Tumakuru Protest Over NEET Leak; Demand for Dharmendra Pradhan’s Resignation نیٹ لیک پر ٹمکورو احتجاج، دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ

نیٹ سوالیہ پرچہ لیک پر ٹمکورو میں شدید احتجاج

دھرمیندر پردھان کے استعفے، شفاف تحقیقات اور طلبہ کو انصاف کا مطالبہ

ٹمکورو 21 جولائی (حقیقت ٹائمز)

نیٹ امتحان کے سوالیہ پرچہ لیک معاملے، مبینہ بدعنوانی اور طلبہ کی خودکشیوں کے خلاف، نیز سماجی کارکن سونم وانگچک کی احتجاجی تحریک کی حمایت میں ٹمکور میں ترقی پسند تنظیموں کے اتحاد کی جانب سے شہر کے سواتنترا چوک میں احتجاجی دھرنا منعقد کیا گیا۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت سے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ترقی پسند مفکر پروفیسر کے۔ دورائراج نے الزام عائد کیا کہ نیٹ سوالیہ پرچہ لیک معاملے نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا ہے اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والی خودکشیوں کی اخلاقی ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے جنتر منتر پر کئی روز سے طلبہ انصاف کے لیے پرامن احتجاج کر رہے ہیں، لیکن ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے سونم وانگچک کو احتجاج کے دوران حراست میں لینے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور ایسے اقدامات جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر استعفیٰ دیں اور معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ماحولیاتی کارکن سی۔ یتی راج نے کہا کہ تعلیمی نظام میں بڑھتی ہوئی تجارتی سوچ اور بدعنوانی طلبہ کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کو سرمایہ کاری کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے ہر طالب علم کا بنیادی حق بنایا جانا چاہیے۔

پروفیسر چندرکانت نے بھی خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت طلبہ مخالف پالیسیوں پر نظرثانی کرے، نیٹ سوالیہ پرچہ لیک معاملے کے متاثرین کو انصاف فراہم کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔احتجاج سے کسان تنظیم کے بی۔ اومیش، ساوتری بائی پھولے خواتین تنظیم کی انوپما، طلبہ تنظیم کی کلیانی، سبّنّا، اے۔ نرسمہا مورتی، تاج الدین شریف، آدم خان، نوین پوجار، خلیل اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔اس احتجاج میں مختلف سماجی تنظیموں کے کارکنوں، وکلاء، اساتذہ، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے نیٹ معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

0/Post a Comment/Comments