CPI(M) Tumakuru Protests SIR Process, Demands Protection of Voter Rights ٹمکورو میں سی پی آئی ایم کا احتجاج، ووٹر فہرست نظرثانی پر تشویش

ایس آئی آر کے نام پر ووٹنگ کے حق سے محروم کرنے کی کوشش بند کی جائے: سی پی ایم

ووٹر فہرست نظرثانی کے عمل پر تشویش، وزیراعلیٰ کے نام یادداشت پیش

ٹمکورو، 12 جون (حقیقت ٹائمز)

 کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکس وادی) [سی پی آئی (ایم)] ضلع ٹمکورو کمیٹی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں لاکھوں غریب، مزدور، خواتین، دلت، آدیواسی اور اقلیتی برادریوں کے افراد اپنے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔اس سلسلے میں سی پی آئی (ایم) کے ایک وفد نے ضلع کمشنر کے توسط سے وزیراعلیٰ کرناٹک کے نام ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔یادداشت میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرست کی خصوصی نظرثانی کے لیے بعض دستاویزات لازمی قرار دی گئی ہیں، جنہیں معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقات کے لیے حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ جن افراد کے پاس مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں ہیں، انہیں پیدائش کا سرٹیفکیٹ، مستقل رہائش کا ثبوت، ذات کا سرٹیفکیٹ اور دیگر ضروری دستاویزات آسان اور فوری طریقے سے فراہم کرنے کے لیے حکومت خصوصی انتظامات کرے۔

سی پی آئی (ایم) نے کہا کہ صرف دستاویزات کی کمی یا نام نہاد "لاجیکل ڈسکریپنسی" (منطقی تضاد) کی بنیاد پر کسی بھی اہل ووٹر کا نام ووٹر فہرست سے خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔ پارٹی کے مطابق ہر شہری کے حقِ رائے دہی کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔یادداشت میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے موجودہ طریقۂ کار سے غریب، مزدور، نقل مکانی کرنے والے کارکن، خواتین، دلت، آدیواسی اور دیگر محروم طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ جن ریاستوں میں اس نوعیت کی نظرثانی پہلے کی گئی، وہاں بڑی تعداد میں ووٹر فہرستوں سے نام خارج ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

سی پی آئی (ایم) نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام دستاویزات کی کمی کی بنیاد پر حذف نہ ہونے دیا جائے۔ضروری سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے ضابطوں کو آسان بنایا جائے۔"لاجیکل ڈسکریپنسی" کی بنیاد پر ووٹروں کو فہرست سے خارج کرنے کے عمل کی مخالفت کی جائے۔ووٹر فہرست کو کمپیوٹر کے ذریعے قابلِ مطالعہ اور شفاف انداز میں عوام کے لیے دستیاب کیا جائے۔ہر گرام پنچایت اور وارڈ کی سطح پر ووٹر سہولت مراکز قائم کرکے عوام کو مطلوبہ رہنمائی اور مدد فراہم کی جائے۔پارٹی نے الزام عائد کیا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے موجودہ طریقۂ کار سے شہریوں کے جمہوری حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے ریاستی حکومت کو فوری طور پر عوامی مفاد میں مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ یادداشت پیش کرنے والے وفد میں سی پی آئی (ایم) کے ضلع سکریٹری این۔ کے۔ سبرامنیا، کرناٹک ریاستی کسان سنگھ کے ضلع جنرل سکریٹری بی۔ امیش، فٹ پاتھ تاجر یونین کے رہنما وسیم، لکشمی کانتھ، مدھوسودن، اُدئے کمار اور گوپال کرشنا سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔

0/Post a Comment/Comments