماتم کروگے نے سال میں کیا
x
شکریہ
ReplyDeleteیوسف رحیم بیدری، اپنے انوکھے اور انداز سے پہچانے جاتے ہیں۔ جو بھی کہتے ہیں لاجواب اور ڈنکے کی چوٹ کہتے ہیں۔ جس میں سچائی ہوتی ہے۔ اللہ تعالٰی سلامت رکھے آمین
ReplyDeletePost a Comment